49

ریاضی سے کیا ناراضی قسط دوم: انعام الحق

ریاضی سے کیا ناراضی۔ ۔ ۔!
(چوتھی قسط)
۔
اعداد کا اعشاری نظام (Decimal System of Numbers):
” اساس (Base) 10 کا نظام، اعشاری نظام (Decimal System) کہلاتا ہے۔ “
لفظ “اعشاری” عربی زبان کے لفظ “عشر” سے نکلا ہے۔ “عشر” کے معنی ہوتے ہیں “دس 10″۔ لہٰذا اعشاری نظام کا مطلب ہوا دس والا نظام یعنی اس نظام کی اساس دس ہے۔
جب ہم کسی بھی شے کی گنتی شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے ایک سے شروع کرتے ہیں۔ وہ ایک شے ایک اکائی یا یونٹ ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے گنتی آگے بڑھتی ہے وہ شے دو گنا، تین گنا ہونا (اسی طرح آگے) شروع ہو جاتی ہے لیکن تب تک ہر یونٹ الگ الگ شمار ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر جب یونٹس کی تعداد اساس یا بیس کے برابر یعنی دس ہو جاتی ہے تو وہاں ایک نیا یونٹ بن جاتا ہے۔ بنیادی یونٹس صفر ہو جاتے ہیں اور نیا یونٹ بائیں طرف لکھ دیا جاتا ہے یعنی 10۔ اور یہ سلسلہ آگے چلتا رہتا ہے۔ یعنی جب بنیادی یونٹ دس گنا ہو جاتا ہے تو ایک نیا یونٹ بنتا ہے جو کہ بنیادی یونٹ کا دس گنا ہوتا ہے اور دہائی (Ten) کہلاتا ہے۔ پھر ایک ایک یونٹ کو ملاتے ملاتے جب دہائی والا یونٹ بھی دس گنا ہو جاتا ہے تو مزید ایک نیا یونٹ بن جاتا ہے جو کہ دہائی کا دس گنا ہوتا ہے اور سینکڑہ (Hundred) کہلاتا ہے۔ پھر سینکڑہ دس گنا ہو کر ہزار (Thousand) بنتا ہے، ہزار دس گنا ہو کر دس ہزار (Ten thousand)، دس ہزار دس گنا ہو کر لاکھ (Lac) بنتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح لامحدود بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح بننے والے ہر یونٹ کو ایک مقام (Place) بھی کہتے ہیں۔ ہر بننے والا نیا یونٹ پہلے والے سے دس گنا ہوتا ہے اور پہلے والے کے بائیں طرف لکھا جاتا ہے۔
اعشاری نظام کے علاوہ باقی نظام:
اعشاری نظام کے علاوہ باقی نظاموں کی بھی اپنی اپنی اساس ہوتی ہے جس کے تحت ان کے نئے یونٹس یا مقام بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً اساس دو کے نظام میں ہر یونٹ دو گنا ہونے پر نیا یونٹ بن جاتا ہے، اساس پانچ کے نظام میں ہر یونٹ پانچ گنا ہو کر نیا یونٹ بنتا ہے، اساس آٹھ کے نظام میں ہر یونٹ آٹھ گنا ہو کر نیا یونٹ بنتا ہے۔
اساس 10 کی مثال سے مختلف عدد نظاموں کی وضاحت:
اعشاری نظام میں (10) کو دس کہتے ہیں۔ اس میں بنیادی یونٹ(دائیں طرف) صفر(Zero) ہے جبکہ دوسرا یونٹ(بائیں طرف) ایک ہے اور یہ پہلے یونٹ کا دس گنا ہے۔
اساس دو کے نظام میں (10) کو ایک صفر کہتے ہیں (دس نہیں)۔ اس میں بنیادی یونٹ(دائیں طرف) صفر ہے جبکہ دوسرا یونٹ(بائیں طرف) ایک ہے اور یہ پہلے یونٹ کا دو گنا ہے۔
اساس پانچ کے نظام میں بھی (10) کو ایک صفر کہتے ہیں۔ اس میں بنیادی یونٹ صفر اور دوسرا یونٹ ایک ہے جو کہ پہلے یونٹ کا پانچ گنا ہے۔
٭اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعشاری نظام میں اعداد کو جس طرح پڑھا جاتا ہے باقی نظاموں میں اس طرح نہیں پڑھا جاتا۔ مثلاً اعشاری نظام میں دس(10)، گیارہ(11)، بارہ(12) وغیرہ کو دوسرے نظاموں میں ایک صفر(10)، ایک ایک(11)، ایک دو(12) وغیرہ پڑھتے ہیں۔
خلاصہ:
اساس دو کے نظام میں ہر بائیں طرف والا یونٹ اپنے سے پہلے والے یونٹ کا دو گنا، اساس پانچ کے نظام میں ہر بائیں طرف والا یونٹ اپنے سے پہلے والے یونٹ کا پانچ گنا، اساس آٹھ کے نظام میں ہر بائیں طرف والا یونٹ اپنے سے پہلے والے یونٹ کا آٹھ گنا جبکہ اعشاری نظام میں ہر بائیں طرف والا یونٹ اپنے سے پہلے والے یونٹ کا دس گنا ہوتا ہے۔
اعداد کے بنیادی عوامل(Basic Operations of Numbers):
بنیادی عوامل(Basic Operations) چار ہوتے ہیں۔
٭جمع(Addition) ٭تفریق(Subtraction) ٭ضرب(Multiplication) ٭تقسیم(Division)
مزید گہرائی میں جانے پر پتہ چلتا ہے کہ بنیادی عوامل دو ہی ہیں، جمع اور تفریق۔ ضرب، جمع کا مختصر طریقہ اور تقسیم، تفریق کا مختصر طریقہ ہے۔ وضاحت آگے آئے گی۔
جمع(Addition): “ملانے کو یا اکٹھا کرنے کا عمل، جمع کہلاتا ہے۔ ”
جمع کے لیے علامت(+) استعمال ہوتی ہے۔ اس علامت کو اردو میں جمع جبکہ انگلش میں پلس(plus) پڑھتے ہیں۔
تفریق(Subtraction): ” گھٹانے یا نکالنے کا عمل، تفریق کہلاتا ہے۔ ”
تفریق کے لیے علامت(-) استعمال ہوتی ہے۔ اس علامت کو اردو میں تفریق یا نفی جبکہ انگلش میں مائنس(minus) پڑھتے ہیں۔
جمع اور تفریق کے اصول(Rules for Addition & Subtraction):
جمع اور تفریق کے لیے ایک جیسے اصول ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) ایک جیسے یونٹس کو ہی جمع یا تفریق کیا جا سکتا ہے۔
وضاحت: ایک ہی جنس کی اشیاء کو باہم جمع یا تفریق کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر ہمارے پاس پانچ کتابیں ہوں اور ان میں مزید پانچ کتابیں جمع کرنے سے ان کی تعداد دس ہو جاتی ہے لیکن اگر پانچ کتابوں میں پانچ کاپیاں ملائیں تو کتابوں کی تعداد پانچ ہی رہے گی دس نہیں ہو جائے گی۔ اسی طرح پانچ کتابوں سے دو کاپیاں نہیں نکالی جا سکتیں جبکہ دو کتابیں نکالنے سے ان کی باقی تعداد تین رہ جاتی ہے۔
(2) جمع یا تفریق کا عمل ہمیشہ اکائی(Unit) کی طرف سے ہی شروع کیا جاتا ہے اور انتہائی مقام پر ختم کیا جاتا ہے۔ (وضاحت آگے آئے گی)
(3) ہر یونٹ یا مقام کو اسی طرح کے یونٹ یا مقام میں جمع یا تفریق کیا جاتا ہے جیسے اکائیوں میں اکائیاں، دہائیوں میں دہائیاں سینکڑوں میں سینکڑے اور اسی طرح آگے۔

دوسرا سبق
۔
جمع اور تفریق میں حاصل (Gained) کا تصور:
اگر ہمارے پاس روپوں کی صورت میں رقم (Money) ہو اور ہمیں اس میں مزید رقم جمع کر کے اسے محفوظ رکھنا ہو تو ہم عموماً بڑے نوٹ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی صورت ہم بہتر سمجھیں گے کہ کوئی ہم سے چینج لے لے، تو چھوٹے نوٹوں کو چینج میں دے کر ایک بڑا نوٹ لے لینا جمع میں حاصل (Gained) کی مثال ہے۔ جبکہ چینج لینا یعنی ایک بڑے نوٹ کے بدلے میں چھوٹے نوٹ لے لینا تفریق میں حاصل (Gained) کی مثال ہے۔
مختلف عددی نظاموں کے لیے جمع اور تفریق کی مثالیں:
اعشاری اعداد کی جمع میں جب کوئی یونٹ دس گنا ہو جائے گا تو وہ ایک بڑے یونٹ میں تبدیل ہو کر اگلے یونٹ میں جمع ہو جاتا ہے اور تفریق میں جب بوقتِ ضرورت ایک یونٹ بطور حاصل لیا جائے تو اپنے سے چھوٹے دس یونٹ میں تبدیل ہو کر اپنے سے چھوٹے یونٹ میں ملتا ہے۔
مثال سے وضاحت:
فرض کریں آپ کے پاس 2579 روپے ہیں۔ ان میں ہزار والے 2 نوٹ، سو والے 5 نوٹ، دس والے 7 نوٹ اور ایک روپے والے 9 سکے ہیں۔ (اصول یہ ہے کہ آپ ان میں سے کوئی بھی نوٹ 9 سے زیادہ تعداد میں نہیں رکھ سکتے مطلب جیسے ہی کسی نوٹ کی تعداد 10 ہو جاتی ہے یعنی دس گنا تو اس کی جگہ اس سے بڑا نوٹ جو اس کا دس گنا ہوتا ہے لے لیا جاتا ہے) اب آپ کو مزید 4768 روپے دیے جاتے ہیں۔ ان میں ہزار والے 4 نوٹ، سو والے 7 نوٹ، دس والے 6 نوٹ جبکہ ایک روپے والے 8 سکے ہیں۔ اب یہ رقم آپ نے پہلے والی رقم میں جمع کرنی ہے تو جمع کے اصول کے مطابق پہلے اکائیاں جمع ہوں گی یعنی سکے۔ 9 سکوں میں 8 سکے ملانے سے سکوں کی تعداد 17 ہو گئی۔ ان سکوں میں سے دس سکوں کے بدلے ایک دس والا نوٹ لے لیتے ہیں تو ظاہر ہے یہ دس والا نوٹ دس والے نوٹوں میں ہی جمع ہو گا (یہی حاصل Gained ہے)۔ تو اب آپ کے پاس 7 سکے ہوگئے جبکہ حاصل ملا کر دس والے نوٹ جو پہلے ٹوٹل 13 تھے اب 14 ہو گئے۔ ان میں سے 4 رکھ کر باقی دس نوٹوں کے بدلے ایک سو والا نوٹ لے لیتے ہیں۔ (یہ بھی حاصل ہے)۔ اس طرح سو والے نوٹوں کی تعداد جو پہلے ٹوٹل 12 تھی اب 13 ہو گئی۔ ان میں 3 نوٹ رکھ کر باقی دس نوٹوں کے بدلے ایک ہزار والا نوٹ لے لیا جاتا ہے جو کہ پہلے ٹوٹل 6 ہزار میں مل جاتا ہے تو اس طرح 7 ہزار ہو جاتے ہیں۔ تو اب آپ کے پاس 7347 روپے ہو جاتے ہیں۔
اب فرض کریں آپ کو اس رقم میں سے 3789 روپے نکالنے ہیں۔ تو یہاں بھی پہلے اکائیوں سے اکائیاں نکالی جائیں گی۔ اب آپ کے پاس 7 سکے ہیں ان میں سے آپ نے 9 نکالنے ہیں جو کہ نہیں نکالے جا سکتے لہٰذا آپ کو ایک دس والے نوٹ کا چینج لینا ہو گا تو جب آپ ایک نوٹ کا چینج لیتے ہیں تو آپ کو دس سکے ملتے ہیں تو کل سکے 17 ہو جاتے ہیں جس میں سے آپ 9 دے دیتے ہیں تو آپ کے پاس 8 سکے بچتے ہیں۔ اب دس والے نوٹ آپ کے پاس 3 رہ گئے ہیں جو پہلے 4 تھے کیونکہ آپ نے ایک نوٹ کا چینج لے لیا ہوا ہے۔ آپ کو 8 دس والے نوٹ دینے ہیں لہٰذا آپ کو پھر چینج کی ضرورت ہے۔ اس بار آپ سو والے ایک نوٹ کا چینج لیتے ہیں تو دس والے 10 نوٹ ملتے ہیں جس سے دس والے نوٹوں کی تعداد 13 ہو جاتی ہے جس میں سے 8 دینے کے بعد 5 بچ جاتے ہیں۔ اگلی بار ہزار والے نوٹ کا چینج لے کر آپ کے پاس سو والے 12 نوٹ بنتے ہیں جس میں سے 7 دے کر آپ کے پاس 5 بچتے ہیں۔ اور آخر میں چھ ہزار میں سے تین ہزار نکال کر 3 ہزار والے نوٹ بچتے ہیں۔ یاد کیجئے کہ آپ کے پاس کتنی رقم رہ گئی۔ جی ہاں 3558
نوٹوں کی مثال سے ہم نے اعشاری اعداد کی جمع، تفریق سیکھ لی۔ اس سے یہ بات پتہ چلی کہ ریاضی کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ یہ ہمارے روزمرہ مسائل کو آسان کرتی ہے لہٰذا اس سے ناراضی بےجا ہے۔
اب رہ گئیں باقی نظاموں کی جمع، تفریق کی مثالیں۔ تو آج آپ سے سوال کیا جاتا ہے۔ جب آپ اساس 2 کے نظام میں جعع کر رہے ہوں تو کتنے یونٹس کا ایک نیا اور بڑا یونٹ بنتا ہے؟ اور تفریق میں ایک یونٹ کا چینج لینے سے کتنے چھوٹے یونٹ حاصل ہوتے ہیں؟ اسی طرح اساس 5 اور اساس 8 کے نظاموں کے بارے میں بھی یہی سوال ہے۔ آپ کے جوابات کا انتظار رہے گا۔

تیسرا سبق
۔
اس قسط میں سب سے پہلے پچھلی قسط کے آخر میں دیے گئے ایک سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ اساس دو کے نظام میں جب کو یونٹ دو گنا ہو جائے تو اس سے بڑا یونٹ بنتا ہے، اساس پانچ کے نظام میں ہر یونٹ پانچ گنا ہو کر نیا یونٹ بنتا ہے اور اساس آٹھ کے نظام میں ہر یونٹ آٹھ گنا ہو کر نیا یونٹ بنتا ہے۔ اسی طرح تفریق کرتے ہوئے اساس دو کے نظام میں اگر حاصل لیا جائے تو ایک حاصل لینے سے دو یونٹ ملتے ہیں، اساس پانچ کے نظام میں ایک حاصل سے پانچ یونٹ ملتے ہیں جبکہ اساس آٹھ کے نظام میں ایک حاصل سے آٹھ یونٹس ملتے ہیں۔
ضرب (Multiplication):
” بار بار جمع کرنے کا مختصر عمل ضرب کہلاتا ہے۔ ”
ضرب کے لیے علامت (x) استعمال ہوتی ہے۔ اس علامت کو اردو میں ضرب جبکہ انگلش میں ٹائمز (Times) پڑھتے ہیں۔
ضرب کے اصول (Rules for Multiplication):
(1) ضرب کے لیے ایک جیسے یونٹس کا ہونا ضروری نہیں
وضاحت: اشیاء کا ہم جنس ہونا ضروری نہیں۔ مثلآً اگر پانچ طالب علم ہوں اور ہر طالب علم کے پاس دس کتابیں ہوں تو ہم کتابوں کی کل تعداد معلوم کرنے کے لیے طلباء کی تعداد 5 اور کتابوں کی تعداد 10 کو آپس میں ضرب دے سکتے ہیں حالانکہ طلباء اور کتابیں ہم جنس نہیں ہیں۔ طلباء کی تعداد 5 ہے اور ہر طالب علم کے پاس کتابوں کی ایک جتنی تعداد یعنی 10 ہے تو کل کتابیں معلوم کرنے کے لیے 10 کتابوں کو پانچ بار دہرانا پڑے گا۔ تو دس پانچ بار (10×5) پچاس ہوتا ہے لہٰذا کتابوں کی کل تعداد 50 ہے۔ اب اگر اس عمل کو یوں کیا جائے کہ 10 کو 5 بار جمع کیا جائے تو بھی تعداد 50 ہی نکلتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرب دراصل جمع کے مختصر عمل کا نام ہے۔(غور کریں کہ یہاں طلباء کی تعداد کو محض کتابوں کی تعداد دہرانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے یعنی کتابوں میں کتابیں ہیں جمع ہو رہی ہیں لہٰذا یہاں دوسری جنس کا حوالہ ہی استعمال ہوا ہے اس لیے ضرب میں جنس کے مختلف ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا)
(2) ضرب کا عمل بھی اکائیوں کی طرف سے شروع کیا جاتا ہے اور انتہائی مقام پر ختم کیا جاتا ہے۔
وضاحت: اس مقصد کے لیے جس عدد کو ضرب دینا ہوتی ہے اسے عموماً اوپر لکھا جاتا ہے اور جس عدد سے ضرب دینا ہوتی ہے اسے نیچے لکھا جاتا ہے۔ نیچے والے عدد کی اکائی سے اوپر والے عدد کے تمام یونٹس یا مقاموں کو اکائی کی طرف سے شروع کر کے باری باری ضرب دی جاتی ہے۔ پھر نیچے والے عدد کی دہائی سے اسی طرح اوپر والے عدد کے تمام یونٹس کو اکائیوں کی طرف سے شروع کر کے باری باری ضرب دی جاتی ہے۔ پھر اسی طرح اگر نیچے والے عدد میں مزید یونٹس ہوں تو ان کے ساتھ بھی باری باری اوپر والے یونٹس کو ضرب دی جاتی ہے اور آخر میں حل کی تمام لائنوں کو جمع کر لیا جاتا ہے۔ (جب دہائی سے ضرب دی جائے تو اس حل کی لائن میں اکائی کے مقام پر صفر لگا کر دہائی کے مقام سے لکھنا شروع کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سینکڑے سے ضرب دینے پر اس حل کی لائن میں اکائی اور دہائی دونوں مقاموں پر صفر لگا کر سینکڑے والے مقام سے لکھنا شروع کیا جاتا ہے)۔
مثال:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7 5 0 3 4
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 2 x
حل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 8 2 5 1 2
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 4 1 1 6 8
جواب ۔ ۔ ۔ ۔ 5 2 4 6 7 0 1
وضاحت: یہاں 43057 کو 25 سے ضرب دی گئی ہے۔ سب سے پہلے اکائی کی طرف سے یعنی 5 سے ضرب دینا شروع کیا اور سب سے پہلے اوپر والے عدد کی اکائی 7 کو ضرب دی۔ لہٰذا یہ عمل اکائیوں کی طرف سے شروع ہوا۔ پھر اوپر والے عدد کی دہائی 5 کو، پھر 0 کو پھر 3 کو اور پھر 4 کو ضرب دی۔ اس طرح اوپر والے عدد کے تمام یونٹس یا مقاموں کو نیچے والے عدد کی اکائی 5 سے ضرب دی۔ پھر دوبارہ نیچے والے عدد کی دہائی 2 سے اوپر والے عدد کے تمام یونٹس کو باری باری ضرب دی۔ نوٹ کریں کہ حل کی نیچے والی دوسری لائن کی اکائی میں 0 لگایا گیا ہے۔ یہاں 0 لگانے کی وجہ یہ ہے کہ اب کی بار ضرب اکائی 5 سے نہیں دی جا رہی بلکہ دہائی 2 سے دی جا رہی ہے لہٰذا اکائی کے مقام پر 0 لگایا گیا ہے۔ آخر میں حل شدہ دونوں اعداد کو جمع کر کے جواب دیا گیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بالآخر ہم نے تمام یونٹس کو جمع کیا ہے یعنی ضرب دراصل جمع کا مختصر عمل ہے۔
نوٹ: باقی نظاموں میں ضرب کے عمل کی وضاحت آئندہ اقساط میں آئے گی۔
ایک پوسٹ میں جتنی وضاحت کسی موضوع پر ہو سکتی ہے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم یہاں بہت ساری مجبوریاں درپیش ہوتی ہیں۔ مثلا پوسٹ اتنی لمبی نہ ہو جائے کہ اس کو پڑھنا بوریت کا سبب بنے۔ مزید یہاں کو ٹاپک پر اس قدر وضاحت بعض اوقات نہیں ہو سکتی جتنی کہ ضرورت ہو۔ اس لیے اگر کہیں سے بات پوری طرح سمجھ نہ آئے تو سوال کریں۔ اس طرح آئندہ کے لیے ان اسباق میں بھی بہتری آتی جائے گی اور پوسٹ کو زیادہ لمبا ہونے سے بھی بچایا جا سکے گا۔ سوال کرنے میں بالکل کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کریں۔ کسی سوال کا جواب دینے میں مصروفیت یا کسی مجبوری کے باعث تاخیر ہو سکتی ہے لیکن جواب ضرور دیا جائے گا۔
تحریر: انعام الحق

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں