60

علم کیمیا ( Chemistry ) ۔۔ ایک تعارف ۔۔۔۔۔۔

سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب(composition)، کثافت(Density)، خواص(Properties) اور مادوں کےتعاملات (reactions) سے متعلق ہے۔
اس شعبہ علم میں عناصر اور ان کے مرکبات(Compounds) اور ان ساخت(Texture) اور پھر انکی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل(interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔تعلیمی دائرہ کار میں علم کیمیا علم طبعیات(Physics) اور علم حیاتیات(Biology) کےببیچ کی کڑی ہے۔ علم کیمیا وہ علم ہے جو موجود مرکبات و عناصر کی ترکیب و تعامل کی تحقیق اور قدرتی(Organic) و مصنوعی(Inorganic) ترکیبی مرکبات کے امتزاج کا مطالعہ کرتا ہے۔

ابتدائی تہذیبوں، جیسے کہ بابلی، مصری وغیرہ دھات کاری اور ظروف سازی(Ceramics) کے ماہر تھے۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ نظریہ واضح نہیں کیا۔ ابتدائی کیمیائی مفروضہ، ارسطو(Aristotle) نے چار عناصر کے نظریہ کی صورت میں پیش کیا جس کے مطابق ہر چيز پانی، ہوا، مٹی اور آگ کے ملنے سے وجود میں آئی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے مطابق ان چار عناصر کے مختلف تناسب سے ایک شے دوسری شے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ شروع میں کیمیا گری، دھاتوں اور عناصر کو سونے میں تبدیل کرنے اور دائمی زندگی کے لیے اکسیر حاصل کرنے جیسے جادوئی اور پراسرار نظریات تک محدود تھی۔
علم کیمیا کی تاریخ یوں تو بہت پرانے ہے لیکن قریبن کچھ ہزار سال قبل مسیح میں لوگ ایسے طریقوں سے مادے پر کام کرتے تھے جن سے آج کے علم کیمیا شاخیں وجود میں آئیں جیسے کے دھاتوں کو کچی دھاتوں علیحدہ کرنا، مٹی کے برتن, بیئر اور شراب بنانا، پودوں سے دوائیاں اور پرفیوم بنانا، جانوروں کی چربی سے صابن، ریت سے شیشہ، تانبہ کے اوزار وغیرہ بنانا۔
قدیم زمانہ میں لوگ مادہ اور اس کی بدلتی حالتوں کی وضاحت کرنے میں اکثر ناکام رہتے تھے لیکن الکیمی سے وابستہ اس دور کے سائنس دانوں نے نئے تجربات سرانجام دے کر اس کا نتیجہ لکھنا شروع کر دیا جو کے نیا علم کیمیا ثابت ہوا۔
علم کیمیا باقاعدہ خالص طور پر تب ابھر کر سامنے آیا جب روبرٹ بائل نے اپنی کتاب
(The Sceptical Chymist)
میں 1661 میں اسے کیمیا کے قدیم نظریہ الکیمی سے متفرق قرار دیا۔ جبکہ الکیمی اور علم کیمیا دونوں ہی مادہ اور اس کی بدلتی حالت پر منحصر ہے ان دونوں میں تفریق صرف ان طریقوں کی تھی جو کیمیادان اپنے کام میں لائے تھے۔
علم کیمیا باقاعدگی سے سائنس علم کے طور پر تب رائج ہوا جب انتوئینی لیوائژر (Antoine Lavoisier) نے
(The law of conservation of mass)
پیش کیا۔
کیمیا کی بنیادی شاخیں مندرجہ ذیل ہیں:

..نامیاتی کیمیا۔۔ Organic Chemistry..
کاربن اور ہائیڈروجن کے آب کاربن(hydrocarbons) اور ان سے ماخوذ مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

غیر نامیاتی کیمیا .. Inorganic chemistry
غیر نامیاتی مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

طبیعی کیمیا ۔۔ Phisical chemistry
مادے کی ترکیب اور طبیعی خواص کے درمیان تعلق اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہے۔

تجزیاتی کیمیا ۔۔ Analytical chemistry
کیمیائی نمونے کے اجزا کی علیحدگی، ان کا تجزیہ اور پہچان اینالیٹیکل کیمسٹری کہلاتا ہے۔

حیاتیاتی کیمیا ۔۔ Bio chemistry
کیمیا کی وہ شاخ جو جاندار اجسام میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی ساخت، ترکیب اور ان کے کیمیائی عمل کے مطالعہ سے متعلق ہے بائیو کیمسٹری کہلاتی ہے۔

نیوکلیائی کیمیا ۔۔ nuclear chemistry
اس میں تابکاری، نوکلیائی عملیات اور نوکلیائی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

صنعتی کیمیا ۔۔ industrial chemistry
کیمسٹری کی وہ شاخ جس میں تجارتی پیمانے پر مرکبات بنانے کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، انڈسٹریل کیمسٹری کہلاتی ہے۔

ماحولیاتی کیمیا ۔۔ environmental chemistry
حیاتیاتی کیمیائی (biochemical) مظاہر جو قدرتی طور پر زمین پر رونما ہوتے ہیں کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

ترجمہ و ترتیب ۔۔۔ اویس احمد

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں