43

ماحولیاتی تبدیلیاں اور فنگس ہماری نئی دشمن: رضاالحسن

پھپھوندی (Fungus) سے لگنے والی بیماریاں جانوروں اور پودوں کی کئی انواع کی تباہی کا باعث بنی ہیں تاہم انسان اور دیگر ممالیہ زیادہ تر محفوظ ہی رہے ہیں۔ اسکی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسان اور دیگر ممالیہ کے جسم کا درجہ حرارت چونکہ کافی زیادہ ہوتا ہے لہذا فنگس (پھپھوندی) اس درجہ حرارت پر اپنے آپ کو مزید نئی فنگس میں تقسیم نہیں کر سکتی۔ دوسری وجہ انسانوں کا مضبوط مدافعتی نظام (امیون سسٹم) بھی ہے۔ لیکن ماحولیات میں تبدیلی انسانی صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سنہ 2012 سے سنہ 2015 تک ایک انتہائی خطرناک فنگس کی کئی اقسام افریقہ، ایشیاء اور جنوبی امریکہ میں دیکھی گئیں۔ اس فنگس کا نام “کینڈیڈا اورس Candida Auris” ہے۔ ان علاقوں میں فنگس کی جتنی اقسام کا بھی مشاہدہ کیا گیا ان کا تعلق فنگس کی اسی نوع سے ہے۔ لیکن ہر براعظم میں پائی گئی فنگس کا جینیاتی میک اپ (Genetic Makeup) دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔ یعنی ہر فنگس میں کروموسومز اور جینز کی ترتیب دوسرے سے مختلف تھی۔
امریکی مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر آرٹرو کیساڈوال کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ یہ فنگس ایسے لوگوں کے ذریعے ان علاقوں میں پہنچی تھیں جو شاید ان سے انفیکٹڈ ہوں۔
کینڈیڈا اورس فنگس انسانی صحت کے لئے نہایت خطرناک ہیں یہ انتہائی مہلک انفیکشن کا باعث بن سکتی ہیں۔ انسانی جسم میں انفیکشن پیدا کرنے کے لئے اس فنگس کو انسانی جسم کے درجہ حرارت سے مطابقت پیدا کرنی تھی۔ انسانی جسم کا اوسط درجہ حرارت تقریبا 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے لہذا اگر یہ فنگس انسانی جسم میں انفیکشن کی خواہاں ہے تو اسے اس درجہ حرارت پر اپنے آپ کو زندہ رکھنا تھا۔ بدقسمتی سے تیزی سے رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں اس فنگس کی اس کوشش میں اسکی مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
محقیقین کے مطابق اگر تو یہ بات ٹھیک ہوئی تو کینڈیڈا اورس فنگس کی پہلی بیماری ہو گی جو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آئی جو انسانی زندگی کے لئے خطرناک ہے۔
سنہ 2016 کے وسط سے لیکر آج تک امریکہ میں 700 کے قریب کینڈیڈا اورس فنگس سے انفیکٹڈ کیس سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کی 12 مختلف ریاستوں میں منظر عام پر آنے والے ان کیسز میں سے کچھ لوگ مر بھی چکے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ دیگر 30 ممالک میں بھی اس فنگس سے انفیکٹڈ مریض سامنے آ چکے ہیں۔
یہ فنگس دل، دماغ اور خون کی مہلک انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔ ماضی میں فنگس پر کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ فنگس گرم درجہ حرارت پر اپنی نسل آگے بڑھا سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت فنگس کی 35 سے 40 لاکھ انواع ہیں۔خطرے کی بات یہ ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث فنگس کی آئندہ نسلوں نے میوٹیشن کے ذریعے اپنے آپ کو گرم ماحول میں زندہ رکھنے کے قابل بنا لیا تو یہ آسانی سے ہمارا تھرمل ڈیفینس توڑ کر جسم پر حملہ آور ہو سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس فنگس نے کئی جانوروں اور پودوں پر اپنا قہر ڈھانا شروع بھی کر دیا ہے۔ جن میں مینڈک، سانپ اور کئی قسم کے درخت شامل ہیں۔
قدرت نے ممالیہ جانوروں کو مضبوط مدافعتی نظام کے ذریعے باہری حملہ آوروں (بیکٹیریاز ، فنگس وغیرہ) سے لڑنے کی ہمت دی ہے لیکن چمگاڈر بھی ایک ممالیہ ہے جن پر فنگس اب آسانی سے حملہ کر دیتی ہیں جو ان میں “وائٹ نوز سنڈروم White Nose Syndrome” کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن چمگاڈروں میں اسکی ایک وجہ “ہائبرنیشن” بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ہائیبرنیشن کے دوران انکا جسمانی درجہ حرارت کافی حد تک گر جاتا ہے۔

فنگل کنگڈم (Fungal Kingdom) بہت وسیع ہے اگر کوئی اور مہلک فنگس وقت کے ساتھ ارتقاء پذیر ہو گئی تو کون جانے کہ یہ انسانوں کے ساتھ کیا کریں گی۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں