62

موائی ۔ ایسٹر آئی لینڈ (3)

ایسٹر آئی لینڈ پر پتھروں کے عجوبے دو طرح کے ہیں۔ موائی، جو مجسمے ہیں اور آہو، جو پلیٹ فارم ہیں۔ تین سو کے قریب آہو کی شناخت ہو چکی ہے۔ کئی چھوٹے ہیں اور خالی ہیں۔ 113 ایسے ہیں جن پر مجسمے رکھے گئے تھے اور 25 بڑے سائز کے ہیں۔ جزیرے کے بارہ علاقوں میں سے ہر ایک میں ایک سے پانچ ایسے بڑے آہو ہیں۔ زیادہ تر ساحل کے پاس۔ ان میں مجسموں کو ایسے رکھا جاتا ہے کہ وہ سمندر کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ جزیرے کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔
آہو مستطیل شکل کا ہے جس میں پتھروں کو بھرا جاتا ہے۔ دس ٹن وزنی سلیں بھی ہیں اور تیرہ فٹ کی اونچائی تک کے ہیں۔ پانچ سو فٹ چوڑے بھی ہیں۔ ان کا کل وزن چھوٹے آہو کے لئے 300 ٹن جبکہ سب سے بڑے آہو ٹونگاریکی کے لئے 9,000 ٹن کا ہے۔ سمندر کی طرف والا حصہ عمودی جبکہ جزیزے کی طرف کا ڈھلوان بناتا ہے۔ آہو کے پچھلی طرف جلائے جانے والے ہزاروں مردہ لوگوں کی باقیات ہیں۔ (پولینیشیا کے جزائر میں ایسٹر آئی لینڈ اس حوالے سے منفرد ہے۔ باقی ہر جزیرے پر مردوں کو دفن کیا جاتا تھا)۔
آج آہو ڈارک گرے رنگ کے ہو چکے ہیں لیکن اپنے وقت میں یہ رنگدار سفید، زرد اور سرخ تھے۔ موائی کا زرد پتھر، سرخ تاج اور سفید مرجان کے سلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوسط مجسمہ تیرہ فٹ اونچا اور دس ٹن وزنی تھا۔ سب سے اونچا مجسمہ پارو 32 فٹ اونچا اور 75 ٹن وزنی تھا۔ سب سے بھاری کا وزن 87 ٹن تھا۔ رانو راراکو کی کان میں اس سے بڑے نامکمل مجسمے بھی تھے۔ ان مین سے ایک 70 فٹ قد کا اور 270 ٹن وزنی تھا۔ ہم ایسٹر آئی لینڈ میں رہنے والوں کی ٹیکنالوجی کا جانتے ہیں اور پہلی نظر میں ناممکن لگتا ہے کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا ہو گا۔
خلائی مخلوق کے شوقین ایریک وون ڈینیکن اور دوسرے، ان مجمسموں اور پلیٹ فارم کو منفرد سمجھتے تھے جن کی وضاحت کے لئے غیرانسانی مخلوق کا سہارا لینا پڑے۔ پولینیشیا کی ثقافت میں دوسرے جزائر میں بھی پتھر کے بڑے مجسمے ملتے ہیں، اگرچہ اس سائز کے نہیں لیکن مارکیساس، آسٹریلس، پٹکئیرن جزیرہ پر آتش فشانی پتھر کے اونچے سٹرکچر پائے جاتے ہیں۔مانگاریوا اور ٹونگا میں پتھروں کے عظیم ستون ہیں۔ ٹونگا کے ٹریلیتھون میں ستون چالیس ٹن وزنی ہیں۔ ایسٹر آئی لینڈ کا آرکیٹکچر انہی روایات کا تسلسل تھا۔
پتھر کی عمر نکالنے کے لئے براہِ راست کاربن ڈیٹنگ نہیں کی جا سکتی۔ آہو کی عمر نکالنے کا طریقہ بالواسطہ ہے اور obsidian-hydration dating کہلاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے مجسمے چھوٹے سائز کے تھے اور وقت کے ساتھ ان کا قد بڑھتا گیا۔ بڑے آہو کئی بار تعمیرِ نو کے عمل سے گزرے۔ سن 1000 سے 1600 کے درمیان آہو بنائے جانے کا دور رہا۔ وارن بیک اور ساتھیوں نے بڑی ہوشیاری سے مجسموں کی تاریخ معلوم کی ہے جو فائلز پر اور مجسمے کی آنکھوں پر لگے مرجان میں سے ہے اور سجاوٹی نوڈیول میں الجی کی کاربن ڈیٹنگ سے ہے۔ اس سے تعمیر کے تین ادوار کا علم ہوتا ہے۔ پرانے آہو بغیر مجسمے کے تھے۔ پھر مجسمے بننا شروع ہوئے۔ شروع کے مجسمے بعد والوں کی نسبت چھوٹے، گول اور انسان کی شکل کے زیادہ قریب تھے۔ شروع کے مجسمے کئی جگہ کے پتھروں سے تھے۔ بعد والے رانو راراکو کے پتھروں سے۔ اس کی سادہ سے وجہ یہ تھی کہ یہ پتھر مجسمہ سازی کے لئے بہترین تھا۔
وقت کے ساتھ مجسمے بڑے ہوتے گئے، سٹائل مستطیل ہوتا گیا۔ سب سے بڑا مجسمہ پارو سب سے آخر میں بننے والا مجسمہ تھا۔
وقت کے ساتھ اس طرح سے ان کا بڑا ہوتے جانا حریف قبائل میں مقابلے کی اور سٹیٹس کی دوڑ لگتا ہے۔ یہ نتیجہ ایک اور طریقے سے بھی نکلتا ہے۔ بعد میں اس پر آنے والا ایک اور فیچر پکاوٗ تھا۔ سرخ سلنڈر جو مجسمے کے سر پر ٹوپی کی طرح رکھا جاتا تھا۔ پارو کا پکاوٗ بارہ ٹن وزنی تھا۔ بغیر کرینوں کے بارہ ٹن وزنی ٹوپی بتیس فٹ اونچے مجسمے کو کیسے پہنائی گئی؟ ایرک وون ڈینیکن جیسے لوگ یہاں خلائی مخلوق کا جواب پسند کرتے ہیں لیکن جواب اس سے سادہ ہے۔ حالیہ تجربات سے پتا لگتا ہے کہ پکاوٗ اور مجسمے کو اکٹھا ہی رکھا گیا تھا (یعنی ٹوپی بعد میں نہیں پہنائی گئی)۔ پکاوٗ کے لئے پتھر ایک اور کان سے لیا جاتا جو پونا پو تھی۔ یہاں پر نامکمل پکاوٰ بھی ملے ہیں اور وہ بھی جو مکمل ہو کر اپنے لے جانے جانے کے منتظر تھے۔
“تم لوگ تیس فٹ اونچا مجسمہ بنا سکتے ہو؟ لو ہم نے بتیس فٹ اونچے مجسمے کو بارہ ٹن پکاوٗ سمیت کھڑا کر دیا”۔ دولت، طاقت اور کامیابی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ ہماری سرشت کا حصہ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دوڑ یہاں اس جزیرے پر کیوں؟ اس کی کم از کم چار وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ رانو راراکو کا پتھر مجسمہ سازی کے لئے آئیڈیل ہے۔ جیسا کہ پکار رہا ہو کہ اسے تراشا جائے۔ دوسرا یہ کہ بحرالکاہل کے دوسرے جزائر میں معاشرے ایک دوسرے سے چند روز کی مسافت پر تھے۔ انہوں نے اپنی توانائی، ذرائع اور محنت کو تجارت، مہم جوئی، جنگ، ہجرت اور کالونائزیشن کرنے پر لگایا۔ اس تنہائی والے جزیرے میں یہ سب کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسرے جزائر میں مقابلہ بازی الگ جزیروں کے چیف کی آپس میں تھی۔ یہاں پر جو کھیلنا تھا، اسی جزیرے میں ہی۔ تیسرا یہ کہ اس جزیرے کی ہموار سطح آپس میں وسائل کے تبادلے اور ٹرانسپورٹ کے لئے اچھی تھی۔ اگر یہاں سیاسی طور پر تقسیم رہتی تو ایک علاقے کے پاس پتھر ہوتا، باقی کے پاس نہیں یا راہداری نہ دی جاتی۔ کسی حد تک ہو جانے والی سیاسی یکجائی سے مقابلے کے پراجیکٹ ذرائع اور وسائل کے تبادلے اور تجارت سے کئے جا سکتے تھے۔ چوتھا یہ کہ یہاں زراعت سے اتنی وافر خوراک میسر تھی کہ اس طرح کی سرگرمیوں پر لگائی جا سکتی تھی۔ اس پر کام کرنے والوں کو کھلایا پلایا جا سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس جزیرے کے باسیوں نے یہ شاندار تعمیرات کیسے کیں؟ ظاہر ہے کہ یہاں پر کوئی ویڈیو تو نہیں بنائی گئی تھی۔ یہاں کے لوگوں کی زبانی بتائی گئی روایات کہ یہ کام کیسے کیا جاتا تھا۔ مجسمے جو تیاری کے مختلف مراحل میں تھے، ان کو دیکھ کر اور پھر ٹرانسپورٹ کے طریقوں ہر پچھلے کچھ برسوں میں تجربے کر کے اس کو معلوم کیا گیا۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں