75

سافٹ وئیر کا بزنس

یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب سافٹ وئیر کو ایک اضافی چیز سمجھا جاتا تھا۔ ہارڈوئیر بنانے والی کمپنیاں اپنا سافٹ وئیر یا تو خود بنا لیتی تھیں یا پھر کسی کو ٹھیکے پر کام دے دیا جاتا تھا۔ یہ سافٹ وئیر ان کی اپنی ہی مشینوں پر چلتا تھا۔ یہ اس وقت 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوا جب گیٹس اور ایلن نے پہلی بار ایک انٹرپریٹر بنایا اور پھر ایک آپریٹنگ سسٹم DOS بنایا۔ گیٹس کا خیال تھا کہ اگر ایک سافٹ وئیر سسٹم ایسا بن جائے جو ہر مشین پر چل سکے تو اس سافٹ وئیر کی اپنی الگ سے ویلیو ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہو گی جس کو مشین کے ساتھ دے دیا جائے۔ آج یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یہ کس قدر انقلابی خیال تھا۔ لیکن مائیکروسوفٹ کی پیدائش اس خیال کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ لوگ سافٹ وئیر کی قیمت ایک ہی بار ہارڈوئیر کی خرید پر ادا نہ کریں بلکہ ہر سافٹ وئیر پروگرام کو اس کی خاصیتیوں اور اپنی ضرورت کے حساب سے خریدیں۔ ڈوس آپریٹنگ سسٹم نے جو کام کیا وہ یہ کہ الگ ہارڈوئیر کے جو فرق تھے، اس کو اپنے اوپر چلنے والے سافٹ وئیر کے لئے چھپا لیا۔ کمپیوٹر چاہے آئی بی ایم سے خریدا جائے، ڈیل سے، ایسر سے یا کسی بھی اور سے۔ اس کے اوپر چلنے والا آپریٹنگ سسٹم ایک ہی تھا۔ اس نے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کو ایک کموڈوٹی بنا دیا۔ اور اصل ویلیو اس سافٹ وئیر کی طرف منتقل ہو گئی، جو ڈوس کے اوپر کام کر رہا ہو۔ اس کے لئے ہر صارف سے الگ پیسے لئے جا سکتے ہیں اور یوں ۔۔۔ مائیکروسوفٹ بہت امیر ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اب سافٹ وئیر کے اتنے عادی وہ گئے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کرتا کیا ہے۔ “سافٹ وئیر کا بزنس کیا ہے؟” کا جواب مائیکروسوفٹ ریسرچ کے چیف کریگ منڈی ایسے دیتے ہیں کہ “یہ وہ جادوئی چیز ہے جو پیچیدگی کو غائب کر دیتئ ہے۔ ایک سافٹ وئیر ایک مسئلے کو حل کر دیتا ہے اور اس سے اگلا شخص اس کو استعمال کرتے ہوئے مسئلے کی اگلی تہہ سے کام شروع کرتا ہے۔ یہ لکیر جس طرح اوپر چلتی جاتی ہے، لوگ نئی چیزیں ایجاد کرتے جاتے ہیں اور اس کا مجموعی اثر یہ ہے کہ سافٹ وئیر جگہ جگہ سے پیچیدگی کو چھپاتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پیچیدہ تر چیزیں بنانا آسان ہوتا جا رہا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں