41

خوش رہنا ہے تو مٹھائی چھوڑدیں – سلیمان جاوید

ہمارے ہاں خوشی کے موقع پر کچھ ہو نہ ہو مٹھائی ضرور ہوتی ہے لیکن سائنس دانوں نے بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ ہمیں مٹھائی سے نفرت دلا کر رہیں گے۔کبھی کہا جاتا ہے کہ میٹھے سے ذیابیطس ہوتی تو کبھی موٹاپے کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں تازہ کام یہ ہوا ہے کہ سائنس دانوں نے اداسی اور میٹھے میں تعلق دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میٹھے اور ذہنی عدم توازن میں تعلق کے متعلق پہلے بھی معلوم کرنے کی کوششیں کی جاچکی ہیں۔2002 میں امریکی ادارے بیلر کالج کے محقیقین نے تعلق معلوم کرنے کا دعویٰ کیا۔2011 میں سپین میں ہونے والے ایک مطالعے میں صارفین کے دو گروہ بنائے گئے۔جس گروہ کے ارکان زیادہ میٹھا استعمال کرتے اس میں ذہنی مسائل 38 فیصد زیادہ پائے گئے۔اسی طرح 2014 اور 2015 میں ہونے والے مطالعے بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
سائنس دانوں نے میٹھے سے مراد فیکٹری میں تیار شدہ میٹھا ہے جس میں سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، کیک وغیرہ ہیں۔بعض دیگر اشیا میں بھی میٹھا موجود ہوتا جیسا کہ کیچپ یا مختلف اقسام کی چٹنیاں۔ پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے میٹھے کو سائنس دانوں نے قدرتی مٹھاس کا نام دیا ہے اسے غیر نقصان دہ قرار دیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد قریب سولہ فیصد ہے۔
مذکورہ بالا تحقیق یہ تو بتاتی ہے کہ میٹھے اور ذہنی امراض جیسا کہ پریشانی، اداسی اور بے چینی میں تعلق ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کہ ایسا کیوں ہے۔اس سلسلے میں ہمیں کچھ تحقیقات کو دیکھنا پڑے گا۔
چوہوں پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق چکنائی اور میٹھے کی زیادہ مقدار جسم میں BDNF نامی پروٹین کی پیداوار کو کم کرتے ہیں جس کی وجہ سے بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔بعض محقیقین کا خیال ہے کہ سوجن (inflammation) بھی اس کی وجہ ہے۔سوجن دراصل ایک حفاظتی تدبیر ہے جو عام طور پر الرجی میں جسم از خود اختیار کرتا ہےاس میں مذکورہ مقام پھول جاتا ہے اور اس کی رنگت سرخ ہوجاتی ہے۔زیادہ میٹھے کی وجہ سے جسم سوج جاتا ہے اور دفاعی حالات میں آجاتا ہے۔ایک اور اندازہ یہ ہے کہ میٹھا ایک نشے کی طرح ہے۔جب جسم میں کسی نشہ آور شے کی کمی ہوتی ہے تو اداسی اور ذہنی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ایسا کچھ میٹھے کے ساتھ بھی ہے کہ جسم زیادہ میٹھے کا عادی ہوجاتا ہے۔
مذکورہ تحقیق کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں دعویٰ بھی موجود ہے کہ پہلے سے پریشان افراد میٹھے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔یہ تحقیق برطانوی سرکاری ملازمین پر کی گئی ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں