276

الوداع بی بی سی اردو ریڈیو سروس۔۔۔ ندیم رزاق کھوہارا

کچی اینٹوں سے بنی رسوئی جس کی دیواروں پر تازہ مٹی سے کئے گئے لیپ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی حال ہی میں تعمیر کی گئی ہیں۔ لیکن چھت پر نظر پڑتے ہی یہ خیال خام ثابت ہوتا ہے جس کے سرکنڈوں اور لکڑی کے شہتیروں پر سالہاسال سے جمی دھوئیں کی سیاہ دبیز تہہ رسوئی کے قدیم ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ کھانا پکنے کے بعد چولہے سے دیگچی ہٹا لی گئی ہے۔ اور اب اس میں سلگتی لکڑیوں کی حرارت اور ہلکی سی روشنی پوری رسوئی میں پھیل چکی ہے۔

میں اس وقت چولہے کے عین سامنے لکڑی کی بنی ایک پھٹی پر بیٹھا آگ تاپ رہا ہوں۔ میرے ہاتھوں میں پکڑا ریڈیو میڈیم ویو 1413 کلو ہرٹز فریکوئنسی پر سیٹ ہے۔ لیکن خاموش ہے۔۔۔ قریبی فریکوئنسی پر موجود اسٹیشن کی مدہم آوازیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ریڈیو آن ہے۔ لیکن اسٹیشن نہیں۔۔۔ دفعتاً ایک بڑے گھنٹہ گھر جیسی آوازوں کے بعد ایک ایسا میوزک بجتا ہے جیسے کوئی پیانو کیز کو ایک ایک کر اکھیڑ رہا ہو۔۔۔۔ اور پھر مانوس آواز گونجتی ہے۔۔ ” یہ بی بی سی اردو سروس ہے۔ پاکستان میں اس وقت رات کے آٹھ، بھارت میں ساڑھے آٹھ، بنگلہ دیش میں نو اور گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر کے تین بجے ہیں۔ سب سے پہلے آج کی خاص خاص خبریں رضا علی عابدی سے۔۔۔” یہ منظر آج سے بیس سال پہلے کی راتوں کا ہے جب دنیا نئے سال، نئی صدی، نئے ہزاریے میں داخل ہو رہی تھی۔ تب پی ٹی وی کا دور اپنے عروج پر تھا۔ لیکن ریڈیو کی اہمیت سے بھی کسی کو انکار نہ تھا۔

والد صاحب جب بھی کراچی سے آتے کوئی نہ کوئی نیا ریڈیو لے کر آتے۔ جس میں میری دلچسپی صرف فریکوئنسی والے بٹن کے کان کو مروڑتے رہنا تھی۔ لیکن ایک بار جب انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ رات آٹھ بجے سیربین لازمی سنتے ہیں۔ تو میں بھی دلچسپی سے سننے لگا تھا۔ یہ سوچ کر کہ عین اس وقت جب میں میڈیم ویو 1413 کے ساتھ جڑا ہوں گا۔۔۔ اسی وقت ہزار کلومیٹر دور والد صاحب بھی اسی چینل کو سن رہے ہوں گے۔ یوں برق مقناطیسی لہروں پر نادیدہ سا تعلق بن جائے گا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں بی بی سی کا گرویدہ ہوتا گیا۔ خاص طور شفیع نقی جامعی کے پروگرام کا شدت سے انتظار رہتا۔۔۔ کہ وہ اپنے بیان میں ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے تھے کہ سامع مسکرائے بنا نہ رہ سکتا۔ اس سے بڑھ کر ان کی شوخ، خوبصورت اور زوردار آواز۔۔۔ ایسی ہی خوبصورت اور بھی کئی آوازیں اس فریکوئنسی پر گونجا کرتیں۔ ان کی اردو زبان پر مہارت، تلفظ اور لب و لہجے پر گرفت کمال کی ہوتی۔ وقت گزرتا گیا۔۔۔ پہلے پہل چینل میں بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے حوالے اور بعد میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذکر ملنے لگا۔

پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہوتے ہی طویل عرصے کے لیے اس سماعت میں تعطل آیا۔ لیکن اس کے باوجود محبت کا یہ عالم تھا کہ گھر میں جب پہلی بار انٹرنیٹ لگوایا تو ڈیسک ٹاپ پر پہلی ویب سائٹ کا پتہ جو ٹائپ کیا وہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام تھا۔ جہاں سیربین کا آڈیو ورژن بھی دستیاب تھا۔ ڈش آئی تو سیٹیلائٹ پر بھی سنا لیکن وہ رومانس کہاں جو ریڈیو پر سننے میں تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب والد صاحب کو ریڈیو لا کر دیا۔ کہ آپ بی بی سی کے شوقین کے ہیں تو اس پر سنا کیجیے۔ لیکن تب تک چائنا ریڈیو انٹرنیشنل اردو سروس کی میڈیم ویو ٹرانسمشن اتنی ہیوی ہو چکی تھی کہ عجیب و غریب اردو لہجہ صاف ستھرے لہجے پر غالب آ چکا تھا۔ شاذو نادر ہی سیربین کی آواز صاف سنائی دیتی۔

ابھی پچھلے دنوں یہ خبر آئی کہ بی بی سی اپنی ریڈیو اردو سروس کو ختم کر رہا ہے۔ تو ایک ایک کر کے سب گزرے زمانے یاد آ گئے۔ وہ دسمبر کی سرد راتوں میں رسوئی میں بیٹھ کر سیربین سے شب نامہ اور پھر جہان نما تک سب پروگرام سننا۔ خیر بی بی سی سے کیا گلہ۔۔۔ وقت کے ساتھ ہم بھی ڈیجیٹل ہو گئے تو روایتی اسٹیشن برقرار رکھنے کا کیا فائدہ۔۔ سامع ہی نہ ہو تو مقرر کی کیا ضرورت۔۔۔؟ لیکن بس اتنی سی خواہش تھی کہ جہاں بی بی سی کے سینکڑوں دیگر پراجیکٹ بغیر منافعے کے کام کر رہے ہیں وہیں بی بی سی ریڈیو کو بھی جاری رکھا جاتا۔ شاید زندگی مہلت دے تو بڑھاپے میں ہم بھی ریڈیو پکڑ انگیٹھی پاس بیٹھ کر اپنی یادوں کو تازہ کر لیتے۔۔۔ لیکن یہ خواہش اب ادھوری ہی رہ گئی۔ کیونکہ آج اکتیس دسمبر 2019 کے بعد میڈیم ویو 1413 کلو ہرٹز پر کبھی یہ آواز نہ گونجے گی۔۔۔

“یہ بی بی سی اردو سروس ہے۔۔۔”

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں