11

عصبی خلیے Neurons اور انکی اقسام

🎭 عصبی خلیے Neurons اور انکی اقسام 🎭
تحریر سلمان رضا اصغر
نیورونز یا عصبی خلیے دماغ اور اعصابی نظام کی بنیاد ہیں, نیورونز کے ذریعے ہی بیرونی دنیا کا احساس ظہور پذیر ہوتا ہے, کیونکہ یہی تمام معلومات دماغ تک پہنچاتے ہیں.نیورونز دراصلexcites ہو کر الیکٹریکل سگنلز پیدا کرتے ہیں جنہیں nerve impulses کہا جاتا ہے.ان ہی الیکٹریکل سگنلز کے ذریعے نیورونز آپس میں معلومات کا تبادلہ کر پاتے ہیں. جب نیورونز excite ہوتے ہیں تو وہ پیغامات کے سگنلز کو لیجانے والے خاص کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جنہیں نیوروٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے, یہی نیوروٹرانسمیٹر ایک نیورون سے دوسرے نیورونز تک معلومات کو منتقل کرتا ہے. نیوروٹرانسمیٹرز کی اہم مثالیں ڈوپا مین, سیروٹینن گلاسائن ہیں.نیوروٹرانسمیٹرز روزمرہ زندگی میں بے حد اہم کردار نبھاتے ہیں , یہ ہماری سانس لینے کے عمل سے دل کی دھڑکن تک ,غرض سب ہی جسمانی اور نفسیاتی افعال کو ترتیب دیتے ہیں. سائنسدان اب تک ان نیوروٹرانسمیٹرز کی صیح تعداد کا پتہ نہیں لگانے میں ناکام رہے ہیں لیکن سو 100 سے زائد ان اہم کیمیائی پیغام رساں مادوں کو دریافت کر چکے ہیں .

عصبی خلیوں کی تین اقسام ہیں پہلی حسی Sensory نیورونز دوسرے ریلے Relay اور پھر موٹر نیورونز. نیورونز کی ہر ایک قسم کے دوسرے قسم کے نیورونز سے مختلف کام کرنے کے لئے نا صرف وقف ہوتے بلکہ اپنے افعال انجام دینے کی مناسبت سے جسم کے صرف انہی حصوں میں موجود ہوتے ہیں جہاں ان کی قدرتی طور ضرورت ہے. تمام قسم کے نیورونز اعصابی نظام یا نروس سسٹم میں رہتے ہوئے اپنےاپنے کردا ادا کرتے ہیں.

🎭 حسی یا حسیات کے عصبی خلیے Sensory neurons دراصل بیرونی معلومات لینے والے اعضا یا ریسیپٹرز جیسے آنکھ, کان, زبان اور جلد کے عصبی خلیے ہیں اور یہ الیکٹریکل سگلنلز یا nerve impulses کو حرام مغز اور مرکزی دماغ کے حصوں تک پہنچاتے ہیں جہاں impulses کی ڈی کوڈنگ sensations کی صورت یعنی دیکھنا سننا چکھنا چھونا میں ہوتی ہے. تمام حسی عصبی خلیوں کی پہنچ دماغ تک نہیں ہوتی, کچھ عصبی خلیے حرام مغز تک ہی محدود ہوتے ہیں جس سے کسی ملنے والے پیغام پر فوری ردعمل کے طور پر اضطراری حرکت reflex action کا نظام قائم ہوتا ہے.

🎭معلومات یا سگنلز کا Sensory اور motor نیورونز کے درمیان تبادلہ کرنے کا کام Relay نیورونز کرتے ہیں. ریلے نیورونز Relay neurons دماغ و حرام مغز میں موجود ہوتے ہیں اور حسیاتی نیورونز sensory اور حرکت کے سگنلز دینے والے عصبی خلیوں یا موٹر نیورونز motor neurons کے درمیان یہ پل کا کرادر ادا کرتے ہیں, حسی عصبی خلیوں سے والی معلومات کو موٹر نیورونز کے ساتھ شیئر کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں, یعنی یہ حسیات کے عصبی خلیوں سے ملنے والے پیغامات پر موٹر نیورونز اپنا ردعمل دینے کے لئے پیغامات دیتے ہیں.

🎭 موٹر نیورونز جسم کے عضلات کی حرکات پر اپنا قابو رکھتے ہیں اور یہ مرکزی اعصابی نظام میں موجود ہوتے ہیں. جب موٹر نیورونز معلومات پا کر حرکت میں آتے ہیں تو یہ نیوروٹرانسمیٹرز کا اخراج کرتے ہیں.جس کے نتیجے میں عضلات اپنا ردعمل دیتے ہیں جس کا حاصل حصول حرکت ہوتی ہے.

دماغ میں نئے عصبی خلیوں یا نیورونز کے بننے کے عمل کو نیوروجنینیس neurogenesis کہتے ہیں, اور یہ نیوروجنینیس ایمبریو embryo بننے کے وقت انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن یہ پیدائش کے بعد بھی دماغ کے کچھ حصوں میں جاری رہتا ہے جوایمبریومیں ہونے والے نیوروجنینیس سے بالکل مختلف ہوتا ہے, دماغ پر کی گئی تحقیق میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ نیوروجنینیس کا عمل ماں کی گود سے موت کی گود تک جاری و ساری رہتا ہے.

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں