59

مردانہ ہارمون اور اسپرم: سلمان رضا اصغر

🚫 ” مردانہ ہارمون اور اسپرم spermکے کارخانے “ 🚫
تحریر سلمان رضا اصغر
انسانی نسل کی بقا کے ضامن مردوں کےجسم میں ہر دن چوبیسوں گھنٹے اسپرم sperm خلیئے بنانے والے قدرت کے کارخانے ٹیسٹیکلز testicles پوری طرح اپنا کام کرتے رہتے ہیں گو کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے کام کرنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے لیکن قدرت کے یہ انمول کارخانے پوری زندگی کسی قسم کی ہڑتال کو خاطر میں نہیں لاتے اور کبھی بند نہیں ہوتے. ٹیسٹیکلز testicles اسپرم اپنے آغاز میں جسم کے دوسرے خلیوں کی طرح ہی ظاہر ہوتے ہیں, لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ پختگی پا کر ٹیسٹیکلز سے نکلتے وقت جسم کے دوسرے خلیوں کی نسبت آدھے ڈی این اے DNA سے لیس ہوتے ہیں. پانچ سینٹی میٹر کی لمبے بیضوی شکل کے مرادنہ جنسی غدود ٹیسٹیکلز testicles (testes) مردانہ تولیدی نظام کا سب س اہم حصہ ہیں. یہ مرادنہ ہارمون ٹیسٹوسٹرون testosterone اور اسپرم sperm کو پیدا کرنے والے اعضا جسم سے باہر جلد کی ایک چھوٹے تھیلی نما حصے اسکروٹم scrotum کے اندر بند ہوتے ہیں اور ان میں سے دائیں جانب موجود ٹیسٹیکل عموماً بائیں جانب والے سے اونچا ہی رہتا ہے.

⛔ بہت سے افراد اسپرم spermاور اس کے ساتھ نکلتے چپچپے مائع سیمن semen کو ایک ہی چیز خیال کرتے ہیں, جبکہ سیمن Semen میں اسپرم کے علاوہ پروسٹیٹ prostate اور سیمنل ویسیکل seminal vesicles سے نکلے دوسرے اہم اجزا شامل ہوتے ہیں, ٹیسٹیکلز میں تشکیل پاتے اسپرم کو اپنی اور اپنی بے قرار دم کی تیزی برقرار رکھنے کے لئے جس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے, وہ شوگر کی ایک سادہ قسم فریکٹوز fructose سے حاصل ہوتی ہے, جو اسے سیمن کا 70 فیصد حصہ پیدا کرنے والے سیمنل ویسیکل seminal vesicles فراہم کرتے ہیں. پروسٹیٹ prostate سے پیدا ہونے والے کیمیائی اجزا فیمیل female کے تولیدی نظام میں پہنچنے والے اسپرم سے لیس گاڑھے سیمن semen کو بہنے والے پتلے مائع میں تبدیل کر دیتا ہے, اس کی غیر موجودگی اسپرم کو ایک ہی جگہ بند یا کھڑا رہنے کا سبب بن سکتی ہے اس صورت میں وہ تیرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام ہی رہیں گے. یوں تو فیمیل ایگfemale egg کو فرٹیلائزڈ کرنے کے لئے ایک ہی اسپرم کافی ہوتا ہے, لیکن یہ ایک فرٹیلائزڈ کرنے والا اسپرم 200 ملین اسپرم کی بڑی تعداد میں شامل ہوتا ہے. اسپرم فیمیل کے تولیدی نظام میں پہنچ کر زیادہ سے زیادہ دو دن تک ہی زندہ رہ پاتا ہے. حالیہ برسوں میں کی گئی تحقیق کی بنیاد پر ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اسپرم کی بجائے ایک فیمیل ایگ female سب سے بہترین اسپرم کو چننے میں باقاعدہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے.

⛔ٹیسٹیکلز کی ساخت Testicles (testes) Structure

ہر ایک ٹیسٹیکلز testicles پٹھوں کی ریشہ دار پرتوں fibrous layers سے cover ہوتا ہے جسے tunica کہتے ہیں. اس پٹھوں کی ریشہ دار بیرونی پرت vaginalis اور اندرونی پرت tunica albuginea کے نام دیئےگئے ہیں. جلد کی چھوٹی تھیلی میں بند ہر ایک ٹیسٹیکل testicle ایک مضبوط ریشے دار پٹھوں سے بنی spermatic cord سے جڑا ہوتا ہے, اسی کارڈ cord میں vas deferens نامی نالیوں کے علاوہ خون کی نالیوں, لیمف باریک نالیوں lymph vessels اور بے شمار عصبی خلیوں nerves پرمشتمل ہوتی ہے. علم الابدان کے ماہرین نے ایک ٹیسٹیکل testicle کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے, جنہیں چھوٹے گوشہ دار حصے, لوبیول lobules کہا جاتا ہے. ہر ایک لوبیول lobule میں انگریزی حرف U کی شکل کی ٹیوبز یا نالیاں ہوتی ہیں جنہیں seminiferous tubules کہتے ہیں . اور ایک ٹیسٹیکل testicle میں ان کی تعداد تقریباً آٹھ سو تک ہوتی ہے. یہ ٹیوبز اس سے منسلک چینل rete testis میں کھلتی ہیں. یہ rete testis حصہ نالیوں کے ساتھ ایک اور بل کھاتی ٹیوب epididymis سے مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے. چینل rete testis میں پیدا ہوتے اسپرم epididymis محفوظ ہوتے ہیںاور یہ اسپرم کو محفوظ و جمع رکھنے والا حصہ epididymis ایک بڑی اور لمبی نالی duct سے vas deferens سے جڑ جاتا ہے.

⛔ ٹیسٹیکلز کے خلیوں کی اقسام اور افعال

ٹیسٹیکلز testicles اسپرم اور مردانہ ہارمون بنانے کا اہم کام کرتے ہیں یہ کام ان میں موجود دو قسم کے خلیے ,جرم سیلز Germ cells اور اسٹرومل سیلز Stromal Cells ہیں.

💠جرم سیلز Germ cells
اسپرم کے بننے کا آغاز ان خلیوں میں ہوتا ہے جو خاص ٹیوبز seminiferous tubules میں موجود ہوتے ہیں. جیسے ہی یہ جرم سیلز پختگی پاتے ہیں تو یہ ان خاص seminiferous ٹیوبز کی بھول بھلیوں سے گزرتے ہوئے epididymis میں اسٹور ہوتے ہیں پھر یہ اسپرم خلیئے vas deferens ٹیوب کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں ساتھ ہی سیمینل ویسیکلز seminal vesicles اور prostate gland سے بنا فلوئڈ ان اسپرم میں گھل مل جاتا ہے اور سیمن semen تیار ہوجاتی ہے. پرجوش ہونے پر یہ سیمن یوریتھرا کی ٹیوب کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتی ہے. یہی اسپرم خلیے فیمیل ایگ کو فرٹیلائزڈ fertilizedکر کے پریگنینسی یا حمل کا آغاز کرتی ہے.

💠 اسٹرومل سیلز Stromal cells
یہ خلئیے دراصل ٹیسٹیکلز میں موجود دوسرے خلیوں کے مددگار ہوتے ہیں مختلف قسم کے یہ اسٹرومل سیلز مختلف قسم کے کام کرتے ہیں. اسٹرومل سیلز کی ایک قسم سرٹولی سیلز یا Sertoli (nurse) cells جو seminiferous tubules میں ہوتے ہیں , یہ جرم سیلز germ cells کو اسپرم کی منتقلی میں مدد کرتے ہیں. سیمی انیفیروس ٹیوبلز seminiferous tubules سے جڑے نرم پٹھوں کے درمیان خالی جگہ میں ایک اور خاص قسم کے اسٹرومل سیلز جو Leydig cells ہوتے ہیں, جو مردانہ ہارمون خاص کر ٹیسٹواسٹورون testosterone پیدا کرتے ہیں یہ مردانہ ہارمون جرم سیلز کو اسپرم بنانے میں مدد گار ہونے کے ساتھ ساتھ تولیدی اعضامیں نشونما اور بہتر طور کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے. ٹیسٹواسٹورون کے اہم کاموں میں سیکس ڈرائیو sex drive بڑھانا , جنسی اعضا کی نشونما و پختگی ,مردانہ گہری آواز , جسم کی ساخت و عضلات کے ساتھ ساتھ چہرے کے بالوں کی افزائش ہے.

⛔ درد کی شدت

آدمی زندگی میں ملنے والے کچھ ناقابلِ بیان درد و تکلیف کو ساری عمر نہیں بھولتا اور جب کسی کو اس اس درد کی بانہوں میں دیکھتا ہے تو اس کی شدت کو پورے طور اپنی ذات میں بھی محسوس کرتا ہے. کرکٹ کھیلنے والوں کے لئے اس ناقابلِ بیان درد و تکلیف کے لمحات میچ کی ہار جیت سے زیادہ یادگار ہوتے ہیں. آخر یہ ناقابلِ بیان درد جو ہر آدمی اپنی زندگی میں کبھی نا کبھی محسوس کرتا ہے اس کی وجہ کیا ہے.

ارتقا کے تناظر یہ نسل کی بقا کے لئے اسپرم پیدا کرتے ہیں تو اس وجہ سے بھی ان کی حفاظت اور خبردار کرنے کے لئے ریسیپٹرز اور درد منتقل کرنے والے اعصاب بے حد حساس قسم کے ہوتے ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ درد کی وجہ بس یہی ریسیپٹرز اور عصبی خلیئے ہوتے ہیں,درد اٹھنے اور درد کی شدت محسوس ہونے کا سبب درد کے سگنلز پیدا کرنے والے ریسیپٹرز receptors اور ان کو منتقل کرنے والے اعصاب nerves ہیں اور ٹیسٹیکلز میں ان کا جال بچھا ہوتا ہے, ٹیسٹیکلز کے اوپر کسی بھی قسم کی حفاظتی ہڈی یا سخت عضلات کی عدم موجودگی کے باعث ریسیپٹرز اور عصبی خلیئے ذرا سی چوٹ پہنچنے پر دماغ کو سرعت سے بےحد شدت کےدرد کے بیدرد سگنلز بھیجتے ہیں, جس کے سبب آدمی کچھ لمحات کے لئے بے بس اور درد کو بیان کرنے کے تمام الفاظ کی سطحی و معمولی معنویت کا قائل ہوجاتا ہے. ارتقا کے تناظر میں یہ حساس اعضا شدید درد پیدا کرنے کا باعث اس وجہ سے ہیں کہ اس میں نسلِ آدم کی بقا کی ضمانت اسپرم پیدا ہوتےہیں. ٹیسٹیکلز میں درد کے سگنلز کو منتقل کرنے والے عصبی خلیے خاص قسم کے ہوتے ہیں ان میں ایک عصبی فائبر fiber ایسا ہوتا ہےجو درد کو بے حد تیزہی اور شدت سے منتقل کرتا ہے.

زیادہ شدت کی چوٹ کی صورت میں عموماً پیٹ کے اندر معدے تک پٹھوں میں مروڑ سی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کا سبب ان کا جسم کےحصوں سے جڑے ہونا ہے, جب بچے ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں تو ٹیسٹیکلز گردوں کے بے حد نزدیک ہوتے ہیں جب یہ بننا شروع ہوتے ہیں تو ان کی شکل تقریباً اووریز ovaries جیسی ہی ہوتی ہےاور پیدائش سے قبل ساتویں مہینے میں یہ نیچے کی جانب اتر کر جسم سے جڑی جلد کی تھیلی scrotum میں پہنچ جاتے ہیں, لیکن ان ٹیسٹیکلز کی خون کی نالیاں اور اعصاب تمام کی تمام اسی حصے سے منسلک ہوتی ہیں جہاں ان کے بننے کے عمل کا آغاز ہوا تھا اور درد کے سگنلز اوپر کی طرف اسی جگہ پہلے منتقل ہوتے ہیں, جس سے پیٹ میں بے حد شدید درد محسوس ہوتا ہے.

⛔ درجہ حرارت کی حساسیت

ماہرینِ حیاتیات کا ماننا ہے کہ میملز کے ٹیسٹیکلز کا جسم سے باہر جلد کی تھیلی میں ہونا کوئی ایک سو پچاس ملین سال پہلے ہوا جس کی وجہ اسپرم sperms کو مناسب درجہ حرارت پر رکھنا تھا. ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹیکلز کا جسم سے باہر جلدی تھیلی میں ہونا اسپرم خلیوں کے زیادہ صحتمند اور سرگرم رہنے کے لئے ضروری ہے کیونکہ اسپرم سیلز کو صحتمند رہنے کے لئے مخصوص درجہ حرارت کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ٹیسٹیکلز کے جسم کے اندر ہونے پر ملنا ناممکن ہے. جسم سے جڑی ٹیسٹیکلز کے لئے بنی جلدی تھیلی scrotum کا درجہ حرارت پورے جسم کے درجہ حرارت سے دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ کم ہی رہتا ہے. اور قدرت کا یہی انتظام ٹیسٹیکلز testicals کے درجہ حرارت کو اسپرم کے لئے مناسب یا موزوں سطح پر رکھتا کے لئے اس سے حرارت کو جذب کرتا ہے اور جلد کی تھیلی سے جڑے پٹھے muscles اسے جسم سے دور یا نیچے یا جسم کے قریب کر کے جسم کی گرمی دور یا نزدیک کرتے رہتے ہیں.

جلد کی تھیلی scrotum میں بند ہر ایک ٹیسٹیکل اسپرمیٹک کارڈ spermatic cord جو کہ بے شمار عصبی خلیوں ,خون کی باریک نالیوں پر مشتمل ہوتی ہے سے جڑا ہوتا ہے. اسپرمیٹک کارڈ میں ایک نالی vas deferens ہوتی ہے (جو اسپرم sperm کو ٹیسٹیکل سے یورین کی نالی یوریتھرا urethra تک لیجاتی ہے), بھی موجود ہوتی ہے. اسی اسپرمیٹک کارڈ کے اردگرد بے حد ہموار پرت میں کریماسٹر پٹھے cremaster muscle بھی لپٹے ہوتے ہیں اور یہی cremaster muscle ان کے ڈھیلے پن اور سکڑاؤ کی وجہ بنتے ہے , جب سرد پانی یا ماحول میں جاتے ہی یہ جسم سے نزدیک ہوجاتے ہیں کیونکہ cremaster muscle درجہ حرارت کے کم ہونے پر سکڑتے ہیں. اس طرح جسم کی گرمی ان میں مطلوبہ درجہ حرارت قائم رکھتی ہے جو کہ اسپرم کے سرگرم اور صحتمند کے لئے بے حد ضروری ہوتا. کسی بھی شدید چوٹ پہنچنے کی صورت میں cremaster muscle کھنچاؤ پیدا یو جاتا ہے جو کہ ان کو جسم کے قریب کرنے کا موجب ہوتا ہے.

📝 یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بلند درجہ حرارت پر رہنے سے اسپرم sperm مرتے بھی ہیں اور زندہ بچنے والے ایک فیمیل ایگ female egg کو فرٹیلائزڈ کرنے میں اکثر ناکام بھی رہتے ہیں. اکثر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے سے درجہ حرارت دو ڈگری بلند ہوجاتا ہے ایسا ہی کچھ بریف پہنے رکھنے پر بھی ہوتا ہے, لیکن اس سے اسپرم کی صحت و کارکردگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اکثر فلسفی و نیم حکیم اس معاملے پر عام لوگوں میں غلط فہمی پھیلاتے نظر آتے ہیں, خیر شکر ادا کرنے کی بات یہ ہے کہ ٹیسٹیکلز میں سے اگر ایک ٹیسٹیکل کینسر یا دوسری وجوہات کی بنا پر نکالنا پڑ جائے تو بھی ایک ٹیسٹیکل testicle اسپرم کو مناسب و ضروری تعداد میں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے.

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں