39

فاختہ ۔۔۔۔۔ Eurasian collared Dove

۔۔۔ سندھ کے مقامی پرندے ۔۔۔ ( 2 )

۔۔۔ #فاختہ ۔۔۔۔۔ (Eurasian collared Dove)۔۔
(Streptopelia decaocto)
ترجمہ و تحریر ۔۔ زاہد آرائیں

فاختہ پوری دنیا میں امن کا نشان تسلیم کیا جانے والا پرندہ ہے۔ وہ پرندے جنہیں بہت سے ماحولیاتی اور انسانی خطرات کا سامنا ہے فاختہ بھی ان میں شامل ہے۔

فاختہ جو پہلے ہر جگہ عام ہوتی تھی اور غول در غول نظر آتی تھی اور اس کی بہت ہی منفرد دھیمی آواز سننے کو ملا کرتی تھی ۔۔ اب کبھی کبھار ہی نظر آتی ہے اور اسکی آواز سنے تو پتا نہیں کتنا عرصہ ہوا۔
فاختہ کی نسل کو نقصان پہنچنے کے بہت سے اسباب ہیں، جن میں زیادہ نقصان فصلوں پر زہریلی دوائیوں اور کھاد وغیرہ کے استعمال سے ہوا ہے۔ گندم، چاول، جوار، باجرہ اور باقی اناج اسے بہت مرغوب ہے۔ اب ان فصلوں کی بجائی کے دوران بیجوں کو زہریلی دوا لگا کر بویا جاتا ہے اور فاختہ ان میں سے جو دانے چگتی ہیں وہ ماری جاتی ہیں۔
صوبہ سندھ میں فاختہ چاولوں کی فصل کی کٹائی کے موسم میں اور تھر میں بہار کے موسم میں جب پیلوں پکتی ہیں تو یہ بہت زیادہ نظر آتی ہے۔
سندھ میں کچھ سالوں سے پانی کی کمی کی وجہ سے چاول کی فصل انتہائی کم کاشت ہونے کا اثر بھی فاختہ پر پڑا۔ مقامی دیسی درختوں کی کٹائی اور بدیسی درخت لگانے کے رواج سے بھی ان کے رہنے کے علاقے کم سے کم ہوتے چلے گئے ہیں۔

فاختہ بہت ہی معصوم پرندہ ہونے کی وجہ سے اسے شکار کرنا آسان ہوتا ہے اس میں چالاکی اور پھرتی کم ہوتی ہے۔ پرندوں کے شکاری حضرات کی رگ شکار اسے دیکھتے ہی پھڑک اٹھتی ہے۔ اکثر نئے شکاری نشانہ بازی کی مشق اسی پر کرتے ہیں۔
فاختہ زیادہ تر اکٹھے رہنا پسند کرتی ہیں۔ ایک غول میں کبھی کبھی سو سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔
فاختہ کا زیادہ شکار اسکے انتہائی لذیذ اور صحت کے لیئے مفید گوشت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کا گوشت سب پرندوں یہاں تک کہ تیتر سے بھی لذیذ کہا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ ہمارے دیسی حکماء نے بھی فاختہ کی نسل کشی میں اہم کردار ادا کیا ہے جو اسکے گوشت کو مردانہ کمزوری، دمہ اور یرقان کے علاج کے طور پر کھانے کا مشورہ انتہائی یقین سے دیتے آ رہے ہیں۔
حکومت اگر ان بیماریوں کے سستے علاج مہیا کر دے تو بھی فاختہ کے سر سے کچھ شامت ٹل سکتی ہے۔

سال میں دو بار، دو سے چار تک انڈے دینے اور 21 دنوں تک ان پر بیٹھنی والی فاختہ کے انڈوں اور بچوں کا ایک بڑا دشمن کوا بھی ہے فاختہ ماں کی جنگ کوؤں سے اپنے انڈوں اور بچوں کو بچانے کے لیئے چلتی رہتی ہے۔ اس معصومیت اور ظالم کی جنگ میں اکثر معصومیت ہار جاتی ہے اور بیچاری فاختہ دل کا درد دل میں رکھ چھوڑتی ہے۔
فاختہ کی سادگی اور معصومیت اسکے گھونسلے میں بھی نظر آتی ہے جو بس کچھ پتلی سوکھی ڈنڈی نما لکڑیوں کا چھوٹا سا مجموعہ ہی ہوتا۔

سبھی جانوروں میں مادہ کے لیئے نر آپس میں لڑتے ہیں اور کچھ میں تو یہ لڑائی زندگی یا موت کا مسئلہ ہوتی ہے اور فاختہ جاتی میں بھی مادہ کے لیئے یہ لڑائی ہوتی ہے مگر شرافت و معصومیت اس لڑائی میں بھی غالب ہوتی ہے کہ چونچ مارنا اور خون نکالنا جیسے منع ہوتا ہے اور اکثر صرف دھونس دھمکی اور پروں کے تھپیڑے مارنے کی حد تک ہی رہتی ہے۔ فاختہ بنیادی طور پر ایک سست اور عاشق مزاج پرندہ ہے۔ یہ بارش سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ بھیگنے کے بعد ٹھیک سے اڑ نہیں پاتے۔
صبح سویرے سورج نکلنے سے بھی پہلے جب چاروں طرف خاموشی ہوتی ہے سب گرمی سے بے حال پڑے ہوتے ہیں، اس وقت کسی درخت کی شاخ پر بیٹھی فاختہ کی دھیمے سروں میں کٌو گھو کٌو کی آواز عجیب تاثر پیدا کرتی ہے۔ جیسے گرمی سے ستائے ہوؤں کو ایک امید دلا رہی ہو۔۔ ۔۔۔

سندھ میں فاختہ کی تین اقسام پائی جاتی ہیں۔
مادہ فاختہ کی گردن پر لال رنگ کا نشان ہوتا ہے اور نر مادہ سے بھاری ہوتا ہے۔ مگر شکاری حضرات کو ان کے نر مادہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کہنے کو تو یہ بھی کہا جا سکتا کہ آجکل جہاں ہر روز بہن بھائی کے اور ماں یا باپ بیٹوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے واقعات عام ہیں وہاں فاختہ کی نسل کشی کا ماتم کیا !!

ماضی کے دن یاد آتے ہیں جب چاول کی کٹائی کا موسم آتا تھا تو ہزاروں کی تعداد میں فاختاؤں کے جھنڈ کھیتوں میں گرے اناج کے دانے چگنے آتے تھے اور اب مشینوں کا کردار یہ بھی کہ کھیت کے اناج میں سے پرندوں کا حصہ بلکل ہی ختم ہو گیا دنوں کا کام گھنٹوں میں اور سب صفایا ہو جاتا ہے اور فاختہ جیسے پرندے کا تو کیا ذکر کہ اناج میں سے کچھ غرباء و مساکین کا جو حصہ نکالا جاتا تھا وہ اب ماضی کا ایک قصہ بن چکا اور حالت پھر بھی یہ ہے کہ بیس من والا بھی روتا ہی نظر آتا ہے اور ہزار من والا بھی سر پٹختا نظر آتا ہے فاختہ کا کیا گیا وہ تو بس کسی اور دیس کو ہجرت کر گئی۔

شکار کی روک تھام کے قانون کی بات کی جائے تو جانوروں کے حقوق کے لیئے انگریزوں کے دور سے بنے اب بوسیدہ ہو چکے قانون میں ترمیم کر کے فاختہ کے شکار پر پابندی لگانے کا سوچا بھی نہیں گیا ابھی تک تو اور ویسے بھی جہاں قانون انسان حقوق کا دفاع نہ کر سکتے ہوں وہاں بیچاری فاختہ کے لیئے کیا امید کی جا سکتی۔۔۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں