37

سطحِ برف پر پھسلن :: سلمان رضا اصغر

⛄ ❄ ⛄ سطح برف پر پھسلن ⛄ ❄ ⛄

تحریر سلمان رضا اصغر

اچانک پھسل پڑنے کے تجربات اکثر و بیشتر لوگوں کے لئے کافی ناخوشگوار ہی ثابت ہوتے ہیں اور پھسل کے گر پڑنے پر لگنے والی کاری ضربیں کافی وقت تک میٹھی میٹھی آہ بھرنے پر بھی مجبور کرتی رہتی ہیں. دنیا میں ایسے بھی کچھ لوگ جو کسی حسین چہرے کو دیکھتے ہی پھسل پڑنے سے خود کو باز ہی نہیں رکھ پاتے اور اگر اس طور پھسلنے کا شوقین شادی شدہ بھی ہو تو پھر وہ آخرکار خود کو سنگین ضربوں سے بچا نہیں پاتا. بہرحال ایسی مہلک پھسلن کو چھوڑ چھاڑ بات کرتے ہیں برف کی پھسلن کی, ویسے تو اس بات کو جاننے کے لٸے ماہر برف ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ برف کی سطح پر پھسلن زیادہ رہتی ہے۔ پیروں کی گرفت اس کی سخت سطح پر نا ہونے کے برابر ہی رہتی ہے, لیکن برف پر بے دریغ پھسلنے اور اس کی سطح پر پھسلن کی تیاری کے عوامل پر سائنسدان سالہا سال سے اپنا سر کھپاتے آرہے ہیں اور اکثر پھسلن کا سبب برف کی سطح پر موجود اضافی یا آزاد سالمے یعنی مالیکیولز کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں.

❄ برف کی سطح پر پھسلن کی سب سے مقبول و معروف وضاحت 1886 آئرش ماہرِ طبعیات و ارضیات جان جولی John Joly نے پیش کی جس کے مطابق جب کوئی چیز برف کی سطح پر سے آکر ملاپ یا ٹکراتی ہے تو اس کا دباؤ اس حد تک زیادہ بنتا ہے کہ برف کی سطح کو پانی میں تبدیل کرتی ہے اورسطح پر پانی کی ایک باریک پرت پیدا ہو جاتی ہے, جو برف کی سطح پر زوردار پھسلن پیدا کرتی ہے اور ایسا ہی کچھ کسی شخص کے قدم برف پر پڑنے سے بھی ہوتا ہے جس کا نتیجہ برف برف پر پھسل کر گرا آدمی کی صورت ہوتا.

🏄 جان جولی کے بعد آنے والے سائنسدان بھی اسی مقبول بیان پر پھسلتے چلے گئے اور برف کی سطح پر پھسلن کی تیاری میں پانی کے ننھے مالیکیولز کی زائد موجودگی کو قرار دیتے رہے کہ آبی مالیکیولز کی ہی وجہ سے چیزیں برف کی ٹھوس سطح پر پھسلتی چلی جاتی ہیں اور برف پر اسکیٹینگ او اسکینگ کرنے میں یہ آبی پرت معاون رہتی ہے, لیکن یہ سائنسی بیان اس حقیقت سے قطعی میل نہیں کھاتا تھا کہ تیل کے سامنے پانی کا چکنا پن کچھ خاص جچتا نہیں ہے. یوں تو برف کی قلمی ساخت باقاعدہ اور شفاف ہوتی ہے جہاں ہر ایک برف کا کرسٹل یا قلم کا ایک مالیکیول تین دوسرے برابر موجود مالیکیولز سے جُڑا ہوتا ہے لیکن برف کی سطح پر موجود مالیکیول صرف دو مالیکیولز سے ہی جڑا ہوتا ہے۔ کمزور بونڈ ہونے کی وجہ سے سطح پر موجود مالیکیولز تھرکتے ہی رہتے ہیں اور اپے اردگرد کے مالیکیولز سے کبھی جڑتے اور کبھی علیٰحدہ ہوتے رہتے ہیں۔ گو کہ مالیکیولز تھرتھراہٹ برف کی بالائی سطح پر پھسلن پیدا کرتی ہے اور برف پرموجود پانی کے مالیکیولز کی یہ باریک پرت سطح پر رپٹ جانے کا سبب بھی بنتی ہے اور ایسے ہی جب اسکیٹس skates یا جوتے کے تلے جب برف کی سطح سے رگڑ کھاتے ہیں تو برف کی سطح پر پانی تہہ پیدا ہو کر پھسلن کا سبب بنتی ہے. بہرحال سالوں سے اس ہی سائنسی وضاحت پر لوگوں نے قناعت کر کے برف کی سطح پر پھسلنا اور اسکیٹنگ کرنا جاری رکھا ہوا تھا, لیکن کچھ تحقیق کاروں نے اسی وضاحت پر برف پر اپنا تفتیشی عمل کر کے اس وضاحت کو نئی شکل دے ڈالی ہے جس میں برف پر پڑتے دباؤ کو برف کے پگھلنے کی وجہ کے بجائے رگڑ کو اس پانی کی تہہ کی تیاری کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے.اس نٸی ساٸنسی تحقیق کی روشنی میں یہ بات سامنے آٸی ہے کہ منفی سات درجہ حرارت کی حامل برف کی سطح بےحد پھسلن رکھتی ہے۔

⛄ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ میں مختلف درجہ حرارت کی حامل برف کی سطح پر چیزوں کے پھسلنے کے تجربات کا جائزہ لینے کے بعد تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ برف کی سطح اس وقت پھسلن کی انتہا پر ہوتی ہے جب اس کا درجہ حرارت منفی سو سیلسئس -100°C (-148°F) پر پہنچتا ہے. اسی بات کی جانچ پڑتال کے لئے ایک تحقیقی ٹیم نے برف کے درجہ حرارت اور اس کی پھسلن کے تعلق کے بارے میں مزید جاننے کے لئے برف کے ٹکڑوں کی سطح پر آبی مالیکیولز کا اسپیکٹرواسکوپک spectroscopic جائزہ لیا اور برف کی سطح پر دو قسم کے آبی مالیکیولز کو موجود پایا. ایک تو وہ جو تین ہائیڈروجن بانڈز بننے کی وجہ سے ایک ہی جگہ ٹہرے یا حرکت کرنے کے قابل نا تھے اور دوسری قسم کے مالیکیولز دو ہائیڈروجن بانڈز مسلسل لڑھکتی ننھی گیندوں کی مانند حرکت کر رہے تھے. مزید تحقیی مراحل پورے کرنے کے بعد ان کہنا تھا کہ درجہ حرارت کے بلند ہونے پر پانی کے ایک جگہ جمے مالیکیولز بتدریج حرکت کرتے مالیکیولز میں تبدیل ہوتے ہیں یعنی برف کے گرم ہونے پر اس کی سطح پر اور زیادہ پانی کے مالیکیولز پیدا ہوتے ہیں اور ان کی زیادتی سے برف کی سطح پر رگڑ کی قوت friction بھی بڑھنے لگتی ہے جو پھسلن میں کمی کرتی ہے اور یہ تحقیق کے نتیجے میں ملنے والےثبوت اس بات کی حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ اصل میں برف کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کا ہونا پھسلن بڑھانے کا نہیں بلکہ اس کی کمی کی وجہ بنتا ہے. درجہ حرارت زیرو سینٹی گریڈ پر برف کی سطح پر مالیکیولز کی حرکت زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور اگر برف کی سطح پر زیادہ سے زیادہ پھسلن تیار کرنی ہے تو منفی سات سینٹی گریڈ پر اس کا حصول ممکن ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں برف پر رگڑ سب سے کم رہ جاتی ہے. اسکیٹنگ کے لئے تیار برف کے میدان کو بھی اسی درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے. اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انکا یہ بھی کہنا تھا کہ برف کی سطح پر پانی کی موجودگی برف کو نرم کر دینے کا سبب بھی بن جاتی ہے جو اس پر پھسلتی چیزوں کو اس کے اندر دھنسا دینے کا باعث بھی بنتی ہے.

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں