9

غائب ہوتی برف

غائب ہوتی برف (تحریر ڈاکٹر ولید خان)

جیمز بالوگ ایک ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر ہیں جو 1980ء کی دہائی سے معاشی وسماجی نظام کے ماحولیات پر اثرات کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2007ء میں ایکسٹریم آئس سروے (EIS) پراجیکٹ شروع کیا جس کا مقصد تصویروں کے ذریعے دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت کا مختلف خطوں میں موجود گلیشیئرز پر اثرات کی منظر کشی کرنا تھا۔ 43 کیمرے گرین لینڈ، آئس لینڈ، الاسکا، یورپی الپس، انٹارکٹکا، کینیڈا اور امریکی روکی پہاڑوں کے 24 گلیشیئرز پر نصب کئے گئے۔ کیمرے سارا سال تصویریں کھینچتے رہتے ہیں جن سے گلیشیئرز کے بڑھنے گھٹنے کا عمل ایک فلم کی طرح سامنے آ جاتا ہے۔

گلیشیئرز برف کے دیو ہیکل تودے ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں اورممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کی سطح کا 10فیصد بناتے ہیں اور اپنے اندر دنیا کا 75فیصد میٹھا پانی سموئے ہوئے ہیں۔ صرف انٹارکٹکا میں دنیا کا 70فیصد میٹھا پانی موجود ہے۔ گلیشیئرز کروڑوں سال پہلے برف باری کے ذریعے بننے شروع ہوئے اور تہہ در تہہ گرتی برف کے جمنے اور سخت ہونے کے عمل میں وجود میں آئے۔ یعنی گلیشیئرز اپنے اندر کرۂ ارض کا کروڑوں سالوں کا ریکارڈ محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے 8لاکھ سالوں میں کاربن کبھی بھی 280ppm سے زیادہ نہیں رہا جبکہ آج یہ 407ppm پر کھڑا ہے۔ انٹارکٹکا کا 8.6 ملین مربع کلومیٹر تقریباً سارا برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ گرین لینڈ کا 10 لاکھ مربع کلومیٹر گلیشیئر میں ڈھکا ہوا ہے۔ گلیشیئر آرکٹک، الاسکا، کینیڈا، آئس لینڈ، ہمالیہ، قراقرم، روس، سکینڈے نیوین ممالک، یورپی الپس وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں میں ان کے پگھلنے سے دریاؤں اور ندیوں میں میٹھا پانی بہتا ہے جو کہ انسانی ضروریات کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ آرکٹک اور انٹارکٹکا کے گلیشیئر دیگر چھوٹے گلیشیئرز کے ساتھ مل کر سمندری پانی کے لیول اور تیزابیت کو کنٹرول کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سمندری جانور زندہ رہتے ہیں اور دنیا کا پانی کا سائیکل چلتا رہتا ہے۔

پچھلے گیارہ سالوں میں لاکھوں تصویروں کے ذریعے جیمز بالوگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر دنیا کے تمام گلیشیئرز تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ پچھلے دس سالوں میں گلیشیئرز اتنا پگھل چکے ہیں جتنا پچھلے سو سالوں میں پگھلے تھے۔ صرف کینیڈا میں 45گلیشیئرز ہمیشہ کیلئے ختم اور باقی تیزی کے ساتھ گھٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف علاقوں میں گلیشیئرز کا ٹوٹ کر سمندر میں گرنے کا عمل بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں شہروں کے حجم کے برابر برف کے تودے ٹوٹتے ہوئے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ یہ تمام حقائق دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت اور اس کے تباہ کن اثرات کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کی وجہ سے جہاں انسانیت کے میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخائر تیزی سے ضائع ہو رہے ہیں وہیں پر سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر دنیا کے تمام گلیشیئرز پگھل جائیں تو جہاں سمندروں کی ماہیت تبدیل ہو جائے گی، جس کی وجہ سے کوئی سمندری حیات زندہ نہیں رہ سکتی، وہیں پر سمندر کی سطح 200 فٹ تک بلند ہو سکتی ہے جو ساحل سمندر پر موجود تمام شہروں کو ڈبونے، بر اعظموں پر کئی سو کلومیٹر اندر تک زمین ڈبونے اور اربوں انسانوں کو تباہ و برباد کرنے کا باعث بنیں گے۔ یعنی وہ ماحول اور زندگی جسے انسان جانتے ہیں، اس کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں