21

علمِ موت 📖 Thanatology

علمِ موت 📖 Thanatology
تحریر سلمان رضا اصغر صاحب

ہر دم , ہر قدم پہ ہمارے دم کے ساتھ موت چلتی پھرتی رہتی ہے اور بس پلک جھپکتے ہی ہمیں دبوچنے کو بےقرار رہتی ہے لیکن پھر بھی ہم کبھی کبھار ہی اس کے بارے میں سوچتے ہیں. بڑھتی ہوئی عمر کی رفتار کو سست کرتی اور موت کے منہ سے واپس کھینچ لانے والی ادویات اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم کئی بار اس کو کامیابی سے چکمہ دیتے آرہے ہیں, ایک وہ وقت تھا کہ موت کسی مہلک وبا پھیلنے پر گاؤں کے گاؤں چاٹ جاتی تھی اور اب ہم ان وبائی امراض و وجوہات کو قابو کر کے موت کے ہاتھ پیر کسی حد تک باندھ چکے ہیں, لیکن اسے مکمل بے بس کرنے میں تاہم ناکام ہی ہیں.

تقریباً تمام معاشرے اس کے تذکرے پر دم بخود ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں سوچنے سے گریز کرتے ہیں, لیکن کچھ سائنسدان اور تحقیق کاروں کے لئے اس کا کھوجنا ایک دلچسپ امر ہے اور ایک پورا مکتبہ فکر اسی موت اور مرنے کے مراحل جیسے دکھ, درد, تکلیف, ذہنی کیفیت اور معاشرے پر اس کےا ثرات کا مطالعہ کرنے میں مشغول ہے جسے علم موت \تھینٹالوجی thanatology کہتے ہیں. سائنسی سوچ پیدا کر کے اور سائنسی علوم کی آگاہی و حصول سے بہت سے لوگ موت کے انجانے خوف اور معاشرے میں پھیلے توہمات اور غلط معلومات سے جان چھڑا و بچا سکتے ہیں, لیکن عموماً مشاہدے میں آتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زنگ آلودہ توہماتی زنجیریں بیشتر لوگوں کا من پسند گہنا ہیں.

موت سے جڑی باتوں اور کچھ افسانوں نے لوگوں کو اس قدر خوفزدہ کر ڈالا ہے کہ موت کے نزدیک ہوتے ہی وہ موت کے اپنی طرف آنے سے پہلے ہی اس کی جھولی میں خود کو ڈال دیتے ہیں اور پورے معاشرے کو سوگوار کرنے کے علاوہ ان میں خوف و ہراس کی لہریں بھی دوڑا جاتے ہیں اور موت یا کسی بھی چیز کو صیح طور پر ناجاننے کے باعث پیدا ہونے والا خوف اس کی سب سے بڑی وجہ ہے .ایک صدی قبل ایک انسان کینسر جیسے مہلک مرض سے مر جاتا تھا آج جدید طبی ٹیکنالوجی نے اس کو جینے کی امید دی ہے, اسی طور کئی امراض جو ماضی میں ناقابل علاج اور سیدھے موت تک لیجاتے تھے ان کے بھی توڑ موجود ہیں اس طبی انقلاب نے کچھ لوگوں اس غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ وہ موت کو چکمہ دیکر مرنے سے ہمیشہ بچے رہیں گے تو وہ موت کو اپنے سامنے محسوس کرنےکے احساس کو بھی کھو بیٹھے ہیں اس حقیقت کو بھلا بیٹھے ہیں کہ آخر کار وہ ایک دن مر جانے والے ہیں. بس انہیں ادویات ہی خود کوان کے آخری انجام سے بچا لیجانے والی سب سے اہم چیز لگتی ہے.

علمِ موت جیسا موضوع گو کے قدرے عجیب اور ڈرا دینے والا لگتا ہے لیکن یہ حیاتیاتی نظام اور ادویات کو سمجھنے کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہے. بنیادی طورپر اس میں میں مرنے کے حیاتیاتی میکانزم اور مرنے کی حالت میں یا موت سے بچ جانے پر ہونے والے نفسیاتی اثرات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے. علمِ موت thanatology میں سائنسی تفتیشی forensic طریقہ کار کے استعمال کے ساتھ ساتھ بےحد بیمار یا مہلک مرض میں گرفتار انسان کے جسمانی درد و تکلیف اور ذہنی کرب کے عمل کا نفسیاتی پہلوؤں سے بھی احاطہ کیا جاتا ہے, زندگی سے مایوس یا کسی عزیز کی موت پر کسی کے غیرمعمولی نفسیاتی کیفیت و حالت سے دوچار ہونے پر اس کی رہنمائی کے طریقے کی تربیت دی جاتی ہے.

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں