821

قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات فیز 2 کا افتتاح۔۔۔تاریخ اور چند گذارشات

قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات، پاکستان کی تاریخ کے ان کامیاب ترین پراجیکٹس میں سے ایک ہے جس کی کامیابی کا اعتراف تحریری طور پر ورلڈ بینک سمیت کئی عالمی اداروں نے کیا۔ اس پر بے شمار ریسرچ پیپرز لکھے گئے۔ اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں اس کے فیز 2 کا افتتاح کرنے جہانگیر ترین صاحب ساہیوال تشریف لا رہے ہیں۔ آئیے ذرا مختصراً جائزہ لیتے ہیں کہ یہ پروگرام اصل میں ہے کیا۔۔۔ اور کس وجہ سے مقبول و کامیاب ہوا۔

تصویر بشکریہ نظامت اعلیٰ زراعت اصلاح آبپاشی پنجاب

سال 2004 کی بات ہے۔ جب پورے ملک میں پرویز مشرف کا طوطی بول رہا تھا۔ ایک دور اندیش حکمران کی حیثیت سے  انہیں کالاباغ ڈیم بنانے کی شدید خواہش تھی۔ اس خواہش میں ملک کے کئی دیگر اہم راہنما مثلاً پاکستان مسلم لیگ قاف کے چوہدری پرویز الٰہی اور جہانگیر ترین صاحب شامل تھے  لیکن جلد ہی شدید سیاسی مخالفت کے باعث یہ آشا دم توڑ گئی۔ لیکن ملک میں دن بدن بڑھتی پانی کی قلت ایک بڑے چیلنج کی صورت سامنے کھڑی  تھی۔ ایسے میں ملک بھر کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے۔

کافی غوروخوض کے بعد یہ پلان تیار کیا گیا کہ چونکہ فی الحال ملک میں ڈیم کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن آبپاشی کے لیے جتنا پانی اس وقت دستیاب ہے اگر اس کو بچا لیا جائے تو وقتی طور پر ہی سہی زرعی شعبے کو بھی ریلیف ملے گا اور پانی کی بڑی مقدار کو بھی ضائع ہونے سے بچایا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں ایک تجویز یہ سامنے آئی کہ اگر پورے پاکستان میں موجود تمام کھالہ جات (آبپاشی کے لیے درکار پانی کو نہروں سے کھیتوں تک پہنچانے کے چینلز) کو کم از کم تیس فی صد تک پختہ کر دیا جائے تو ایک ڈیم کے برابر یعنی لگ بھگ 12 ملین ایکڑ فٹ پانی کی بچت ہو گی۔

پلان نہایت شاندار تھا۔ اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے صدر پرویز مشرف نے ہنگامی بنیادوں پر اس کی منظوری دی اور ملک کے اس وقت چاروں صوبوں یعنی موجودہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان حتی کہ شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان میں بھی۔۔۔”قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات” کے نام سے ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک میگا پروجیکٹ شروع کیا گیا۔

پلان کے مطابق قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات کے تحت ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ انجینئرز، سب انجینئرز، کمپیوٹر آپریٹرز، راڈ مین اور دیگر معاون سٹاف کو بھرتی کیا گیا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے بین الاقوامی میعار کے مطابق ٹریننگ دی گئی۔ اور فیلڈ کی سطح پر کھالوں کی پختگی کا کام شروع کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ طے پایا تھا کہ بھرتی کیے گئے ملازمین اس سلسلے میں اپنی تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔ جبکہ عملی کام کاشت کار اور زمیندار کی جانب سے بنائی گئی کھال کمیٹیوں کی جانب سے کیا جائے گا۔

کھالوں کی پختگی سے 80 فی صد پانی کی بچت ممکن ہے

لیکن کام اتنا سادہ اور آسان نہیں تھا جتنا سمجھ لیا گیا تھا۔ منصوبے پر عملی کام شروع ہوا تو بہت سی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ ملک میں صدیوں سے رائج روایتی نظام کو بدلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ کاشت کاروں کو پانی کی بچت کے لیے کھال کی پختگی و اصلاح کی جانب راغب کرنا درد سر سے کم نا تھا۔ رہی کسر زمیں کی پیمائش و حد بندی اور نقشہ سازی کے حوالے سے ازمنہ قدیم سے چلی آ رہی مقامی لڑائیوں اور تنازعات نے پوری کر دی تھی۔

پالیسی سازوں نے نظر ثانی کرتے ہوئے ایک اور جامع پلان تیار کیا۔ جس میں محکمہ مال کے پٹواری اور علاقہ تھانہ کے تھانیدار کو بھی عملی طور پر کام میں شریک کیا گیا۔ یوں ملک کی تاریخ میں پہلا ایسا میگا پروجیکٹ شروع ہوا جس میں بہ یک وقت کئی محکموں کے ملازمین اپنے اثر رسوخ اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر پانی کی بچت کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

سب سے زیادہ آبادی اور رقبے کی بناء پر منصوبے کا اصل محور و مرکز صوبہ پنجاب تھا۔ جہاں پانچ ہزار سے زائد ملازمین دن رات ایک کر کے منصوبے کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان ملازمین کی پراگریس کو روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں  پر مانیٹر کیا جاتا تھا۔ منصوبے پر حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ صدر پرویز مشرف ماہانہ بنیادوں پر براہ راست منصوبے پر کام کرنے والے پورے ملک کے افسران کا اجلاس طلب کیا کرتے۔ اور ذاتی طور پر مانیٹرنگ کرتے۔

ابتدائی طور پر ملازمین کو چار سال کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ لیکن ان کے کام اور تجربے کو دیکھتے ہوئے سال بہ سال توسیع دی جاتی رہی۔ لیکن ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔ اس دوران کئی ملازمین مستقبل کی بے یقینی کے باعث نوکریاں چھوڑ گئے۔ جبکہ باقی اس آس پر کام کرتے رہے کہ انہیں جلد یا بدیر ریگولر کر دیا جائے گا۔ کیونکہ ایک جانب انہیں حکومت کی جانب سے وعدے وعید کیے جا رہے تھے تو دوسری جانب انہیں اپنے کام اور محنت پر پورا یقین تھا۔

کھالوں میں پختگی کے لیے فیلڈ اسٹاف کی مدد سے تمام کام کو بخوبی انجام دیا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ تقریباً 9 سال یعنی 2011/12 تک جاری رہا۔ اس دوران صدر پرویز مشرف کا دور حکومت جا چکا تھا۔ ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت واٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو وفاق سے صوبوں میں منتقل کیا جا چکا تھا۔ لیکن اس کی افادیت اپنی جگہ پر مسلمہ تھی۔

قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات، ایک قومی سطح کا منصوبہ تھا۔ ملک میں پانی کی بچت اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کی پراجیکٹ Evaluation کے دوران ورلڈ بینک کی جانب سے اسے ملکی تاریخ کا کامیاب ترین میگا پروجیکٹ قرار دیا گیا۔

آپ اس منصوبے کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سال 1976 سے محکمہ واٹر مینجمنٹ کے قیام سے لے کر 2004 تک 28 سالوں میں صرف 28 ہزار کھالہ جات پختہ کیے جا سکے تھے۔ جبکہ ان نو سالوں میں 56 ہزار سے زائد کھالہ جات کو پختہ کیا گیا۔ جو کہ منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کی محنت، تجربے اور جانفشانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انجمن اصلاح آبپاشاں کے ذریعے فیلڈ اسٹاف کاشتکاران کی پانی کی بچت میں منصوبے میں عملی شراکت کو ممکن بناتا ہے۔ اور اس حوالے سے مناسب آگہی بھی دی جاتی ہے۔

اس تجربے اور محنت کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کے ملازمین کو ان کی نوکری میں ایک دن کا خلاء پیدا کیے بغیر نئے پروجیکٹ میں بھرتی کر لیا گیا۔ جسے پنجاب میں “آبپاش زراعت کی ترویج کا منصوبہ” یعنی عرف عام میں PIPIP کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت صوبے میں جدید قطرہ قطرہ نظام ہائے آبپاشی کی ترویج، زمینوں کی بذریعہ لیزر ہمواری اور کھالہ جات کی پختہ تعمیر مقصود تھی۔

ان نو سالوں میں سیاسی گہما گہمی عروج پر رہی۔ پانی کی بچت کا معاملہ وفاق سے صوبوں کے سپرد ہو چکا تھا۔ ڈیم کا تنازعہ جوں کا توں تھا لیکن اس دوران واٹر مینجمنٹ کے پروجیکٹ ملازمین ایک ڈیم کے برابر پانی بچا چکے تھے۔ اور اب اگلے مرحلے کے لیے کمر کس کر تیار تھے۔

قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات کی کامیابی سے تکمیل کے بعد سال 2012 میں تمام دیگر صوبوں میں بھی پانی کی بچت کے نئے منصوبے شروع کیے گئے۔ لیکن ان صوبوں کے ملازمین کو یکے بعد دیگرے مختلف پالیسیوں کے نتیجے میں مستقل کر دیا گیا۔ اور یوں سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، اور بلوچستان کے تمام واٹر مینجمنٹ ملازمین جو قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات کے تحت بھرتی ہوئے تھے اپنے مستقبل کی فکر سے بے نیاز ہو کر پانی کی بچت کے نئے منصوبوں پر کام کرنے لگے۔ جب کہ پنجاب میں اس کے برعکس الٹی گنگا بہتی رہی۔

پنجاب میں PIPIP پروجیکٹ (سابقہ NPIW ملازمین) میں پھیلنے والی بے چینی اور بددلی کو مقتدران وقت تسلی دلاسے اور وعدے وعید دے کر بہلاتے رہے۔ لیکن اب ہر سال مستقلی کی بجائے ایک سال کی توسیع کے نام پر قسطوں میں ملنے والی زندگی سے عاجز آ چکے ہیں۔ اب زائد العمر ہونے کے باعث ان کے لیے کسی اور محکمہ میں ایپلائی کرنا بھی ممکن نا رہا۔
یہ ملازمین آج 15 سال بعد بھی کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ دریں اثناء حکومت پنجاب نے حال ہی میں  لاکھوں ایسے  کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا ہے جن کی مدت ملازمت تین سال تھی۔ جبکہ پندرہ سال مدت ملازمت والوں کو یہ کہ کر فہرست میں شامل نہیں کیا گیا کہ یہ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ملازمین حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کیا پانی بچانے کا کام محض ایک پراجیکٹ ہے؟ یا یہ کہ پراجیکٹ ملازمین انسان نہیں ہوتے؟

تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی ان ملازمین کو یقین ہو چکا ہے کہ اب آنے دیرینہ مطالبات ضرور سنے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر آنے کی بجائے یہ لوگ سوشل میڈیا پر پانی بچانے والوں کو بچاؤ نامی ہیش ٹیگ کی مدد سے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

اس انقلابی پروگرام کے دوسرے فیز کا افتتاح ساہیوال میں کیا جا رہا ہے۔ جس سے کھالوں کی 50 فی صد پختگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ (تصویر بشکریہ صفدر سپروائزر)

جہانگیر ترین صاحب زراعت کے حوالے سے وسیع ویژن رکھنے والے انسان ہیں۔ قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات (این پی آئی ڈبلیو) کی ابتداء اور اب اس کے فیز 2 کا افتتاح اس بات کا بین ثبوت ہے کہ نہ صرف جہانگیر ترین صاحب ملکی مستقبل کے حوالے سے ویژن اور دوراندیشی رکھتے ہیں۔ بلکہ اس پروگرام پر کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین بھی وسیع استعداد کار کے حامل ہیں۔ اس لیے ترین صاحب  کو چاہیے کہ ان ملازمین کے تجربے اور محنت سے فائدہ اٹھائیں اور ر انہیں دیگر صوبوں کے ملازمین کی طرح مستقل کیا جائے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں