59

شہابیوں میں “زندگی” کے لئے اہم شوگر کے مالیکیلوز دریافت: رضاالحسن

سائنسدانوں نے شہابیوں میں زندگی کے لئے اہم شوگرز دریافت کر لیں۔ یہ دریافت ماضی میں کی گئی شہابیوں میں زندگی کے لئے ضروری حیاتیاتی مرکبات کی دریافتوں میں نہایت اہم اضافہ ہے۔ یہ اس مفروضے کے لئے بھی نہایت اہم دریافت ہے کہ ایسٹرائیڈز میں کیمیائی تعاملات کے ذریعے زندگی کے اہم اجزاء وجود میں آ سکتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ شاید ماضی بعید میں زمین پر ہونے والی شہابیوں کی بارش نے ایسے ہی زمین پر زندگی کے اہم بلڈنگ بلاکس لانے میں مدد کی ہو۔

ان شہابیوں میں دریافت ہونے والی شوگرز میں رائبوز (Ribose)، ایریبینوز (Arabinose) اور زائیلوز (Xylose) شامل ہیں۔

رائبوز ایک اہم حیاتیاتی بلڈنگ بلاک ہے۔ یہ آر این اے (رائبو نیوکلئیک ایسڈ) کا ایک اہم حصہ ہے۔ آر این اے (RNA) ایک پیغام رساں مالیکیول کی طرح کام کرتا ہے جو ڈی این اے سے جینیاتی ہدایات نقل کر کے رائبوسومز کو دیتا ہے اور رائبوسومز اس RNA کی طرف سے لائی گئی ہدایات کو پڑھ کر جسم میں خاص پروٹینز بناتے ہیں جو زندگی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔

اس حالیہ دریافت نے زمین پر زندگی کے آغاز کے متعلق ہماری سمجھ کو مزید مشکل کر دیا ہے۔

سائنسدانوں نے اس سلسلے میں نہایت باریکی سے اپنے نمونوں(Samples) کا معائنہ کیا کہ کہیں یہ زمین پر ان سے contaminate نہ ہو گئے ہوں۔ لیکن جو کاربن ایٹمز ان شوگر مالیکیلوز میں پائے گئے وہ زمین سے مختلف تھے۔ زمین پر موجود زندگی ترجیحاً کاربن-12 سے بنی ہے جبکہ ان شہابیوں سے دریافت ہونے والی شوگر میں کاربن-13 موجود ہے جو کاربن کا ہی ایک دوسرا آئسوٹوپ ہے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شوگر واقعی خلا سے ہی آئی ہے۔

زندگی کے لئے ضروری کئی دوسرے اہم بلڈنگ بلاکس جیسا کہ “ایمائنو ایسڈز” اور “نئیوکلیو بیسز” پہلے بھی کئی شہابیوں پر مل چکے ہیں لیکن زندگی کا ایک اہم بلڈنگ بلاک “شوگر” ان میں کبھی نہیں ملا تھا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس ماورائے زمین (Extraterrestrial) شوگر نے ہی شاید زندگی سے پہلے زمین پر RNA کی تشکیل میں حصہ ڈالا ہو جس سے آگے زندگی شروع ہوئی۔

غیر حیاتیاتی کیمیائی تعاملات سے حیاتیاتی زندگی کیسے وجود میں آئی؟ یہ انسان کے لئے ہمیشہ سے نہایت پراسرار سوال رہا ہے۔
“ڈی این اے” زندگی کے لئے ایک سانچے کی طرح ہے جس میں جاندار کے متعلق ساری ہدایات موجود ہوتی ہیں۔ تاہم RNA بھی اپنے ساتھ معلومات رکھتا ہے۔ بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پہلے RNA وجود میں آیا جس کی جگہ بعد میں ڈی این اے نے لے لی کیونکہ آر این اے میں ایسی قابلیت ہوتی ہے جو ڈی این اے میں نہیں ہوتی۔
آر این اے دوسرے مالیکیلوز کی مدد کے بغیر اپنی نقلیں بنا سکتا ہے۔ یہ ایک کیٹالسٹ کی طرح کام کرتا ہوا کیمیائی تعاملات کو شروع یا تیز کر سکتا ہے۔ نئی تحقیقات اس بابت بتاتی ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ ڈی این اے سے پہلے آر این اے ہی زندگی کی مشینری چلاتا تھا۔

سائنسدان ابھی مزید شہابیوں کا باریک معائنہ کریں گے تاکہ پتا چل سکے کہ یہ شوگر کتنی مقدار میں موجود ہے۔ سائنسدان یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اس ایلین شوگر کے مالیکیلوز “لیفٹ ہینڈڈ بائس” ہیں یا رائٹ ہینڈڈ بائس”۔ کچھ مالیکیلوز بلکل ایک دوسرے کا اُلٹ امیج ہوتے ہیں جیسے ہمارے دونوں ہاتھ ایک دوسرے کا mirror image ہیں۔ زمین پر موجود زندگی “لیفٹ ہینڈڈ ایمائنو ایسڈز” جبکہ “رائٹ ہینڈڈ شوگر” استعمال کرتی ہے۔ اس کا اُلٹ بھی ہو جائے تو مسئلہ تو کوئی نہیں ہو گا لیکن سائنسدان صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زمین پر یہ ترجیح کہاں سے آئی؟
اگر کسی ایسٹرائیڈ وغیرہ میں کوئی ایسا پراسیس ہوتا ہے جو کسی ایک ورائٹی کو دوسری پر ترجیح دیتا ہے تو شاید زمین پر بھی ماضی میں شہابیوں کی بارش نے اس خاص ورائٹی کو اس قدر وافر کر دیا ہو کہ زندگی نے اسی سے اپنا آغاز کیا ہو۔

سائنسدان اس ڈیٹا کو دوسرے ایسٹرائیڈز پر بھیجے گئے اسپیس کرافٹس کے لائے گئے نمونوں سے بھی ملا کر جانچ کریں گے۔ یاد رہے دسمبر 2020 میں ایسٹرائیڈ Ryugu سے اسپیس کرافٹ نمونے لیکر زمین پر واپس پہنچ رہا ہے۔

https://www.nasa.gov/press-release/goddard/2019/sugars-in-meteorites

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں