19

عرض بلد، طول بلد اور بین الاقوامی خطِ تاریخ

عرض بلد، طول بلد اور بین الاقوامی خطِ تاریخ

بنیادی معلومات ۔۔ ترتیب و انتخاب ۔۔۔ زاہد آرائیں

عرض بلد (Latitude)

سطح ارض پر کسی مقام کا خط استوا سے شمالا یا جنوبا فاصلہ، جس کی پیمائش زاویوں میں کی جاتی ہے، اس مقام کا عرض بلد ہے۔۔ خط استوا کا عرض بلد صفر ہے جب کہ قطب شمالی اور قطب جنوبی بالترتیب 90 درجے شمالی اور 90 درجے جنوبی عرض بلد مانا جاتا ہے۔ خط استوا پر قطبین کی طرف بڑھیں تو ہر 110 کلو میٹر پر 1 درجہ عرض بلد کا فرق پڑتا ہے۔ اس کا تعین بالعموم آلۂ سدس جیسے کسی آلے سے کیا جاتا ہے جو افق اور شمالی ستارے پولیرس جیسے کسی فلکی جسم کے درمیاں میں موجود زاویے کی پیمائش کرتا ہے۔ خط استوا سے یکساں فاصلے کے حامل نقاط کو ملانے والے فرضی خطوط عرض بلد کے متوازی خطوط کہلاتے ہیں۔ بالعموم استوا سے قطبین کی طرف جاتے ہوئے 5 درجے اور اس کے اضعاف پر آنے والے یہ خطوط نقشوں میں دکھائے جاتے ہیں۔

۔۔ طول البلد ۔۔

زمین کے گرد قطبین کے درمیان کھنچے ہوئے فرضی خطوط طول البلد کہلاتے ہیں۔ یہ خط استوا پر عموداً واقع ہوتے ہیں اور طول البلد کا ہر خط قطب شمالی سے شروع ہوتا، خط استواء کو قطع کرتا اور قطب جنوبی پہ جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ ان خطوط کی مدد سے کسی بھی معیاری نقشے پر کسی مقام کا پتہ لگایا جاتا ہے۔
طول البلد کو انگریزی میں Longitude کہتے ہیں۔
قطبین کو poles کہتے ہیں۔
اور خطِ استوا کو equator کہتے ہیں۔
طول البلد کو نصف النہار بھی کہتے ہیں۔ نصف النہار اولیٰ (prime meridian ) انگلستان کے مقام گرینویچ (Greenwich) سے گزرتا ہے اور اسے صفر درجہ طول البلد مانا جاتا ہے۔ 180 درجہ مشرق اور 180 درجہ مغرب کے طول البلد ایک دوسرے پر واقع ہوتے ہیں اور بین الا قوامی خط تاریخ بناتے ہیں۔

زمین اپنے محور پر مغرب سے مشرق کی طرف گھومتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ایک چکر پورا کر لیتی ہے۔ چونکہ دائرے کے 360 درجے ہوتے ہیں اس لیے زمین کے گرد بھی 360 طول البلد کھینچے گئے ہیں، جو شمالاً جنوباً واقع ہیں۔ یہ افقی خطوط ہو تے ہیں اور تمام طول البلد نصف دائروی شکل کے اور مساوی ہوتے ہیں۔ خط استوا پر ان کا باہمی فاصلہ 69 میل ہوتا ہے۔ ہر چار منٹ بعد ایک طول البلد سورج کے عین سامنے ہوتا ہے، یوں زمین ایک گھنٹے میں سورج کے سامنے 15 درجے طول البلد کا فاصلہ طے کر لیتی ہے اور 24 گھنٹوں میں 360 درجے مکمل کرکے پہلی حالت پہ آجاتی ہے۔

بین الاقوامی خطِ تاریخ (international date line)

ایک فرضی خط (لکیر) ہے، جو سطحِ زمین پر شمال سے جنوب تک نصف النہار اولیٰ (prime meridian) کے مخالف جانب (180 ڈگری کی دوری پہ) واقع ہے۔ ایک ہی وقت میں اس کے دونوں طرف دو مختلف تاریخیں ہوتی ہیں، یعنی مغربی حصے کی تاریخ مشرقی حصے کی تاریخ سے ایک دن آگے ہوتی ہے۔
بین الاقوامی خطِ تاریخ جاپان کے مشرق میں بحرالکاہل کے تقریباً وسط سے گزرتا ہے اور لگ بھگ 180 ڈگری کے طول البلد پر واقع ہے۔ نہ تو یہ خط بالکل سیدھا ہے اور نہ ہی اپنی اصل جگہ پر واقع ہے، کیونکہ بحرالکاہل میں کئی چھوٹے بڑے جزیرے ہیں اور اس خط کو کچھ مشرق یا مغرب کی طرف خم دے کر پورے جزیرے کو خط کے ایک طرف کر دیا گیا ہے، ورنہ ایک ہی جزیرے پر ایک ہی دن میں بیک وقت دو تاریخیں ہو جاتیں۔
دوران سفر اسے عبور کرنے سے تاریخ میں ایک دن کا فرق آ جاتا ہے۔ مثلا اگر کوئی 5 تاریخ کو بدھ کے دن اس خط پر مغرب سے مشرق کی طرف گزرے تو وہ اپنی گھڑی 24 گھنٹے یعنی پورا ایک دن پیچھے کر لیتا ہے اور اس طرح وہ دوبارہ منگل کے دن میں داخل ہو جاتا ہے اور تاریخ بھی ایک دن پیچھے چلی جاتی ہے یعنی 5 سے 4 ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس اگر کوئی 5 تاریخ کو بدھ کے دن اس خط پر مشرق سے مغرب کی طرف گزرے تو وہ اپنی گھڑی 24 گھنٹے یعنی پورا ایک دن آگے کر لیتا ہے اور اس طرح وہ جمعرات کے دن میں داخل ہو جاتا ہے اور تاریخ بھی ایک دن بڑھ جاتی ہے یعنی 5 سے 6 ہو جاتی ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں