38

عدسے کی تکبیر اور طاقت

عدسے کی تکبیر اور طاقت

_____________________
ظہور احمد کی وال سے

تکبیر:

’’جسم کی اونچائی اور شبیہ کی اونچائی کی نسبت کو تکبیر (Magnification) کہتے ہیں۔‘‘

تکبیر کو عام طور پر حرف m سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر شے کی اونچائی h ہو اور عدسے سے بننے والی شبیہ کی اونچائی ‘h تو عدسے کے ذریعے بننے والی تکبیر m کو ریاضیاتی طور پر اسطرح ظاہر کریں گے۔

m = شبیہ کی اونچائی/شے کی اونچائی = h’/h

عدسے سے پیدا کی گئی تکبیر کا تعلق مناظری مرکز سے جسم کا فاصلہ p اور مناظری مرکز سے شبیہ کا کے فاصلے سے بھی ہے اسلیے اسطرح بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

m = شبیہ کی اونچائی/شے کی اونچائی = h’/h =q/p

عدسوں کی طاقت:-
عدسوں کی روشنی کو مرکوز یا غیر مرکوز کرنے کی صلاحیت ان کے طول ماسکہ (Focal length) پر منحصر ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر ایک چھوٹے طول ماسکہ رکھنے والا محدب عدسہ، بڑے طول ماسکہ رکھنے والے محدب عدسے کے مقابلے میں زیادہ غیر مرکوزیت پیدا کرتا ہے۔
کسی عدسے کے ذریعے روشنی کی شعاعوں کی مرکوزیت یا غیر مرکوزیت کا درجہ اس کی طاقت کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ عدسے کی طاقت کی تعریف اس کے طول ماسکہ کے مقلوب یا متقابل (reciprocal) کے طور پر کی جاتی ہے۔ عدسے کی طاقت کو P سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسے ریاضیاتی طور پر یوں لکھتے ہیں۔

P = 1/f

یہاں f عدسے کا طول ماسکہ ہے۔

بین الاقوامی نظامِ اکائیات میں عدسے کی طاقت کی اکائی ڈائیوپٹر (Diopter) ہے اور اسے علامت D سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر طول ماسکہ f میٹر میں ظاہر کیا جائے تو عدسے کی طاقت ڈائیوپڑ D میں ظاہر کی جاتی ہے۔
1 ڈائیوپڑ اس عدسے کی طاقت ہوگی جس عدسے کا طول ماسکہ f ایک میٹر ہو۔ یعنی

1 D = 1m^-1

محدب عدسے کا طول ماسکہ مثبت ہوتا ہے لہٰذا اس کی طاقت بھی مثبت جبکہ مقعر عدسے کا طول ماسکہ منفی ہوتا ہے اس لیے اس کی طاقت بھی منفی ہوتی ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں