77

دُور کی دنیا ۔ ایسٹر آئی لینڈ (1)

رانو راراکو۔۔۔ جیسا تاثر یہ جگہ چھوڑتی ہے، اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسٹر آئی لینڈ کی وہ کان جہاں پتھر کے عظیم مجسمے تراشے جاتے تھے۔ ایسٹر آئی لینڈ دنیا کی تنہا ترین جگہ ہے۔ قریب ترین جزیرہ دو ہزار کلومیٹر دور جبکہ نزدیکی زمین ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ چلی سے یہاں پر پرواز پانچ گھنٹے سے زیادہ لیتی ہے اور اس دوران سوائے سمندر کے، نیچے کچھ بھی اور نہیں دکھائی دیتا۔ بغیر بڑے بادبانی جہازوں کے لوگ یہاں پہنچے اور اسے آباد کیا۔ قدیم دنیا میں پولینیشین سمندری مہم جووٗں کا کوئی ثانی نہیں رہا۔
رانو راراکو چھ سو میٹر قطر کا ایک آتش فشانی گڑھا ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے بلندی پر چڑھنا پڑتا ہے اور پھر ایک ڈھلوان جو ہمیں گڑھے میں لے کر جاتی ہے۔ اس کے آس پاس آج کوئی نہیں رہتا۔ اس کی اندرونی اور بیرونی دیواروں کے پاس 397 مجسمے پڑے ہیں جو انسانی جسم کی شکل میں ہیں۔ زیادہ تر پندرہ سے بیس فٹ اونچے جبکہ ان میں سے سب سے بڑا ستر فٹ اونچا ہے (جو کسی پانچ منزلہ عمارت کی بلندی سے زائد ہے)۔ 10 ٹن سے لے کر 270 ٹن وزنی۔ یہاں پر شناخت کی جا سکتی ہے کہ ان کو باہر کونسی جگہ سے لے کر جایا جاتا تھا۔ پرانے راستے کے آثار باقی ہیں، جہاں اونچائی کم ہے اور اس سے تین راہیں مزید نکلتی ہیں۔ شمال، جنوب اور مغرب کی طرف جانے والی پچیس فٹ چوڑے راستے، جو یہاں سے نو میل دور سمندر کنارے تک پہنچتے ہیں۔ ان راستوں پر 97 مزید مجسمے پڑے ہیں جیسے کوئی ان کو لے جاتے وقت یہاں پر آدھے راستے پر چھوڑ گیا ہو۔ سمندر کے ساتھ اور جزیرے پر پتھر کے 300 پلیٹ فارم ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی پر 393 مجسمے ہیں۔ کچھ دہائیوں پہلے تک زیادہ تر اوندھے منہ گرے پڑے تھے۔ جیسے کسی نے جان بوجھ کر ان کو توڑنے کی کوشش کی ہو۔
یہاں سے قریب سب سے بڑا پلیٹ فارم آہو ٹونگاریکی ہے جس پر سے گرائے جانے والے پندرہ مجسموں کو ایک کرین کے ذریعے 1994 میں واپس کھڑا کیا گیا تھا۔ 55 ٹن وزن اٹھانے والی اس جدید مشینری کے لئے بھی یہ آسان کام نہیں رہا۔ کیونکہ اس میں سے سب سے بھاری مجسمہ 88 ٹن کا تھا۔ ایسٹر آئی لینڈ کی قدیم پولینیشن آبادی کے پاس کوئی کرین نہیں تھی، پہیے نہیں تھے، مشینری نہیں تھی، باربرداری والے کوئی بھی جانور نہیں تھے، دھات کے اوزار نہیں تھے۔ان کو بنانے کا، ان کو لے جانا کا اور ان کو جگہ پر کھڑا کرنے کا تمام کام انسانی زورِ بازو نے کیا تھا۔
اس کان میں پائے جانے والے مجسمے مختلف سٹیج پر تھے۔ کوئی ابھی تراشے جانا شروع ہوئے تھے۔ کسی کے ہاتھ اور کان بنانا باقی تھی۔ کچھ بنائے جا چکے تھے اور لے جائے جانے کے منتظر تھے۔ یہاں پر آ کر ایسا تاثر ملتا ہے جیسے کسی فیکٹری میں تمام کام کرنے والے اچانک کام چھوڑ گئے ہوں، اپنے اوزار پھینک کر کام ترک کر دیا ہو۔ جو جہاں پڑا ہے، ویسا ہی چھوڑ گئے۔ یہاں پر پتھر سے بنے ہتھوڑے، کلہاڑے، ڈرل اور تراشنے کے اوزار بھی بکھرے پڑے ہیں۔ جہاں پر یہ ہنرمند کام کرتے تھے، وہاں پر نکلے پتھروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہاں پر پانی کے مشکیزے لٹکائے جاتے ہوں۔ کچھ مجسموں میں ایسے آثار نظر آتے ہیں جیسا کہ ان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا ہو۔ جیسے حریف گروپ ایک دوسرے کام میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہوں۔ ایک مجسمے کے نیچے انسانی انگلی کی ہڈی ملی۔ شاید اس کو ٹرانسپورٹ کرنے والے عملے کی لاپرواہی کا نتیجہ ہو۔ کس نے یہ مجسمے بنائے؟ اتنی محنت کی؟ ان کو کیسے ٹرانسپورٹ کیا گیا؟ اتنے بڑے مجمسموں کو جگہ پر رکھا گیا؟ اور پھر ان کو گرا کیوں دیا گیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈچ مہم جو جیکب روگیوین تین بڑے بحری جہاز لے کر نکلے۔ سترہ روز کے سفر کے بعد 5 اپریل 1722 کو انہیں یہ جزیرہ نظر آیا۔ روگیوین اور ساتھیوں کے لئے یہ اچنبھے کی بات تھی کہ یہاں کے باسیوں کے پاس صرف دس فٹ لمبی کشتیاں تھیں جن میں ایک سے دو افراد بیٹھتے تھے۔ یہ اچھے معیار کی نہیں تھیں۔ ان میں لمبا سفر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آسانی سے الٹ سکتی تھیں۔ یہ لوگ، اپنی فصلیں اور مرغیاں، اور اپنے ساتھ پینے کا پانی رکھ کر ڈھائی ہفتے کا سفر کر کے یہاں کیسے پہنچے ہوں گے؟ اور یہ مجسمے؟ روگیون نے لکھا “یہ پتھر کے مجسمے دیکھ کر ہم ہکا بکا رہ گئے۔ یہ لوگ جن کے پاس مضبوط رسیاں نہیں، مشینری نہیں، تیس فٹ اونچے مجسمے کیسے بنا سکتے ہیں؟” مضبوط رسیاں بنانے کے لئے بڑے تناور درخت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسٹر آئی لینڈ میں دس فٹ سے کوئی ایک درخت یا جھاڑی بھی نہیں تھی۔ “یہ دور سے دیکھنے میں ہمیں ایک بنجر جزیرہ نظر آیا تھا”۔ وہ اونچے تناور درخت کہاں گئے تھے جو کبھی یہاں پر ہوا کرتے تھے؟
مجسمہ سازی، ٹرانسپورٹ، اور ان کو جگہ پر لے جا کر کھڑا کرنے کے لئے پیچیدہ معاشرے اور گنجان آبادی کی ضرورت جو اس سب محنت کو سپورٹ کر سکے۔ جب اٹھارہوں اور انیسویں صدی میں یورپی یہاں آئے، تو مقامی لوگوں کی تعداد فقط چند ہزار تھی۔ یہاں کی بڑی آبادی کو کیا ہوا تھا؟ اس سب محنت کے لئے بہت سے سپیشلائزڈ ہنرمند اور مزدور درکار تھے۔ ان کو کھلانے کے لئے آبادی درکار تھی۔ روگیوین نے یہاں پر کیڑوں کے علاوہ کوئی بھی جانور نہیں دیکھا اور پالتو جانوروں میں صرف مرغی تھی۔
جزیرے کا مشرقی حصہ پتھروں کو تراشنے کے لئے بہترین تھا۔ شمال مغرب مچھلیاں پکڑنے کے لئے جبکہ جنوب کھیتی باڑی کے لئے۔ اس سب کو یکجا کرنے کے لئے جزیرے کی اکانومی کا ہونا ضروری تھا۔ یہ بنجر جزیرے پر نہیں ہو سکتا تھا اور یہ سب پھر کہاں گیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہ اسرار ہیں جن پر صدیوں سے کتابیں لکھی جاتی رہیں۔ وہ لوگ جو نسلی برتری کے احساس میں تھے، وہ پولینیشن آبادی کو کریڈٹ دینے میں ہچکچاتے تھے۔ ناروے سے تھور ہیئرڈاہل کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی جنوبی امریکہ والے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، جنہوں نے یورپ اور ایشیا سے رابطے کے بعد اس کو حاصل کیا تھا۔ اس کا تعلق اہرامِ مصر سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ انکا تہذیب کے پتھروں کی تعمیرات سے کی گئی۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے چلی سے چھوٹی کشتیوں پر سفر کون ٹکی مہم کہلائی۔ سوئٹرزلینڈ کے ایرک وہن ڈانیکن نے دعویٰ کیا کہ یہ خلائی مخلوق کا کام ہے جس کے پاس الٹراماڈرن ٹول تھے۔ وہ اس جزیرے پر آ کر پھنس گئے تھے۔ اپنے واپس جانے سے پہلے انہوں نے یہ کام کیا۔
ان مفروضاتی قصوں کہانیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں پر اوزار تک بکھرے ہوئے تھے اور یہاں پر تو رہنے والے لوگ بھی اسے جانتے تھے۔ یہ خلا یا جنوبی امریکہ سے آنے والے نہیں، پولیشین تھے۔ لیکن یہ اصل تاریخ اتنی ہی رومانٹک اور دلچسپ ہے جتنی کسی اڑن طشتری کی دیومالائی داستان۔
ایسٹر آئی لینڈ کی کہانی صرف دور کی دنیا کی نہیں، آج کی دنیا کی بھی کہانی ہے۔ انسان اور زمین کے رشتے کی، تہذیبوں کے بننے کی اور گر جانے کی، انسانی ہمت، طاقت اور کمزوری کی کہانی ہے۔

ایسٹر آئی لینڈ کی تاریخ، انسان کی داستان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں