71

سچ کا سراب – وہارا امباکر

گاجر کھانے سے نظر تیز ہو جاتی ہے۔ آپ اپنے دماغ کا صرف دس فیصد استعمال کرتے ہیں۔ وٹامن سی سے زکام ٹھیک ہو جاتا ہے۔ جتنے برے حالات اب ہیں، پہلے نہ تھے۔ ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔


نہیں، نہیں، نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں لیکن بہہت سے لوگ ان باتوں کو ٹھیک سمجھتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے۔ حقیقت اہم نہیں۔ کسی فقرے سے مانوس ہوناا اہم ہے۔ یہ مارکیٹنگ اور سیاست کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔ جو دماغ کے لئے پراسس کئے جانا آسان ہو، وہ ہمارے لئے سچ بن جاتا ہے۔ دہرائے جانا اس میں مدد کرتا ہے۔ یہ سچ کا سراب کہلاتا ہے۔

اگر آپ نے پہلے کوئی بات سنی ہے تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ آپ اسے سچ سمجھیں گے (خواہ یہ ٹھیک ہو یا نہیں)۔ اس پر کئے والے تجربے میں ہر دو ہفتے بعد لوگوں سے کچھ فقروں کے سچ یا جھوٹ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان سیشنز کے دوران تجربہ کرنے والوں نے بس ایسے ہی چند باتیں کہیں (کچھ غلط اور کچھ صحیح) جن کا تعلق اس سیشن سے نہیں تھا۔ ان کو بڑا ہی واضح نتیجہ ملا۔ پچھلے ہفتوں میں جس نے وہ جملے سنے تھے، اس بات کا امکان بہت بڑھ گیا تھا کہ وہ ان کو سچ کہے گا۔ حالانکہ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے یہ فقرہ پہلے سنا ہے۔ کسی خیال کو سننے سے اس کے بارے میں بنی رائے پر فرق پڑتا ہے۔”سچ کے سراب” سے ان لوگوں کو زیادہ خبردار رہنے کی ضرورت ہے جو مسلسل ایک ہی طرح کے خیالات رکھنے والوں کے درمیان ہی رہتے ہیں۔ اور ایک ہی طرح کی باتیں سنتے رہتے ہیں۔

اور دماغ اس سے بھی زیادہ آسانی سے اثر لے لیتا ہے۔ کسی چیز کو دیکھ لینے سے ہونے والے اثر لمبی دیر کے لئے ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے چہرے کو تھوڑی دیر کے لئے دیکھا ہے، بعد میں اس کو زیادہ پرکشش محسوس کریں گے۔ خواہ اس کا پہلے دیکھنا یاد بھی نہ رہا ہو۔ اس کو mere exposure effect کہا جاتا ہے اس اور پریشان کن حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اندرونی یادداشت ہماری زندگی کے بارے میں نظریے کو متاثر کرتی ہے۔ کیا پسند ہے، کیا نہیں وغیرہ کو۔ اس میں کچھ حیران کن نہیں کہ اشتہاروں میں پراڈکٹ بیچنے، کسی سیلبرٹی کا امیج بنانے یا سیاسی مہم سازی میں یہی اصول استعمال ہوتا ہے۔ ایک پراڈکٹ، ایک چہرہ، ایک نعرہ بار بار بے دھیانی میں دیکھا اور سنا جاتا ہے۔ تو ٹھیک لگنے لگتا ہے۔ ایک اچھا سیاستدان اپنے بارے میں منفی خبر سے کبھی پریشان نہیں ہوتا۔ مشہور مقولہ ہے کہ “سب سے خراب پبلسٹی، پبلسٹی کا نہ ہونا ہے” یا پھر جیسے کسی نے کہا تھا، “مجھے پرواہ نہیں کہ اخبار میرے بارے میں کیا کہہ رہا ہے، بس میرے نام کے ہجے ٹھیک ہونے چاہیئں”

آپ سپرسٹور میں صابن کونسا اٹھائیں گے؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں کہ “میری کوئی ترجیح نہیں، بس کوئی بھی”۔ آپ غلط ہیں۔ وہ کہیں چوک پر بڑا سا جو اشتہار لگا تھا جس میں ایک مسکراتی خاتون نے صابن پکڑا ہوا تھا، آپ نے وہی اٹھایا ہے۔ صابن کی خوبیاں بناتا اہم نہیں تھا۔ آپ کو اس کے نام، رنگ اور پیکنگ سے مانوس کر دینا اہم تھا۔

تو پھر سیاستدان کے لئے کامیابی کا گر کیا ہے؟
اول: تفصیل سے بتائیں کہ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے کیا انتظامی، مالیاتی اور تنظیمی تبدیلیاں کریں گے اور ان اقدامات سے تعلیمی نظام میں اگلے برسوں میں کچھ انڈیکسز پر بیس سے پچیس فیصد کے درمیان بہتری کا امکان ہے”
دوسرا: سننے میں آسان اور دلکش ایک سطری فقرے میں دعویٰ کریں کہ ملک کا تعلیمی نطام ٹھیک کر دیں گے اور اس کو بار بار دہرائیں۔ (ساتھ اپنی تصویر لگا دیں جو علم دوست ہونے کا تاثر دیتی ہو)

دوسرے طریقے کے موثر ہونے کا تو ہم بہت دیر سے جانتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنے نظریات بڑھانے کا اس سے بھی زیادہ بہتر طریقہ موجود ہے۔ متنازعہ سٹیٹ منٹ جس کو آپ کے حامی اور مخالفین دونوں آگے شئیر کریں۔ کیونکہ کوئی بھی پبلسٹی بری نہیں ہوتی۔

(کسی چیز کو سچ بنانے کے لئے ساتھ لگی ڈایاگرام دیکھ لیں)

سچ کے سراب پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Illusory_truth_effect

ایکسپوژر ایفیکٹ پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Mere-exposure_effect

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں