143

عجائب کائنات ۔۔۔۔ پہلا حصہ

ہم اس تحریر میں سورج چاند اور زمین کے متعلق معلومات کے ساتھ ساتھ ان کے مدار، محوری گردشوں، ان کی عمر اور کیفیت کے متعلق پڑھیں گے۔

اصل موضوع پر آنے سے پہلے میں بڑے ہی ادب و احترام کے ساتھ یہاں مختصرًا دو باتیں دو عظیم طبقہ کے لوگوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
1-نمبر ایک سائنسی و دنیاوی علوم کے ماہر حضرات سے
2-نمبر دو دینی علوم کے جاننے والے دوست و احباب سے
ان سے گزارش یہ ہے کہ
اگر آپ کو سائنس اور مذہبی علوم میں تضاد نظر آتا ہے تو اپنا مطالعہ بڑھائیے۔۔۔مکمل تحقیق کیجئیے، تحقیق کے بعد بھی اگر سائنس مذہب سے ٹکرا رہی ہے یا مذہب سائنس سے ٹکراتا نظر آ رہا ہے تو ممکن ہے کہ ہم اور ہماری سائنس وہاں تک ابھی پہنچے ہی نہیں، اس بات کو سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہوئے جو بات قرآن پاک یا حدیث نے ہمیں بتائی ہے۔یعنی ہم محدود ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سائنس اور مذہب کو غلط کہنے لگ جائیں۔دوسری گزارش ان دوستوں سے ہے “جو کسی بھی سائنسی مضمون میں مذہبی ریفرنسسز اور آیات قرآنی وغیرہ کو قبول نہیں کرتے” کہ میرے بھائی دنیا کی کوئی ایسی کتاب یا علم کا مجموعہ دکھا دیں جس میں اس احسن انداز میں فلکیات پر بات کی گئی ہو جیسے قرآن نے کی ہے، یقیناً ایسا فلکیاتی علم قرآن کے علاوہ کسی اور ذریعے سے انسان کو عطا نہیں کیا گیا تو کیا پھر مضامینِ فلکیات میں قرآن میں بیان کردہ فلکیاتی علوم کو جگہ نا دینا ناانصافی نہیں ٹھہرتا ہے؟ ہر تخلیق اور ایجاد کے تذکرے میں اس کے خالق اور موجد کا تذکرہ جب تک نا کیا جائے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ تذکرہ انصاف پر مبنی نہیں ہوتا تو بحیثیت مسلمان ہم یہ بات مانتے کہ سورج چاند سیارے ستارے اور تمام کے تمام فلکیاتی اجسام کا خالق اللہ ہے تو پھر اس تخلیق میں اس کے خالق تذکرہ کیوں نہیں آنا چاہئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرمیوں کی رات میں کھلے آسمان تلے لیٹ کر بے پناہ وسعتوں کے حامل خلاء Space میں کبھی جھانکنے کی کوشش کریں تو بے شمار اَن گِنت جگمگاتے چھوٹے بڑے ستارے آپس میں سرگوشیاں کرتے نظر آتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ جب چاندنی راتیں آتی ہیں تو زیادہ چھوٹے اور دوری والے ستارے چاند کی چاندنی میں اپنا جلوہ حسن دکھانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو یوں لگتا ہے گویا یہ چھوٹے مہمان کائنات کی سیر کو نکل گئے ہیں اور اب چاند کے جانے پر ہی واپس اپنے اپنے گھر کا راستہ دیکھیں گے۔غروب آفتاب کے کچھ ہی دیر بعد جو ستارہ آپ کو مشرق کے کناروں پر ملے گا، رات کے دوسرے پہر وہ ستارہ آپ کے سر پہ پہنچا ہوگا اور رات کے اختتام پر اندھیرا غائب ہونے سے پہلے آپ کو وہی ستارہ مغرب کے کناروں سے الوداع کہتا ہوا نظر آئے گا، مطلب آسمانِ دنیا پر موجود تمام ستارے بھی اپنے اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں بالکل چاند اور سورج کے آنے جانے کی طرح۔جس طرح چاند ہماری زمین کے گرد گھوم رہا ہے اور ہماری زمین سورج کے گرد اور ہمارا سورج ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد، ایسے ہی کائنات کی ہر چیز اپنے اپنے مدار orbit پر چکر لگا رہی ہے۔سائنسی ترقی کے بعد سے ابھی تک کے مشاہدات اور فلکیاتی تحقیقات کے مطابق جو اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں، ان کے مطابق کائنات Univers میں اربوں کہکشائیں galaxies ہیں، ہر ایک کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں اور ان ستاروں کے ہمارے ستارے سورج کی طرح اپنے اپنے سیارے بھی ہوں گے پھر ان سیاروں کے اپنے چاند، یہ تمام کے تمام اپنے اپنے مدار میں چکر لگا رہے ہیں۔اس قدر مُنظَّم اور ریاضی کے قوانین کے عین مطابق کائنات کا یہ اربوں نوری سال “مُشاہداتی احاطہ” کی مسافتوں پر بچھا ہوا جال یقینا اپنے بنانے والے کی لامحدود علمی وسعتوں اور طاقتوں کی گواہی کے لئے کافی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین
سب سے پہلے ہمارے علم میں یہ بات ہونی چاہئیے کہ زمین ایک سیارہ ہے، ستارے اور سیارے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ستارہ اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے جب کہ سیارہ ستارے کی روشنی سے روشن رہتا ہے۔مزید یہ کہ سیارہ ستارے کی کشش ثقل کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے کسی اور اوبجیکٹ کے مدار میں دخل اندازی نہیں کرتا۔زمین حیاتِ انسانی کا واحد مَسکن اور ضروریاتِ زندگی سے مالا مال، کائنات کے اس وسیع و عریض فلکیاتی جنگل میں زندگی کی گہما گہمی سے بارونق اور مُزیّن، لاکھوں کھرب میلوں پر پھیلی اس کائنات میں لگ بھگ بارہ ہزار سات سو بیالیس کلومیٹر ڈائی میٹر رکھنے والا ہمارا سر سبز و شاداب اور پانی سے بھرپور سیارہ ہے۔
جس طرح زمین پر بعض علاقے تمام موسموں اور درجہ حرارت کی وجہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں اسی طرح نظام شمسی کے تمام سیاروں میں زمین بھی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔۔۔مثلا زمین سے سورج کی طرف نظر ڈالیں تو عطارد اور زہرہ جل رہے ہیں، اور دوسری طرف کے سیارے دیکھیں تو اس قدر ٹھنڈے ہیں کہ انسان کا ان سیاروں پر زندہ رہنا ناممکن ہے۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ زمین کے پاس وہ معتدل و سنہری علاقہ ہے جو پورے نظام شمسی میں کسی اور سیارے کے پاس نہیں ہے۔

ہمارے سیارے یعنی زمین کا ہمارے ستارے سورج سے اوسط فاصلہ چودہ کروڑ چھیانوے لاکھ کلومیٹر ہے۔۔۔زمین سورج کے گرد ہی چکر لگاتی ہے ایسا بالکل نہیں، بلکہ زمین سورج کے گرد چکر لگانے کے ساتھ ساتھ اپنے محور کے گرد بھی گھومتی ہے۔سورج کے گردایک لاکھ آٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک چکر پورا کرنے میں زمین کو تین سو پینسٹھ دن لگتے ہیں۔اب ہمارے ورطہ حیرت میں مبتلا ہونے کا وقت ہے، جب تین سو پینسٹھ 365 کو ملٹی پلائی کریں گے چوبیس کے ساتھ، ایک دن میں چوبیس گھنٹے ہیں اور سال میں تین سو پینسٹھ دن ہیں۔زمین ایک گھنٹے میں ایک لاکھ آٹھ ہزار کلومیٹر کا سفر کرتی ہے اور ایک سال میں آٹھ ہزار سات سو ساٹھ گھنٹے ہیں۔اب ہم زمین کے ایک گھنٹے میں طے کئے ہوئے فاصلے کو ضرب دیں گے ایک سال میں موجود 8760 گھنٹوں سے۔
108000×8760=946000000
زمین سورج کے گرد اپنے مدار پر چورانوے کروڑ ساٹھ لاکھ کلومیٹر ایک سال میں سفر طے کرتی ہے۔کیا سمندر، کیا پہاڑ، کیا دریا، جھیلیں اور جنگل صحرا۔غرض زمین پر موجود ہر ہر چیز زمین کے ساتھ ہر وقت ایک مسافر کی حالت میں رہتی ہے۔گویا زمین ایک بہت بڑے خلائی جہاز کی مانند ہمیں بشمول ہر چھوٹی بڑی چیز کے ہر وقت خلاء کی لامحدود وسعتوں میں لئے پھرتی ہے مگر شُتر بے مہار کی طرح نہیں بلکہ ایک خاص متعین کئے ہوئے اپنے مخصوص راستے پر۔تخلیقِ زمین کے دن سے لے کر زمین کا یہ سفر جاری ہے اور زمین کے فنا تک یہ سلسہ یونہی بغیر رکے، بغیر تھمے جاری و ساری رہے گا۔

زمین کا سورج کے گرد مدار ہر طرف سے ایک جیسا نہیں ہے۔۔۔بلکہ ایک طرف سے نزدیک اور دوسری طرف سے کم ہے۔ زمین اور سورج کا درمیانی فاصلہ پچاس لاکھ کلومیٹر تک بڑھتا گھٹتا ہے۔اب ہم آتے ہیں زمین کی محوری گردش کی طرف، رات اور دن کا آنا جانا صبح کے وقت سورج کے طلوع ہونے کا دلفریب نظارہ اور شام کے وقت غروب آفتاب کا حسین منظر، دوپہر کے وقت آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی اور زمین کے باسیوں کو تڑپا دینے والی حدت و شدت سے بھرپور دھوپ۔یہ سب کچھ یونہی نہی، بلکہ ایک مکمل منظم شدہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔زمین اپنے محور پر چار سو ساٹھ 460 میٹر پر سیکنڈ یا ایک ہزار 1000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے ہوئے تقریبا چوبیس 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا کرتی ہے۔اس دوران زمین اپنے مدار پرکم و بیش چھبیس لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔زمین کا اپنے محور کے گرد گھومنا ہمیں اس لئے معلوم نہیں ہوتا کہ ہم بذات خود زمین کے اوپر رہتے ہوئے اس کی ہر ہر حرکت کے ساتھ متحرک رہتے ہیں۔فرض کیجیئے آپ ایک آرام دہ گاڑی پر ہیں، ایسی گاڑی کہ جو ایک سو بیس 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے اور وہ اس قدر آرام دہ ہے کہ اتنی زیادہ رفتار کے باوجود اس کے اندر رکھا ہوا پانی سے بھرا گلاس بھی حرکت نا کرے تو مسافر کو کیا معلوم ہو گا اس گاڑی کا تیز رفتار چلنا اور حرکت کرنا۔زمین اس گاڑی سے بھی زیادہ آرام دہ یے کیوں کہ آج کی سائنسی اور اسلامی دونوں علوم سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لئے پہاڑوں کو میخوں کے قائم مقام زمین پر لگا دیا گیا ہے۔قدرت کی طرف سے کششِ ثقل کی لہروں اور موجوں کو اس قدر مُنَظَّم بنایا گیا ہے کہ زمین کیا۔۔۔کائنات کی ہر چیز کشش ثقل کی بدولت ہی اپنے اپنے مدار پر نہایت ہی منظم طریقے سے چکر لگا رہی ہے، کوئی اوبجیکٹ کسی دوسرے اوبجیکٹ سے نا ٹکراتا ہے نا ڈولتا ہے اور نا ہی خلاء کی بے پناہ گہری کھائیوں میں گرتا ہے۔

زمین کی محوری گردش معلوم کرنی ہو تو رات آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے رہیئے، چند لمحوں میں سر پر موجود مشکل سے نظر آنے والا ستارہ مغرب کی طرف دو قدم آگے بڑھ چکا ہو گا۔آپ کسی ویران جگہ میں پھنسے ہیں، جنگل صحرا یا تا حد نگاہ پھیلے کسی برفانی علاقے میں اور آپ کے پاس راستہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔۔۔ایسے میں زمین کا شمالی قطب معلوم کرنا ہو تو آسمان کے چاروں کناروں پر نظر ڈالئے، ذرا اوپر نظر کر کے دیکھئے، درمیانے درجے کی روشنی رکھنے والا ستارہ اپنی جگہ سے بالکل بھی ادھر ادھر نہیں ہو رہا ہے تو سمجھ لیجیئے کہ یہی زمین کا شمالی حصہ ہے اور جو ستارہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر رہا وہ قطب ستارہ ہے جسے انگلش میںPolaris سٹار کہتے ہیں۔زمانہ قدیم کے لوگ اور اب بھی صحراؤں، جنگلوں میں رہنے والے لوگ اسی سے راستہ معلوم کرتے ہیں۔زمین کے قطبین کے علاقوں میں بعض خطے ایسے بھی ہیں کہ جن میں چھ مہینے دن بسیرا کئے رکھتا ہے اور چھ مہینے تک رات کسی رانی کی طرح برف پوش علاقوں پر حکمرانی کرتی ہے۔۔۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کیوں کہ زمین اپنے محور کے گردصرف دائیں سے بائیں گھومتی ہے، اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف نہیں۔سورج کے سامنے بالکل سیدھی بھی نہیں بلکہ ترچھی حالت میں، اسی لئے چھ چھ ماہ بعد قطبین پر رات اور دن جلوہ افروز ہوتے ہیں۔چھ ماہ کے دن بھی کچھ خاصے گرم اور دھوپ والے نہیں ہوتے، دور کنارے کی طرف سے سورج کی روشنی اور حرارت ایٹمو سفیئر (atmosphere) سے لڑتے ہوئے قطبین کے اُن برفانی اور یخ بستہ علاقوں کو گرم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔قطبین کے علاقوں میں انٹارکٹکا، آرکٹک، گرین لینڈ، ناروے، کینڈا، ارجنٹائن اور الاسکا وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔محوری گردش کے دوران زمین کے جو علاقے مکمل طور پر سورج کے سامنے رہتے ہیں ان کا درجہ حرارت بھی اسی قدر زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ افریقہ، جنوبی ایشیا اور امریکہ کے کچھ خطے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند
زمین کا واحد قدرتی سیارچہ
سیارچہ اس خلائی جسم کو کہتے ہیں جو کسی سیارے کے تابع ہو جیسے چاند ہماری زمین کے تابع ہے اور ہماری زمین ایک سیارہ ہے۔مصنوعی سیارچے ان اجسام کو کہتے ہیں جو انسان نے زمین کے مدار میں چھوڑے ہیں جنہیں سیٹلائٹس بھی کہا جاتا ہے۔زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر دور رہ کر زمین کے گرد گھومنے والاچاند بھی زمین ہی کی طرح اپنے مدار پر بھی چکر لگاتا ہے اور اپنے محور پر بھی لیکن اس کا مدار اور محوری گردش زمین سے کچھ مختلف ہے۔چاند کی کشش ثقل زمین کی کشش ثقل سے چھ گنا کم ہے۔تقریبا ایک کلومیٹر سے کچھ زیادہ فی سیکنڈ کی رفتار سے چاند زمین کے گرد اپنا ایک چکر ستائیس اعشاریہ تیس27.30 دنوں میں پورا کر لیتا ہے۔ہم زمین سے چاند کا صرف ایک ہی رخ کیوں دیکھ پاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں چاند کے متعلق آپ کو حیرت ناک معلومات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چاند کا orbital period اور rotational period برابر ہے۔یعنی جس طرح چاند زمین کے گرد ستائیس اعشاریہ تیس دن میں ایک چکر پورا کرتا ہے بالکل ایسے ہی اپنے محور کے گرد بھی ستائیس اعشاریہ تیس دنوں میں ایک چکر پورا کرتا ہے۔زمین کی نہایت طاقت ور کششِ ثقل نے چاند کو جکڑ کے اس کی محوری گردش کو نہایت سست رفتار کر دیا ہے، مطلب چاند کی سپننگ رفتار نہایت سست ہے، اسی سست رفتاری کی بدولت زمین سے چاند کا ایک ہی رخ ہم دیکھ سکتے ہیں۔اس کی محوری سست رفتاری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب چاند پر دن چڑھتا ہے اور دھوپ اپنا آپ دکھانا شروع کرتی ہے تو پھر آئندہ پندرہ دن تک وہاں رات نہیں آتی، پندرہ دن تک مسلسل دھوپ میں رہنے کے باعث چاند کی اناستھرو سائٹ نامی چمکیلے پتھر سے بنی پرت ایک سو بیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کو چھونے لگ جاتی ہے۔جب کہ پندرہ دن کی رات کے دوران یہی تپتا ہوا چاند کا چہرہ مائنس ایک سو تہتر “-173” ڈگری سینٹی گریڈ کی یخ بستہ ٹھنڈ میں ڈوب جاتا ہے۔

نا جانے کیا کیا راز ہوں گے چاند کی ان یخ بستہ ویران راتوں میں، تیرہ تیرہ ہزار فٹ گہرے اور تا حدِ نگاہ پھیلے بڑے بڑے گڑھوں میں یہ راتیں اور بھی خوفناک ہوتی ہوں گی۔زندگی کی رونق اور شور و غل سے خالی چاند کی گہری اندھیری وادیاں کسی ڈراؤنی فلم کے منظر سے کم نہیں ہوں گی۔یاد رہے چاند پر شہابیوں کے گرنے کی وجہ سے جو گڑھے موجود ہیں ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔۔۔یہ گڑھے عام چھوٹی دوربین سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ان گڑھوں کے قطر “Diameter” کا سائز ایک کلومیٹر سے لے کر کئی سو کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ابھی تک چاند پر معلوم کئے گئے گڑھوں میں سب سے بڑا گڑھا جنوب قطب کی طرف دیکھا گیا ہے، جو دو ہزار پانچ سو کلومیٹر وسیع اور تیرہ کلومیٹر بیالیس ہزار فٹ سے زیادہ گہرا ہے۔
“کراچی اور لاہور کے آنے اور جانے کے سفر والے راستے کو اگر اس گڑھے کے درمیان میں بچھا دیا جائے تو یہ گڑھا اس سے بھی بڑا ہے
اور گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر ماؤنٹ ایورسٹ پہاڑ کو اس گڑھے میں رکھ دیا جائے تو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے کے لئے اوپر کی جانب نہیں بلکہ چاند کی سطح سے تقریباً چودہ ہزار فٹ نیچے کی طرف سفر کرنا پڑے گا”
ابھی تک کی تحقیقات کے مطابق یہ چاند پر سب سے پرانا، بڑا اور گہرا گڑھا ہے۔

چاند پر دن اور رات کا یہ لمبا دورانیہ چاند کی سست رفتار محوری گردش کی وجہ سے ہے۔چاند کی روشنی میں نہائی ہوئی رات ملکہ قلوپطرہ کے حسن سے کچھ کم حسین نہیں ہوتی، زمانہ قدیم سے محبوب کا حسن چاند کی تشبیہ سے واضح کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔اور ایسا کرنے والے حق بجانب تھے، چودھویں رات کا پورا چاند اور پہاڑی منظر ہو، ایسی خوبصورت جگہ پر درختوں کے درمیان میں سے شفاف پانی کا چشمہ بہہ رہا ہو، چشمے کے صاف پانی پر چاند کی چاندنی رقص کر رہی ہو اور بہتا ہوا پانی جھنکار کی آواز دے رہا ہو تو ایسے میں محبوب کا حسن یاد آنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔چاند صرف ہماری راتوں کو روشن کرتا ہے ایسا بالکل نہیں، بلکہ چاند کی منزلیں مقرر ہیں، ان منزلوں سے مہینوں اور دنوں کا حساب زمانہ قدیم سے لگایا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ چاند کی کشش ثقل کی وجہ سے ہی زمین کے سمندروں کی تازگی برقرار رہتی ہے، مد و جزر بھی اسی نظام کے تحت قائم رہتا ہے۔۔۔اگر یہ نظام نا ہو تو سمندر کا پانی ایک جگہ کھڑے کھڑے کسی جوہڑ کی طرح باسا ہو جائے گا اور تمام آبی حیات و جاندار ختم ہو جائیں گی۔مُحققینِ فلکیات کے مطابق چاند کی کشش ثقل سمندروں میں طغیانی پیدا کرتی ہے اور پھر سمندروں کی یہ طغیانی چاند پر اپنی زور آزمائی کرتی ہے جس کے نتیجے میں ہر سال چاند زمین سے تین اعشاریہ آٹھ “3.8” سینٹی میٹر دور ہو جاتا ہے۔اگر یہ سلسہ جاری رہا تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے بشرطیکہ تب تک زمین اور اس کے باسی زندہ رہے تو جب زمین سے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔وہ اس طرح کے ابھی چاند زمین کے نزدیک ہے تو یہ سورج کو گرہن کے وقت چھپا لیتا ہے ورنہ اس قدر بڑے سورج کو چھپانا چاند جیسے چھوٹے سے سیارچے کے بس میں کہاں! عطارد کو ہی لے لیجیئے، طلوع شمس کے وقت ہم سورج کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اس کے آگے عطارد ہوتا ہے۔۔۔سورج کو چھپانا تودور کی بات ٹیلی سکوپ کے بغیر عطارد اپنا وجود تک ثابت نہیں کروا سکتا۔
ان باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کائنات شُتر بے مہار کی طرح بالکل نہیں ہے اور نا ہی خود بخود وجود میں آئی بلکہ کوئی ایک ایسی ہستی ہے جس نے یہ خوبصورت اور وسیع و عریض کائنات کو بنایا ہے۔کائنات کی ہر ہر چیز ایک منظم اور باضابطہ نظام میں جکڑے ہوئے اپنی اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے۔یہ کائنات عقل و شعور سے بالاتر ہے مگر اس کی وسعتوں، پچیدگیوں اور اعداد و شمار کو دیکھنے والا اس کے بنانے والے کی مہارت اور کاریگری سے انکار نہیں کر سکتا۔زمین اور چاند کے مدار، محوری گردشیں اور لمبے چوڑے فاصلے خود میں ایک بڑا پن رکھتے ہیں، لیکن اب ذرا اپنی عقل و خرد کے تمام دروازے کھول لیجئے۔۔۔کیوں کہ اب ہم جن فاصلوں اور دوریوں کی بات کرنے لگے ہیں ان کے سامنے اوپر مذکور فاصلے اور مدار نہایت چھوٹے فاصلے لگیں گے۔
جاری ہے ۔۔۔ حصہ دوم کا لنک 👇

عجائبات کائنات ۔۔۔۔ دوسرا حصہ

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں