84

سمندر کی تہہ میں ۔ مصنوعی مرجان – وہارا امباکر

امریکی ریاست ڈیلاوئیر میں دریائے ہند بحر اوقیانوس میں گرتا ہے۔ یہاں سے سولہ میل دور اگر سمندر میں اسی فٹ نیچے غوطہ لگایا جائے تو عجب نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔ سمندری زندگی کا ایک شہر آباد ہے۔ چھوٹی بڑی مچھلیوں کے غول، سمندری گھاس کے بیچ میں سے تیرتے ہوئے، زندگی کی کمیاب انواع۔ اور ساتھ ٹرین کے سات سو ڈبے۔

یہ ناکارہ ہو جانے والے ڈبے ڈیلاوئیر کے ماحولیات کے محکمے کی طرف سے منصوبہ بندی کے تحت یہاں پر پھینکے گئے ہیں۔ یہ ڈبے مصنوعی ساحلی مرجان کا کام کرتے ہیں۔ تا کہ سیپ اور سفنج جیسی انواع کو محفوظ رہنے کیلئے ٹھکانہ مل سکے جن کو ان کے ختم ہونے کی وجہ سے سمندر کی ریتلی تہہ میں زندہ رہنے کیلئے چیلنج کا سامنا ہے۔ جب سے ان کو یہاں پر پھینکا گیا ہے، زندگی میں چار سو گنا اضافہ ہو چکا ہے اور ضمنی فائدہ یہ کہ ایسا کرنے سے ساحل کا کٹاوٗ روکنے میں مدد مل رہی ہے۔

لوگوں کو سفر کرنے میں مدد دینے کے پیشے سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان ڈبوں کا نیا پیشہ ایکوسسٹم انجنئیرز کا ہے۔

جین جیکبز نے شہروں کے بڑا ہونے میں دلچسپ پیٹرن ڈھونڈا تھا۔ اگر پلیٹ فارم موجود ہو تو متروک جگہوں پر جدت ابھرتی ہے۔ شہروں میں کامیاب معاشرت اور ثقافت اسی وجہ سے ہے۔ ایک کی چھوڑی عمارت کسی اور ہی طرح کے استعمال میں۔ کسی آلے کا استعمال کسی فرق طریقے سے۔ مختلف اجزاء کا کسی نئے طریقے سے آپس میں مل جانا۔ آرکیٹکچر اور خیالات کا چکر شہروں کو جدت کے مراکز بناتا ہے۔ اس سمندر کی تہہ کے نیچے کے شہر بھی ایسے ہں۔ کورل ریف سمندری زندگی کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔

میرین ایکولوجسٹ، جو کورل ریف میں توانائی کے بہاوٗ کو سٹڈی کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کورل ریف غذائی اجزاء کو ری سائیکل کرنے میں بہترین ہیں۔ یہ ہم پہلے سے جانتے تھے کہ خوردبینی زوزنتھیلا اور کورل کا آپسی اتحاد اہم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے فاضل مادے پر انحصار کرتے ہیں۔ الجی سورج سے توانائی لیتے ہیں اور ان کا فضلہ آکسیجن اور شوگر ہیں۔ کورل کے پولپ اس کو اپنے بڑھنے کی طاقت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کورل کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائیٹریٹ اور فاسفیٹ کا اخراج کرتے ہیں جو الجی کو بڑھنے کیلئے ضروری ہے۔ زوزنتھیلا کے زیادہ ہونے کی وجہ سے شمسی توانائی زیادہ پکڑی جاتی ہے اور یہ اس ریف کے تمام ایکوسسٹم کے ساتھ شئیر ہوتی ہے۔ زوزنتھیلا اور کورل دو ایسے ہمسائے ہیں جو ایک دوسرے سے روزانہ اپنے کچرے کا تبادلہ کرتے ہیں۔

لیکن یہ چکر صرف ان دو کا نہیں۔ 2001 میں جرمن ماہرینِ ماحولیات کی ٹیم نےاینڈوسکوپ کی مدد سے بحیرہ احمر کے کورل ریف کے اندر چھوٹے سوراخوں کا مطالعہ کیا۔ ان چھوٹے کونے کھدروں میں سپنج کی بڑی دنیا آباد تھی جو ان تاریک گوشوں میں کامیابی سے رہ رہے تھے کیونکہ یہاں پر وہ اپنے شکاریوں، جیسا کہ سمندری ارچن یا طوطا مچھلی سے محفوظ رہتے تھے۔ ان کی خوراک ایک اور اہم خوردبینی جاندار فائیٹوپلانکٹن تھے جو ریف کے غاروں میں آوارہ پھرتے رہتے تھے۔ زوزنتھیلا کی طرح یہ سفنج بھی وہ فضلہ خارج کرتے ہیں جو ریف کی خوراک ہے۔ شکاری سے بچنے کیلئے مرجان کے ڈھانچے میں چھپے ہوئے سفنج کا اس چکر کی وجہ سے ان کا میزبان مزید بڑھتا تھا اور اس کے خارج کردہ ایراگونائیٹ کی وجہ سے سفنج کی مزید آبادی کو رہنے کیلئے جگہ مل جاتی ہے۔

کورل ریف کا یہ پورا ایکوسسٹم خوراک کے اس طرح کے جالوں سے بھرا پڑا ہے۔ نازک اور ایک دوسرے پر انحصار کرنے والی زندگی کے پیچیدہ چکر جن کو ہم اب سمجھنا شروع ہوئے ہیں۔

ان چکروں کی وجہ سے یہاں پر سورج کی زیادہ توانائی پکڑی جاتی ہے۔ غذائیت کے آپسی استعمال کے چکر پھیلتے جاتے ہیں۔ تھوڑی خوراک سے بھی یہ آبادیاں بہت کچھ کر لیتی ہیں۔ اگر یہاں پر تعاون نہ ہوتا اور آپسی مقابلہ ہوتا تو پانی کے یہ شہر ویران ہوتے، ویسے جیسے زمین پر ریتلے علاقے کیونکہ یہاں پر غذائیت کی سپلائی زیادہ نہیں۔ (لہروں والے سمندری علاقوں میں یہ سپلائی اس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ دریا مٹی میں یہ لے کر آتے ہیں لیکن وہاں اتنی زندگی نہیں)۔ کورل ایکوسسٹم انجینئیر کا کام کرتے ہوئے وہ پلیٹ فارم دیتے ہیں جہاں پر ایک دوسرے کے بائیولوجیکل فضلے اور محفوظ مقامات کی وجہ سے زندگی پنپتی ہے۔

ٹرین کے متروک ڈبے اب سمندری زندگی کو ایسے پلیٹ فارم دے رہے ہیں۔ یہ ریڈبرڈ ریف کہلاتی ہے۔ اس میں ان سات سو ڈبوں کے علاوہ چوراسی ٹینک، آٹھ بڑی کشتیاں اور ٹرکوں کے تین ہزار ٹن موجود ہیں۔ اس کی کامیابی کے بعد دوسرے سمندروں میں بھی اب تین ہزار ڈبوں کو کھڑکیاں، دروازے، پہئے اور سیٹیں نکال کر پھینکے جا چکے ہیں۔

ان ساحلی مرجانوں نے پانی کی سطح کے اوپر جزیروں کو بھی شکل دی ہے۔ ان جزیروں میں بھی سورج اسی طرح توانائی دیتا ہے۔ صحرا میں بادل نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں سے زیادہ۔ صحرا میں پڑنے والی دھوپ سے صرف کہیں کہیں موجود پودے ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان پودوں سے چند ایک کیڑے اپنی غذا لے لیتے ہیں۔ یہ کیڑے کسی اکا دکا پرندے یا چھپکلی کی غذا بن جاتے ہیں۔ اور یہ سب اپنے مرنے کے بعد یہاں پائے جانے والے بیکٹیریا کی۔ ریگزاروں آپس میں تعاون کے پیچیدہ چکروں کی عدم موجودگی میں توانائی آرگینک زندگی کا حصہ بہت کم بنتی ہے۔ یہ بڑی حد تک زندگی سے خالی ہیں۔

اس ریف کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/Redbird_Reef

اس کی تصاویر دیکھنے کے لئے

PHOTOS: Go Inside the NYC Subway Cars Dumped in the Atlantic Over a Decade Ago

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں