57

ریاضی سے کیا ناراضی : انعام الحق

ریاضی (Mathematics) سے کیا ناراضی۔ ۔ ۔ ؟
(پہلی قسط)
۔
ریاضی سائنس کی ایک اہم ترین شاخ ہے۔ زیادہ تر لوگ اس کو ایک مشکل اور بورنگ مضمون سمجھتے ہیں اور اس سے ناراض رہتے ہیں۔ ریاضی کے بارے میں اکثر طلباء اس طرح کے خیالات رکھتے ہیں، “یہ ریاضی آخر کس ظالم انسان نے ایجاد کر دی اور ہمیں مصیبت میں ڈال دیا”۔
تو کیا واقعی ریاضی سے ناراضی بنتی ہے؟؟؟
۔ ریاضی علامات (Symbols) کی زبان (Language) ہے بلکہ یوں کہنا بھی بےجا نہ ہوگا کہ ریاضی علامات کا کھیل (Game) ہے۔ ۔ ۔! بہت سے لوگ ہو سکتا ہے دوسرے جملے سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاضی کسی کھیل کی طرح دلچسپ ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اکثر لوگوں کے لیے باعثِ پریشانی کیوں بن جاتی ہے؟
کسی بھی علم کو خوب اچھی طرح سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی تصورات (Concepts) سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ سمجھنے اور رٹنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سمجھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اس تصور کو بآسانی اپنے لفظوں میں بھی بیان کر سکتے ہیں جبکہ رٹنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تک آپ کی زبان پر رٹے گئے الفاظ موجود رہیں آپ بولتے چلے جاتے ہیں ورنہ اٹک جاتے ہیں۔
ریاضی ایک ایسا علم ہے جسے سمجھا جاتا ہے نہ کہ رٹا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام کچھ اس قسم کا ہو گیا ہے کہ ہم لوگ ڈگریوں اور نمبروں کی دوڑ میں لگ گئے ہیں اور ہمارے اندر علم کی پیاس نہیں رہی۔ ڈگریوں اور نمبروں کی یہ دوڑ ہمیں شارٹ کٹس اور رٹےبازی پر مجبور کرتی ہے، کچھ اساتذہ بھی اس طرح اپنی ذمہ داری کا بوجھ سر سے ہلکا کر لیتے ہیں۔ اس طرح طلباء کو شروع سے ہی ریاضی کے تصورات سمجھانے کی بجائے رٹا لگانے اور ایک مخصوص طریقہ کار سے سوالات حل کروانے پر لگا دیا جاتا ہے جو کہ ریاضی جیسے مضمون کے ساتھ اور خود طلباء کے ساتھ بھی بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ہر آنے والی نئی جماعت کے ساتھ یہ مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح طلباء ریاضی کو ایک مشکل اور بورنگ مضمون سمجھ کر اس سے خوف کھانے لگتے ہیں اور اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔
مگر دوستو! ریاضی سے ناراضی نہیں بنتی کیونکہ یہ تو ہمارے روزمرہ کے مسائل کو ہمارے لیے آسان کرتی ہے۔ تو کیوں نہ آج سے اس کو سمجھنے کی کوشش شروع کریں تا کہ ہم بھی یہ کہہ پائیں کہ واقعی ریاضی سے ناراضی نہیں بنتی۔ سیکھنے کے لیے نہ کوئی وقت معین ہوتا ہے نہ عمر۔ جس وقت ہمیں علم کی اہمیت کا احساس ہو جائے اسی وقت سے ہم اسے سیکھنے کی کوشش شروع کر سکتے ہیں اور اپنے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی کر سکتے ہیں۔
کچھ ایسی ہی کوشش کے ساتھ آپ کے ساتھ حاضر ہوں۔ مجھے پوری امید ہے کہ ریاضی کے بارے میں آئندہ آنے والی پوسٹس ریاضی کے بارے میں آپ کا تصور بدل دیں گی۔ یہ دعویٰ نہیں بلکہ یقین ہے جو مجھے اس علم نے ہی بخشا ہے۔ تو پھر آج ہی اسے سیکھنے کا ارادہ کریں اور ریاضی کے بارے میں آنے والی پوسٹس کا انتظار کریں۔
دوسرا سبق
۔
“ضرورت ایجاد کی ماں ہے (Necessity is the mother of invention)” یہ کہاوت تو تقریباً ہر ایک نے پڑھ یا سن رکھی ہو گی۔ گھبرائیے نہیں، میں اس وقت آپ کو “پیاسا کوا Thirsty Crow” والی کہانی نہیں سنانے لگا کیونکہ اس کہاوت کو سنتے ہی سب سے پہلے پیاسا کوا ذہن میں آتا ہے۔ کم از کم سکول لائف میں تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ کہاوت اور پیاسا کوا لازم و ملزوم ہیں۔ ویسے ہمیں علم کے حصول کے لیے پیاسا کوا بننا پڑے تو بن جانا چاہیے۔
خیر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں تو اس کہاوت کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایجاد، ضرورت کے نتیجے میں سامنے آتی ہے، چاہے وہ کوئی روز مرہ میں کام آنے والی کوئی چیز ہو یا علم کی کوئی شاخ۔ یہ ضرورت ہی ہے جو انسان کو سوچنے اور کچھ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اس طرح سے انسان اپنی زندگی کو ایجادات کے ذریعے آسان بناتا چلا جاتا ہے۔ ریاضی بھی انسان نے اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے کے لیے بنائی ہے۔ آپ سوچیں کہ گھر بیٹھے بٹھائے کسی کو آخر کیا پڑی ہے کہ خود کو مصیبت میں ڈالتے ہوئے ایک ایسی ایجاد کرے کہ دوسرے بھی مصیبت میں پڑ جائیں۔ ضروت اس بات کی ہے کہ ریاضی کے مقصد کو سمجھا جائے اور دیکھا جائے کہ یہ روزمرہ زندگی میں کس طرح ہمارے مسائل حل کر سکتی ہے تو یقیناً اس اہمیت اور محبت میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔
کورس کی کتابوں میں متعلقہ موضوع پر جس قدر مواد ہوتا ہے عام طلباء کو سمجھانے کے لیے اس سے زیادہ تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے، شاید کتابوں کو مختصر اور کم خرچ بنانے کے لیے ان میں اتنی تفصیل شامل نہیں کی جاتی۔ لہٰذا پھر یہ ذمہ داری اساتذہ پر ہوتی ہے کہ وہ متعلقہ موضوع پر ریسرچ کر کے طلباء کو زیادہ سے زیادہ مواد فراہم کریں۔ کوئی بھی تصور(Concept) اگر طلبا کو یوں سمجھایا جائے کہ اس کا مقصد کیا ہے اور روزمرہ زندگی کے کون مسائل کا حل اس میں موجود ہے تو طلباء خود بخود اس میں دلچسپی لیں گے۔ سوال کرنا (Questioning) سیکھنے کے عمل کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس لیے طلباء کو سوالات کرنے پر ابھارنا چاہیے اور ان کے ہر سوال کا جواب دینا چاہیے تا کہ سوال کرنے کے عادی ہو جائیں اور زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔
علم کا مقصد ایک طالب علم میں عملی زندگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حقیقی صلاحیت پیدا کرنا ہے نہ کہ محض ڈگریاں بانٹنا۔ اگر ایک ڈگری کے ہوتے ہوئے آپ کسی تصور کو اپنے لفظوں میں بیان نہ کر پائیں اور نہ ہی عملی زندگی کے مسائل حل کر پائیں تو ایسی ڈگری کا کیا فائدہ؟ لہٰذا علم کو سیکھیں اور اس کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائیں اور یاد رکھیں کہ آپ کا علم آپ کی ڈگری ہے نہ کہ آپ کی ڈگری آپ کا علم! یہ ساری تمہید اس لیے باندھی گئی ہے تا کہ اس سلسلے کے پیچھے حقیقی مقاصد کو واضح کرتے ہوئے آپ کو صحیح معنوں میں اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کیا جائے۔ اس تمہید کو اب تک برداشت کرنے کا شکریہ۔ اس سلسلے کی اگلی پوسٹ ان شاءاللہ ریاضی کا سبق نمبر 1 ہو گا۔ کوشش یہ ہو گی کہ بنیادی تصورات سے بات شروع کرتے ہوئے وہ موضوعات زیرِ بحث لائے جائیں جو کہ طلباء کے لیے ناگزیر ہیں اور جن کی بنیاد پر وہ ریاضی کو اپنے لیے آسان کر سکتے ہیں…
تیسرا سبق
۔
ریاضی کی ابتدا تبھی ہو گئی جب انسان نے گنتی کرنا (Counting) شروع کی۔ پہلے پہل انسان نے اشیاء کا اشیاء سے موازنہ کر کے گنتی شروع کی۔ مثلاً ایک گڈریا اپنے ریوڑ میں موجود جانوروں کی تعداد کے برابر پتھر چُن لیتا، یعنی ہر ایک جانور کے بدلے میں ایک پتھر۔ اس طرح جب وہ اپنے جانوروں کی گنتی کرنا چاہتا تو ایک ایک جانور کا ایک ایک پتھر سے موازنہ کرتا جاتا۔ اگر دونوں کی تعداد برابر ہوتی تو وہ مطمئن ہو جاتا لیکن اگر پتھروں کے مقابلہ میں جانوروں کی تعداد کم ہو جاتی تو وہ اپنے گمشدہ جانوروں کی تلاش کرتا۔ پھر رفتہ رفتہ انسان نے گنتی کے لیے علامات (Symbols) کا استعمال شروع کیا۔ مختلف ادوار میں مختلف قسم کی علامات استعمال ہوتی رہیں(اختصار کے پیشِ نظر تفصیل سے گریز کیا گیا ہے)۔ یہاں تک کہ یہ علامات (0,1,2,3,4,5,6,7,8,9) استعمال میں آ گئیں جو ہم آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ علامات، ہندسے (Digits) کہلاتی ہیں۔ ان ہندسوں سے اعداد (Numbers) اور پھر اعداد سے عددی نظام (Numbers Systems) وجود میں آئے۔ گویا ان ہندسوں کو ہم اعداد کے حروفِ تہجی (Alphabet) بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہیں سے ہمارے اسباق (Lessons) کا آغاز ہوتا ہے۔
ہندسے (Digits): ” گنتی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی علامات کو ہندسے کہلاتی ہیں۔ ”
ان ہندسوں کی تعداد دس (10) ہے۔ اور وہ یہ ہیں۔
ہندسے مطلب
0 کوئی یونٹ نہیں
1 ایک یونٹ
2 دو یونٹس (الگ الگ)
3 تین یونٹس (الگ الگ)
4 چار یونٹس (الگ الگ)
5 پانچ یونٹس (الگ الگ)
6 چھ یونٹس (الگ الگ)
7 سات یونٹس (الگ الگ)
8 آٹھ یونٹس (الگ الگ)
9 نو یونٹس (الگ الگ)

اکائی یا یونٹ (Unit) کا مطلب ہے کوئی بھی ایک شے (Thing)
اس طرح اشیاء کی گنتی کو ان ہندسوں سے ظاہر کرنا شروع کیا گیا۔ اب چونکہ گنتی کی کوئی حد (Limit) مقرر نہیں ہو سکتی لہٰذا ہندسوں کی تعداد کو بھی لامحدود (Unlimited) ہونا چاہیئے تھا جو کہ ممکن نہیں۔ لامحدود تعداد میں ہندسے نہ تو بنائے جا سکتے ہیں اور نہ یاد رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے سہولت کی بجائے الٹا پریشانی پیدا ہوتی ہے اس لیے یہ سوچا گیا کہ ان دس ہندسوں کے ہی استعمال سے مزید گنتی کو جاری رکھا جائے۔ اس طرح اعداد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
عدد (Number): ” اشیاء کی گنتی کے لیے ایک ہندسہ یا ایک سے زیادہ ہندسوں کا گروپ، عدد کہلاتا ہے۔ ”
گویا کہ عدد ہندسوں سے بنتا ہے جو کہ ایک ہندسے پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے اور زیادہ ہندسوں پر بھی۔ چونکہ اشیاء کی گنتی لامحدود ہو سکتی ہے لہٰذا اعداد لامحدود ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے ختم ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ اعداد شروع میں ایک ایک ہندسے پر مشتمل ہوتے ہیں یعنی تب وہ اکائیوں (Units) کی گنتی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہندسے چونکہ 9 تک ہیں اس لیے الگ الگ زیادہ سے زیادہ نو یونٹس کی گنتی کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد نئے اور بڑے یونٹس (New & Big Units) بنانے پڑتے ہیں تا کہ گنتی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ اس طرح عددی نظام (Number Systems) وجود میں آتے ہیں۔
عددی نظام (Number System): ” کسی اساس (Base) پر مشتمل اعداد کا سلسلہ، عددی نظام کہلاتا ہے۔ ”
عددی نظام کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اساس (Base) کی وضاحت ضروری ہے۔
اساس (Base): ” یونٹ کو گُنا (Multiple) کر کے نئے یونٹس بنانے کے اصول کو اساس کہتے ہیں۔ ”
گُنا (Multiple) کرنے کا مطلب ہوتا ہے بڑھانا۔
وضاحت (Explanation): کسی عددی نظام کے لیے پہلے کوئی اساس مقرر کی جاتی ہے۔ یعنی کہ اصول بنایا جاتا ہے کہ یونٹ (جس کی گنتی کی جا رہی ہو) کو کتنے گنا کر کے نیا یونٹ بنانا ہے تا کہ پہلے سے استعمال شدہ ہندسوں کو ہی دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اعداد کا سلسلہ جاری رہے۔
عددی نظام بنانے کے اصول:
* کم سے کم اساس 2 مقرر کی جا سکتی ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔
* جس شے کی گنتی کرنی ہو وہ ایک بنیادی یونٹ سمجھی جاتی ہے۔
* جب بنیادی یونٹس کی تعداد اساس کے برابر ہو جائے تو ان یونٹس کو ملا کر ایک نیا یونٹ بنایا جاتا ہے۔ پھر اس نئے یونٹ کی تعداد بھی اساس کے برابر ہونے پر مزید ایک نیا اور برا یونٹ بن جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔
* ہر بننے والے نئے یونٹ کو پہلے سے موجود یونٹ کے بائیں طرف رکھا جاتا ہے۔ اس طرح جتنے بھی نئے یونٹس بنتے جائیں گے وہ مزید بائیں طرف لکھے جاتے ہیں۔
* ہر یونٹ کے لکھنے کی جگہ کو ایک مقام (Place) کہا جاتا ہے۔
دنیا میں اس وقت کئی عددی نظام استعمال ہوتے ہیں جن میں اساس 10 کا نظام، اساس 2 کا نظام، اساس 5 کا نظام، اساس 8 کا نظام اور اساس 16 کا نظام وغیرہ شامل ہیں۔ ہم لوگ عموماً اساس 10 کا نظام استعمال کرتے ہیں جسے اعشاری نظام بھی کہتے ہیں۔ کمپیوٹرز اساس 2 کا نظام استعمال کرتے ہیں جسے ثنائی نظام بھی کہتے ہیں۔
تحریر: انعام الحق
نوٹ:
٭ابھی اس سبق کی اگلی اقساط میں مثالوں سے مزید وضاحت کی جائے گی۔ لہٰذا اگر اس سبق کو سمجھنے میں کوئی کمی محسوس ہو تو وہ ان شاءاللہ اگلے اسباق میں دور ہو جائے گی۔
٭کسی تصور کو مزید سمجھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
٭اہلِ علم حضرات بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں