60

روٹی کے لئے ۔ چنچا جزائر – وہارا امباکر

انیسویں صدی میں جب دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی تھی تو اس بڑھتی آبادی کی خوراک کا بندوبست کیسے ہو؟ یہ عالمی سیاست کا ایک مرکزی سوال تھا۔ ایسے علاقے جہاں پر لاکھوں برسوں سے پرندوں کا فضلہ (گوانو) جما ہوا ہو، یہ بندوبست ان کے ذریعے ہوا۔ ان کو ڈھونڈنے اور اس فضلے کو حاصل کرنے کی دوڑ انیسویں صدی میں رہی۔

جنوبی امریکہ کے ساحل کے مغرب میں چنچا کے جزائر دنیا کی خشک ترین جگہ ہے۔ زمین کے موسمیاتی سسٹم کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ یہاں پر بارش کا نام و نشان نہیں اور برسوں تک آسمان سے پانی نہیں برستا۔ ہوا میں نمی کی کمی سے دنیا کا سب سے بہترین گوانو یہاں پر موجود تھا۔ بارش غذائیت کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ خشک موسم میں غذائیت سے بھرا گوانو نہ صرف لوگوں کو خوراک مہیا کرنے کا سبب بنا بلکہ کام کرنے کے لئے بدترین حالات کا بھی۔ تاریخ میں شاید اس سے برے حالات میں مزدوری کی کوئی اور مثال نہیں۔ 1850 کی دہائی میں چنچا سے سالانہ کئی ملین ٹن گوانو ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا۔

یہاں پر رہنے کے لئے بہت برے حالات تھے۔ یہاں پر کام کون کرے؟ اس کے لئے چین، پولیشیا اور نیوگنی سے لوگوں کو اغوا کر کے لایا جاتا رہا۔ اس جگہ پر چند روز کام کرنے کے بعد ہی یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا تھا کہ کام کرنے والا کس نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ گوانو کی اڑتی ہوئی سفید دھول سے لت پت انسان چینی ہو یا پولیشین، یہ بتایا نہیں جا سکتا تھا۔ بغیر نمی کی بالکل خشک اور گرم فضا میں کام کرنے والوں کے ہونٹ، زبان اور ناک پھٹ جاتیے تھے۔ آنکھ کے آنسو تک خشک ہو جاتے تھے جو ان کام کرنے والوں کی آنکھوں سے امونیا کے بخارات سے بچنے میں مدد کر سکیں۔ ان لوگوں سے دن کے بیس گھنٹے مشقت لی جاتی تھی جس میں یہ پرندوں کے جمے ہوئے فضلے کو کدالوں اور بیلچوں کے ذریعے توڑتے تھے۔ جب ان کے ہاتھوں کی جلد پھٹ جانے کی وجہ سے ان کو بیلچہ چلانے میں مشکل ہوتی تھی اور ان کی رفتار کم ہوتی تھی تو انکو ہاتھ ریڑھی پر لگا دیا جاتا تھا۔ ہاتھ ریڑھی ان کے بازووٗں سے باندھ دی جاتی تھی اور یہ اس فضلے کو چٹانوں کے کنارے تک لے کر جایا کرتے جہاں سے ان کو بحری جہازوں میں لادا جاتا جو سینکڑوں فٹ نیچے انتظار میں ہوتے تھے۔

ایک مزدور یہاں پر صرف چند ماہ ہی برداشت کر سکتا تھا۔ مزدوروں کے لئے خودکشی کا سب سے عام طریقہ اپنے آپ کو فضلہ نیچے لے جانے والی نالیوں میں اپنے آپ کو گرا لینا ہوا کرتا۔ اگلے روز کی زندگی کے مقابلے میں اس طرح موت کر ترجیح دینا کام لینے والوں کے لئے اچھا نہیں تھا۔ ان کو نئے کام کرنے والے کا انتظام کرنا پڑتا۔

نئے مزدوروں کی آمد جاری رہتی۔ ان جزیروں سے باہر دنیا کو روٹی کی ضرورت تھی۔ کچھ بھی “بس ایسے ہی” نہیں مل جاتا۔

یہاں کی مقامی آبادی تو جلد ختم ہو گئی تھی۔ ان جزیروں پر قبضے کے لئے سپین، پیرو، چلی، ایکواڈور اور بولیویا کی جنگیں چلتی رہیں۔ ان جزیروں کی اہمیت ختم ہو جانے کے بعد امن معاہدہ ہوا اور یہ پیرو کے حصے میں آئے۔

انسانی تاریخ کا یہ باب ختم کیسے ہوا؟ اس کے لئے یہاں سے
https://waharaposts.blogspot.com/2018/09/blog-post_449.html

ان جزائر پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Chincha_Islands

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں