12

جیولوجیکل ٹائم اسکیل (ڈاکٹر یونس خان)

جیولوجیکل ٹائم اسکیل

(ڈاکٹر یونس خان)

زمین کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال تخمین کی گئی ہے۔ جبکہ اس پر پہلے جاندار کا سراغ ساڑھے تین ارب سال پہلے ملتا ہے۔ یہ خوردبینی جاندار تھا۔ اس کے بعد سے آج تک زندگی مسلسل ارتقاء پذیر رہی اور پانی و خشکی میں بے شمار انواع تشکیل پاتی رہیں۔

زمین کے اس طویل ارتقائی دورانئے کو سائنسدانوں نے مختلف اکائیوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ اکائیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ایپک (epoch)

جیولوجیکل ٹائم اسکیل کا سب سے چھوٹا یونٹ ایپک کہلاتا ہے۔ اس کی مدت کو ملین سالوں میں ناپا جاتا ہے۔ مثلاً پلیسٹوسین ایپک تقریباً دو ملین سال پہلے شروع ہوا اور اس میں برفانی دور، اور پہلے انسانی فوسل کے سراغ ملتے ہیں۔

2۔ پیریڈز

کئی لگاتار ایپکس مل کر ایک طویل مدت بناتے ہیں، جسے پیریڈ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کواٹرنری پیریڈ

3۔ ایرا (Era)

ایک سے زائد متواتر پیریڈز مل کر جو طویل تر مدت بناتے ہیں اسے ایرا کہا جاتا ہے۔ یہ جیولوجیکل ٹائم اسکیل کا سب سے بڑا یونٹ ہے۔ پوری زمینی تاریخ میں کل چار ایرا ہیں۔

آئیے ان ایرا، ان کے پیریڈز اور ایپکس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ پری کیمبرین ایرا

یہ زمین کا سب سے اولین ایرا ہے۔ اس کی شروعات زمین کی پیدائش کے ساتھ ہی ہوئی اور یہ آج سے پچاس کروڑ سال پہلے کی مدت تک محیط ہے۔ یعنی یہ طویل ترین ایرا تقریباً چار ارب سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس ایرا میں سب سے قدیم اور سادہ پروکیریوٹک جاندار ہی پائے جاتے تھے اور ان میں سے بعض کے فوسلز بھی دریافت ہو چکے ہیں۔

2۔ پیلئیو ذوئیک ایرا

یہ ایرا پچپن کروڑ سال پہلے شروع ہوا اور اگلے پچیس کروڑ سال تک قائم رہا۔ کیمبرین دھماکہ اسی ایرا میں ہوا، جس میں لاکھوں اسپی شیئز وجود میں آ گئیں۔
اس ایرا میں ابتدائی نباتات کا ظہور ہوا اور خشکی پر پودوں اور آرتھروپوڈ حیوانات کی آبادیاں قائم ہوئیں۔

3۔ میزوذوئیک ایرا

یہ ایرا پچیس کروڑ سال قبل شروع ہو کر تقریباً ساڑھے اٹھارہ کروڑ سال تک قائم رہا۔
جراسک پیریڈ اس کا مشہور ترین دور ہے۔ اس میں ڈائنوسارز وجود میں آئے اور نباتات میں پھولدار پودوں کی آمد ہوئی۔

4۔ سینوذوئیک ایرا

یہ ایرا آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔
یہ ٹرشری اور کواٹنری پیریڈز پر مشتمل ہے۔ اسی میں پیلئوسین ایپک ہے جس کے دوران ممالیہ اور پرندے ظہور پذیر ہوئے۔ دوسرا اہم ترین ایپک پلیسٹوسین ہے جس میں انسان وجود میں آیا۔
ہومو سیپئین یا موجودہ انسان کی آمد صرف دو لاکھ سال پہلے ہوئی۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں