44

ریاضی سے کیا ناراضی انعام الحق

ریاضی سے کی ناراضی۔ ۔ ۔!
تیسری قسط
۔
تقسیم (Division): ” بار بار تفریق کرنے کا مختصر عمل، تقسیم کہلاتا ہے۔ ”
تقسیم کے لیے علامت ÷ استعمال ہوتی ہے۔ اسے اردو میں تقسیم جبکہ انگلش میں (Divided by) پڑھتے ہیں۔
تقسیم کے اجزاء:
مقسوم (Dividend): “تقسیم ہونے والا عدد، مقسوم Dividend کہلاتا ہے۔ ”
تقسیم کنندہ (Divisor): “تقسیم کرنے والا عدد، تقسیم کنندہ Divisor کہلاتا ہے۔”
حاصل قسمت (Quotient): “تقسیم کے نتیجے میں حاصل ہونے والا عدد، حاصل قسمت Quotient کہلاتا ہے۔”
٭قسمت، تقسیم کے عمل کو کہتے ہیں۔
باقی (Remainder): “تقسیم کے نتیجے میں باقی بچ جانے والا عدد باقی Remainder کہلاتا ہے۔”
تقسیم کے اصول (Rules for Division):
(1) تقسیم کے لیے یونٹس کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہے۔
وضاحت: اشیاء کا ہم جنس ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً اگر 10 کتابیں 5 طلباء میں تقسیم کرنی ہوں تو 10 کتابوں کو طلباء کی تعداد 5 پر تقسیم کیا جائے گا جو کہ ظاہر ہے مختلف جنس ہے۔ یہاں طلباء کی تعداد کو محض کتابوں کی تعداد کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہر طالب علم کے حصے میں 2 کتابیں آئیں گی تو جب پہلے طالب علم کو 2 کتابیں دی جائیں گی تو یہ 2 کتابیں کل 10 کتابوں میں سے تفریق ہو جائیں گی۔ پھر باقی بھی اسی طرح 2،2 کر کے تفریق ہوتی جائیں گی حتیٰ کہ کوئی کتاب نہیں بچے گی۔ یہاں نوٹ کریں کہ طلباء کی تعداد کو کتابوں کی تعداد کو بار بار تفریق کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، تفریق تو کتابوں سے کتابیں ہی ہوئی ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تقسیم دراصل تفریق کے مختصر عمل کا ہی نام ہے۔
(2) باقی عوامل (جمع،تفریق،ضرب) کے برعکس تقسیم کا عمل انتہائی مقام سے شروع ہو کر اکائیوں پر ختم ہوتا ہے۔
(3) ہر بار ایک یونٹ تقسیم کیا جاتا ہے اور اس طرح ہر یونٹ کو تقسیم کیا جاتا ہے۔
نوٹ: تقسیم کے آخری اصول سے بلامبالغہ ٪90 سے زیادہ لوگ ناواقف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تقسیم میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ مثلا
(11 ÷ 111) کو حل کرتے ہوئے اکثریت کا جواب (حاصلِ تقسیم) 1 اور باقی بھی 1 نکلتا ہے جو کہ غلط ہے۔ حالانکہ اس کا درست جواب 10 اور باقی 1 ہے۔
مثال کے ساتھ وضاحت: یہاں ہم 11 ÷ 111 کو ہی حل کرتے ہیں۔ یعنی ہم نے 111 کو 11 پر تقسیم کرنا ہے۔
٭پوسٹ میں دی گئی تصویر کو دیکھتے ہوئے وضاحت کو سمجھیں۔
سب سے پہلے 111 میں انتہائی مقام والا 1 (بائیں طرف والا) تقسیم کیا جائے گا۔ اب یہ 1 چونکہ 11 سے چھوٹا ہے لہٰذا صفر بار تقسیم ہو گی یعنی جواب میں سب سے پہلے 0 لکھا جائے گا۔ 0 بار تقسیم ہونے کی وجہ سے 1 کے نیچے بھی صفر ہی آئے گا جس کو 1 سے تفریق کرنے سے باقی وہی 1 بچے گا۔ اگلی باری میں انتہائی مقام والے 1 سے اگلا (دائیں طرف والا) تقسیم ہونے کے لیے پہلے والے 1 سے ملے گا تو 11 بن جائے گا۔ اب یہ 11 جب 11 پر تقسیم ہو گا تو 1 بار تقسیم ہو گی۔ یعنی جواب میں 0 کے دائیں طرف 1 لکھا جائے گا۔ 1 بار تقسیم ہونے کی وجہ سے 11 کے نیچے 11 آئے گا اور باقی 0 بچے گا۔ اب آخر میں اکائی والا 1 بچ جائے گا جو باقی نہیں کیونکہ اس نے ابھی تقسیم ہونا ہے۔ لہٰذا اسے جب تقسیم کے لیے نیچے اتاریں گے تو وہ 11 پر 0 بار تقسیم ہو گا۔ جواب میں ایک بار پھر 0 لکھا جائے گا اور باقی 1 بچے گا۔ یہ والا ایک باقی کہلائے گا کیونکہ یہ تفریق کرنے سے آیا۔ جواب ہو گا 010 جس کو ہم مختصر طور پر 10 بھی لکھ سکتے ہیں کیونکہ بائیں طرف والی 0 کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
نوٹ کریں کہ مقسوم 111 میں تین یونٹس ہیں جبکہ حاصل قسمت 010 میں بھی تین ہی یونٹس ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر یونٹ کو باری باری تقسیم کیا گیا ہے یعنی کسی یونٹ کو تقسیم کرنے سے چھوڑا نہیں گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حاصل قسمت 010 کے بائیں طرف والے 0 کو کوئی قیمت نہ ہونے کہ وجہ سے محض 10 لکھ دیا جائے۔ 10 لکھنے کی صورت میں بائیں طرف والا 0 جو ظاہر نہیں کیا گیا ریاضی کی اصطلاح میں Understood کہلاتا ہے۔ یعنی کہ Understood ایسی تسلیم شدہ حقیقت ہوتی ہے جس کو ظاہر کرنا ضروری نہ ہو۔
٭مندرجہ بالا مثال میں 111 مقسوم، 11 تقسیم کنندہ، 10 حاصل قسمت اور 0 باقی ہے۔
تقسیم کے عمل میں یاد رکھنے والی باتیں:
٭اگر مقسوم میں کوئی یونٹ تقسیم کنندہ سے چھوٹا ہو تو 0 بار تقسیم ہوتی ہے۔
٭باقی، ہمیشہ تقسیم کنندہ سے کم بچتا ہے۔

دوسرا سبق
۔
اب تقسیم کی ایک اور مثال ملاحظہ کریں(تصویر میں) جہاں تقسیم کا مکمل عمل اور مختصر عمل دونوں دکھائے گئے ہیں۔ اس کے بعد بھی تقسیم سے متعلق کوئی سوال ذہن میں ہو تو پوچھئے۔
اب آگے بڑھتے ہیں۔
قابلِ تقسیم ہونا To be divisible:
“اگر کوئی عدد (مقسومDividend) کسی دے گئے عدد (تقسیم کنندہDivisor) پر پورا پورا تقسیم ہو جائے یعنی باقیRemainder صفرZero بچے تو وہ عدد، دیے گئے عدد پر قابلِ تقسیمDivisible ہوتا ہے۔”
بعض اعداد ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں تقسیم کا عمل کیے بغیر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فلاں عدد ان پر قابلِ تقسیم ہے یا نہیں ہے۔ ان اعداد کے لیے کچھ اصول وضع کیے گئے ہیں جو کہ نیچے بیان کیے جاتے ہیں۔
2 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کی اکائی کا ہندسہ2،4،6،8 یا 0 ہو تو وہ عدد 2 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً 12548، 56116، 335873254، 100154772 اور 394785310 ، 2 پر قابلِ تقسیم ہیں۔
٭ان اعداد کے اکائیوں کے ہندسوں کو انڈرلائن کیا گیا ہے۔
3 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کے تمام ہندسوں کا مجموعہ 3 پر قابلِ تقسیم ہو تو وہ عدد 3 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
ہندسوں کا مجموعہ ایک سے زیادہ بار بھی نکالا جا سکتا ہے جس کی وضاحت نیچے دی گئی مثال سے کی جاتی ہے۔
مثال: 19754361 ، 3 پر قابلِ تقسیم ہے یا نہیں؟
یہ معلوم کرنے کے لیے ہم اس عدد کے تمام ہندسوں کو جمع کرتے ہیں۔
1+9+7+5+4+3+6+1=36
تمام ہندسوں کا مجموعہ 36 ہے جو کہ 3 پر قابلِ تقسیم ہے لہٰذا 19754361 بھی 3 پر قابلِ تقسیم ہے۔ اب اگر 36 کے ہندسوں کا مجموعہ بھی لیا جائے تو
(3+6=9) 9 بھی 3 پر قابلِ تقسیم ہے۔
4 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کی اکائی اور دہائی کے ہندسوں سے بننے والا عدد 4 پر قابلِ تقسیم ہو تو وہ عدد بھی 4 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔ یا اگر کسی عدد کی اکائی اور دہائی دونوں صفر ہوں تو وہ عدد بھی 4 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً7534300، 1123524، 85265708 اور 111140 ، 4 پر قابلِ تقسیم ہیں۔
٭پہلے عدد 7534300 کی اکائی اور دہائی دونوں صفر ہیں۔ باقی اعداد کی اکائی اور دہائی سے بننے والے اعداد بالترتیب 24، 08 اور 40 ہیں جو کہ چار پر قابلِ تقسیم ہیں۔
5 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کی اکائی صفر یا 5 ہو تو وہ عدد 5 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً 1260، 17925، 247855 اور 739000 ، 5 پر قابلِ تقسیم ہیں۔
6 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کوئی عدد 2 اور 3 دونوں پر قابلِ تقسیم ہو تو وہ عدد 6 پر بھی قابلِ تقسیم ہوتا ہے”
مثال: 234918 ، 6 پر قابلِ تقسیم ہے یا نہیں۔
یہ معلوم کرنے کے لیے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ 2 پر قابلِ تقسیم ہے یا نہیں تو اس کی اکائی 8 ہے لہٰذا یہ 2 پر قابلِ تقسیم ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ 3 پر قابلِ تقسیم ہے یا نہیں تو
2+3+4+9+1+8=27 , 2+7=9
پس عدد 3 پر بھی قابلِ تقسیم ہے لہٰذا یہ عدد 234918 ، 6 پر قابلِ تقسیم ہے۔
٭7 پر قابلِ تقسیم ہونے کا کوئی اصول مقرر نہیں ہے۔
8 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کی اکائی، دہائی اور سینکڑہ سے بننے والا عدد 8 پر قابلِ تقسیم ہو تو وہ عدد 8 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً2576430144 ، 8 پر قابلِ تقسیم ہے کیونکہ اس کی اکائی، دہائی اور سینکڑہ سے بننے والا عدد 144 ہے جو کہ 8 پر قابلِ تقسیم ہے۔
٭اس اصول کو بڑے اعداد کے لیے استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔
9 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کے ہندسوں کا مجموعہ بالآخر 9 ہو تو وہ عدد 9 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً1345797 ، 9 پرقابلِ تقسیم ہے کیونکہ
1+3+4+5+7+9+7=36 = 3+6=9
10 پر قابلِ تقسیم ہونے کا اصول:
“اگر کسی عدد کی اکائی کا ہندسہ صفر ہو تو وہ عدد 10 پر قابلِ تقسیم ہوتا ہے۔”
مثلاً 2760، 189530، 6304100 ، 10 پر قابل تقسیم ہیں کیونکہ سب کی اکائی کا ہندسہ صفر ہے۔
تحریر: انعام الحق
٭کسی تصور کو مزید سمجھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
٭اہلِ علم حضرات بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔
پچھلی قسط کا لنک

ریاضی سے کیا ناراضی قسط دوم: انعام الحق


https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں