12

سیارہ وینس(زہرہ)

مصنف :- طلحہ سعید (الکیمیاء)
سیارہ وینس(زہرہ)
سیارہ وینس کی. معلومات پر مختصر مگر جامع نوٹ

نظامِ شمسی کا دوسرے نمبر پر سورج کے قریب موجود سیارہ وینس جو کہ نظامِ شمسی کا چھٹا بڑا سیارہ ہے…. یہ سیارہ بہت چمکدار ہے اس کی وجہ اس کے ایٹموسفیئر پر موجود سیلفیورک ایسڈ کے گہرے بادلوں کی موجودگی ہے… جی ہاں سلفیورک ایسڈ جسے زمین پر کیمسٹری کے بادشاہ جابر بن حیان نے ایجاد کیا تھا… یہ ایک انتہائی خطرناک کیمیکل ہے… ہمارے نظامِ شمسی میں دو سیارے ایسے ہیں جن کے چاند نہیں ہیں… ایک مرکری اور دوسرہ وینس… وینس کے انسائیکلوپیڈیا کی بات کرتے ہیں…
وینس کا ڈایامیٹر 12104 کلومیٹر ہے جبکہ اس کا ماس 49000000000000000000000000 کلو گرام ہے…
وینس سورج سے فاصلہ 108میلین کلومیٹر ہے…
وینس 225 دنوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے… اور 243 دنوں میں اپنا روٹیشن پیریڈ مکمل کرتا ہے….
وینس کی سطحی کشش ثقل 8.9 میٹر پر سیکنڈ ہے جو کہ زمین سے کم ہے…. وینس سورج سے قریب ترین ہونے کے باعث اس کا سطحی درجہ حرارت 462 ڈگری سیلسئیس ہے… اس وجہ سے یہ نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ گرم سیارہ ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے… اس سیارے پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اپنے اندر حرارت کو جذب کر لیتی ہے اور اس سیارے کو گرم ترین سیارہ بنا دیتی ہے… اس کی سطح تک دیکھنا بہت مشکل ہے جس کی وجہ بھی سیلفیورک ایسڈ کے گہرے بادل ہی ہیں… گہرے سیلفیورک ایسڈ کے بادل اور گرد کے ذرات کی کثرت کی وجہ سے زیادہ تر روشنی واپس خلا میں مڑ جاتی ہے جس کے باعث یہ سیارہ زیادہ چمکدار ہے… اور کاربن ڈائی آکسائیڈ ہیٹ کو اس کے ایٹموسفیئر میں ہی رکھتی ہے… باہر نہیں جانے دیتی…. اور یہاں ایک بڑی مقدار میں گرین ہاؤس ایفیکٹ بنتا ہے…
وینس کا ایٹموسفئیر تو کاربن ڈائی آکسائیڈ نائٹروجن اور سیلفیورک ایسڈ کے علاوہ گندھک اور تیزاب پر بھی مشتمل ہے… گہرے سیلفیورک ایسڈ کے بادلوں کے باعث یہاں ہونے والی بارش میں بھی سیلفیورک ایسڈ موجود ہوتا ہے… اس سیارے پر زندگی قریب قریب ناممکن ہے… وینس کی سطح پر ہوا کا دباؤ زمین سے 90 یا 92 گناہ زیادہ ہے… یعنی اگر بغیر کسی مخصوص لباس کے وہاں جائیں تو ہمارے دماغ کی شریانیں بھی پھٹ سکتی ہیں… اور سانس لینے میں بھی انتہائی دقت ہوگی… ہمارے اوپر ہوا کا 280 من دباؤ ہے اور اتنا ہی دباؤ ہمارے اندر باہر کی جانب ہے… اندرونی اور بیرونی دباؤ برابر ہونے کی وجہ سے ہم بآسانی سانس لے سکتے ہیں… اور سکون سے رہ سکتے ہیں… اگر کوئی انسان بغیر کسی اسپیس سوٹ کے خلاء میں چلا جائے تو وہاں ہوا کا بیرونی پریشر نہ ہونے کی وجہ سے اندرونی پریشر بیرونی کی نسبت بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کے جسم کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں… یعنی انسان کا جسم خلاء میں بغیر خلائی لباس کے ایک بم کی حیثیت رکھتا ہے…. چاند کے بعد سب سے زیادہ چمکنے ولا سیارہ وینس ہی ہے….
وینس کا اندرونی نقشہ زمین جیسا ہی ہے… اس کے بھی تین اندرونی اور ایک بیرونی حصے ہیں.. سطحی حصہ کرسٹ اندرونی مینٹل اور تیسرا اندرونی آؤٹر کور اور چوتھا انر کور ہیں. یہی حساب زمین کا بھی ہے… وینس سیارے پر فلحال تو کوئی پانی کا ذریعہ دریافت نہیں ہوا… اگر وینس پر فیوچر میں پانی مل بھی جاتا ہے تو پھر بھی وہ سیارہ رہنے کے قابل نہیں ہوگا… اس پر ہونے والی تیزاب کی بارش اور گرمی انسان کو پگھلا سکتی ہے… اور وہاں پر ہوا کا دباؤ بھی رہنے کے قابل نہیں ہے…. بہت سے میشن وینس کی جانب روانہ کیے گئے ہیں.. مگر انسانیت کی رہائش کے لیے تاحال کوئی خوش خبری نہیں ملی…..
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے….

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں