12

جنگجو چیونٹیاں سلمان رضا اصغر

🐜 🐜 🐜 جنگجو چیونٹیاں 🐜 🐜 🐜
………. 🐜 آرمی آنٹس Army Ants 🐜………..

صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ قدیم ادبی داستانوں کے پنے پنے پر چیونٹیاں بڑی شان سے رینگتی نظر آتی ہے. قدیم زمانے کے داستان تراش و قصہ گو چیونٹیوں کی زبردست محنت و معاشرت سے بے حد متاثر ہوتے رہے ہییں اور اپنے کئی قصوں میں چیونٹوں کو رینگتا ہوا چھوڑ گئے ہیں. اکثر فلسفی اذہان تو ان کی زبردست محنت اور طرز عمل سے کئی نصیحتیں ناصرف حاصل کر چکے ہیں بلکہ ان کی ان کہی باتیں تک سن کر بھی کافی متاثر ہوئے ہیں لیکن آج بھی اکثر فلسفیوں نے ان کا محنت کش طرز عمل اپنانے کے بجائے اسے بس اپنی سوچوں کو رنگین ہی بنانے کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے. قدیم انسانی تہذیبوں کے مطالعہ سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی چیونٹیوں کی معاشرت کی جھلکیاں اپنے معاشرے میں دیکھا کرتے تھے. چیونٹیوں کا غذا کو لاد کر اپنے بلوں تک لانا اور برے دنوں کے لئے ذخیرہ کرنے جیسے کام نے زراعت کے مراحل سے گزرتے انسانوں کو اسے اپنے جیسی زندگی گزارنے والا کیڑا سمجھا ہوگا اور ہو سکتا ہے اس بات نے اس ننھے محنتی کیڑے کو قدیم قصوں کہانیوں اور ذہنِ فلسفی میں اہم جگہ دلائی ہوگی.

🐜بہرحال فلسفےسے ذرا دور ہو کر جدید سائنسی تحقیقی دور میں اب اذہانِ سائنس و ماہرینِ حشرات اب اس جفاکش کیڑے کے بارے میں مسنتد اور زیادہ معلومات رکھتے ہیں. چیونٹیاں درحقیقت انسانوں سے زیادہ لمبے عرصے سے زمین پر مقیم ہیں اور سائنسی شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ چیونٹیوں کی ابتدا 140 سے 160 ملین سال پہلے ہوئی, جب ڈائنو سارز زمین پر ٹہلتے پھرتے تھے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ چیونٹیوں کی آبادی زمین کے ابتداٸی وقتوں میں بہت کم تھی جب پھول پودوں نے پورے طور زمین پر پنپنا بھی شروع نہیں کیا تھا لیکن جب انھیں زمین پر بڑھتے پودوں سے بھرپور خوراک کا ذریعہ فراہم ہوگیا اور یہ ان کی دسترس میں آگئے تو چیونٹیوں کی بہت سی نئی نسلیں وجود میں آگئیں ، جس نے ماحول میں بھی مختلف مثبت کردار ادا کیے۔ چیونٹیوں نےجنگلی درختوں میں اپنی آبادیاں منتقل کر لیں, ان میں سے کچھ نے جنگل کی زمین پر اپنی کالونیاں قائم کیں ، اور کچھ دوسری قسمیں درختوں سے گرنے والے پتوں میں رہنے لگیں اور یوں چیونٹیوں کی ان گنت مختلف نوع تیار ہوئی ہیں۔ آج تک چیونٹی کی کوئی بارہ ہزار سے زیادہ قسمیں دریافت کی جا چکی ہیں۔ تاہم ، کچھ محققینِ حشرات کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ ابھی تک چیونٹی کے 10 ہزار اقسام کو دریافت ہی نہیں کیا جا سکا ورنہ تو دنیا پر کسی بھی دوسری کسی بھی نسل سے کہیں زیادہ صرف چیونٹیاں ہی ہوسکتی ہے۔

🐜سائنسدان طویل عرصے سے چیونٹی و شہد کی مکھی کے پیچیدہ معاشروں سے بے حد متاثر ہوتے آئے ہیں۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کچھ قسم کی چیونٹیاں تو ایک دوسرے سے بے مثال تعاون کر کے زبردست عمارتوں کو تعمیر کر لیتی ہیں ، کچھ اپنے ساتھیوں کے لئے خوراک کے لئے تن تنہا ہی ایڈونچر کرتی نظر آتیں ہیں, کچھ چیونٹیاں فصلی کیڑوں کے ریوڑ تیار کر کے فنگس کی فارمنگ کا کام بھی جانتی ہیں اور کچھ سیلاب کی صورتحال میں عارضی طور پر ایک ساتھ جڑ کر پانی کے اوپر بنے رہنے اور دوسری جگہ منتقلی کے لئے ایک کشتی یا بحری بیڑے کی صورت بھی ڈھل بھی جاتی ہیں. تحقیق کرنے پر معلون چلا کہ ان بڑے بڑے کارناموں کے لئے انہیں آپس میں رابطہ و تال میل پیدا کرنے کے لئے ایک بےحد عمدہ اور مؤثر ذریعہ مواصلات کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لئے یہ اپنے جسم پر چڑھی کھال میں موجود ننھے ننھے سوارخوں cuticles سے فرمونز pheromones نامی کیمیائی مادوں کا اخراج کرتی ہیں جس کی بو سے وہ کیمیائی اشارے پیدا ہوتے ہیں جس کی مدد سے یہ اپنی بات ایک دوسرے کو پہنچانے کے قابل ہو پاتی ہیں. اس سے ہی انہیں دوست دشمن کی پہچان ہوتی اور اپنی آبادیوں میں نظم و ضبط قاٸم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

🐜چونٹیوں کی آبادیوں اور انسانی معاشروں میں کافی چیزیں مشترک ہی نظر آتی ہیں ان کی آبادیوں میں بھی مختلف کام مختلف حیثیت کی ہنر مند چیونٹیاں انجام دیتی ہیں۔ چونٹیاں کی ایک آبادی بھی انسانوں کی طرح ہی دوسری چیونٹیوں کی آبادی کے زرخیز علاقوں پر قبضے کے لٸے یا اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لئے بڑے پیمانے پرآپس میں جنگ کرتی ہیں اور آرمی آنٹس army ants چیونٹیوں کی وہ جنگجو اور وحشی لٹیری قسم ہے جو دوسری آبادیوں پر حملہ آور ہو کر اسے تخت و تاراج کرنے میں کافی بدنام ہے. ان جنگجو چونٹیوں کو اکثر ایک یونانی جنگی داستان کے Myrmidon خونخوار جنگجوؤں سے بھی جوڑا جاتا ہے جو دشمنوں پر چونٹیوں کی طرح ہی ہلہ بول کر اسے ختم کر ڈالتے تھے.

🐜🔱🐜 جنگجو آرمی آنٹس Army Ants 🐜🔱🐜

آرمی آنٹس army ants عام پھرنے والی بےضرر و کمزور چیونٹیاں نہیں بلکہ یہ تو خوں آشام تاتار صفت وحشی لٹیروں کے لشکروں کی صورت گھومتی ہیں اور یہ نام ان کو ان کے جارحانہ مزاج اور دشمنوں کا قتل عام کرنے اور خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارنے پر ملا ہے. اس کی کوئی اٹھارہ نسلیں ہیں. انہیں ڈرائیونگ آنٹس driving ants بھی کہا جاتا ہے. اور جب ان کے لشکر کسی علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو ٹڈی دل کی طرح ہی ہر سمت تباہی بربادی پھیر کر نکلتے ہیں راست میں ملتی ہر قابل شکم ہر شے کو چٹ کر جاتے ہیں. یوں تو بارہ ہزار سے زائد اقسام کی چیونٹیاں زمین پر راج کرتی ہیں لیکن صرف دوسو اقسام کی چیونٹیوں کو آرمی آنٹس کا مرتبہ حاصل ہوا ہے جو تقریباً ایک جیسا ہی وحشی پن اور طرز زندگی رکھتی ہیں اور یہ زمین کے صرف گرم و مرطوب علاقوں میں ہی رینگتی دکھائی دیتی ہیں. یہ عاموماً وسطی اور جنوبی امریکہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہیں لیکن افریقہ اور ایشیاء میں بھی ان کے کزنز دن دناتے پھرتے ہیں اور امریکی آرمی آنٹس کےمقابلے افریقہ و ایشیا کے ماحول میں پلے بڑے جنگجو کزنز خوراک ڈھونڈنے اور مویشیوں تک پر دھاوا بول کر انھیں ہڑ بڑا دینے میں تعامل نہیں کرتے.

🐜آرمی آنٹس مکمل طور پر نابینا ہوتی ہیں اور صرف روشنی کی شدت کو ہی محسوس کر پاتی ہیں. دیکھ نا سکنے کی کمی کو یہ اپنے کیمیائی مادوں فرمونز pheromones سے دور کر لیتی ہیں. فر مونز کیمیائی مادے ہی ان کے آپس میں رابطے کا ذریعے بھی ہے. جسے یہ اپنے سر سے جڑے اینٹینا سے چکھ و سونگھ لیتی ہیں. یہ کوئی دس سے بیس مختلف قسم کے pheromone خارج کرتی ہیں اور یہی ان کی آبادی میں مواصلات کا مؤثر نظام تشکیل دیتا ہے اور دوست دشمن کی پہچان کرواتا ہے. گو کہ کچھ بیٹل, بھڑیں beetles, wasps اور کن کجھورے millipedes بھی انہیں آرمی آنٹس کے فرمونز جیسی بو والے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جس کی مدد سے یہ تاتار صفت چونٹیوں کے ریڈار میں آنے سے بچتے اور آسانی سے ان سے گلو خلاصی کروا لیتے ہیں. آرمی آنٹس گوشت خور ہوتی ہیں چھوٹے شکار کے علاوہ یہ چھپکلی و مرغی, سور اور سانپ گائے تک پر حملہ آور ہونے میں کسی قسم کا جھجھک محسوس نہیں کرتیں اور کسی بھی علاقے میں ِگھس کر اس کےایکو سسٹم متاثر بھی کر ڈالتی ہیں۔ کسی علاقے میں ان کی بڑی بڑی کالونیاں دوسرے جانوروں جیسے پرندوں ، برنگ ، اور رینگنے والے جانوروں کے کھانے کے ذرائع کو کم کرسکتی ہیں۔آرمی چیونٹی خانہ بدوش ہیں اور زیادہ دیر تک ایک جگہ پر نہیں رہتیں۔ خانہ بدوش مرحلے کے دوران ، وہ رات کو مارچ کرتے ہیں اور دن کی روشنی میں آرام کرنے کے لئے رک جاتے ہیںباور زمین سے اوپر عارضی گھونسلے بناتی ہیں۔یہ اپنے گھونسلوں کے لئے پہاڑ صحرا درخت جنگلات و دلدلی علاقوں میں سے کسی کو بھی چن لیتیں ہیں.

🐜 عام چیونٹیوں کے آگے بڑھے جبڑوں (جو مینڈیبلز mandibles کہے جاتے ہیں) کی نسبت آرمی آنٹس زیادہ بڑے اور مضبوط جبڑوں mandibles سے لیس ہوتی ہیں اور یہ خونخوار جبڑے چبانے کے لئے نہیں بلکہ جنگ و جدل میں قتل عام کر کے دشمن کے دانت کھٹے کرنےاور اپنے شکار لاد لیجانے کے کام آتے ہیں اوران کا چھپا ہوا مہلک ہتھیار وہ خامرے یا اینزائم ہیں جو یہ ہاتھ آئے دشمن پر انڈیل کر اس کے جسم کے ٹشوز کو توڑ ڈالتے ہیں.

🐜آرمی آنٹس کالونی کا نظام
ان کی کالونیز یا آبادیاں تین ذات کی یا تین مختلف قسم کے معاشرتی کام انجام دینے والی چیونٹیوں کا مجموعہ ہوتی ہے. ایک تو قاتل و درندہ صفت جنگجو یا سولجر چونٹیاں ، دوسری عام کام انجام دینے والی ورکر یا کارکن چیونٹیاں اور جتھے کی سرادر ایک کوئن یا ملکہ چیونٹی.

سولجرآنٹس یا 🐜جنگجو چیونٹیاں
ایک گھونسلے میں جنگجوؤں کی تعداد نا صرف سب پر بھاری ہوتی ہے بلکہ جسامت بھی باقیوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے. قاتلوں کی مانند ان کے سر اور جبڑے زیادہ بڑے .
جبڑوں کا یہ عالم ہوتا ہے کہ خود سے کھانا کھانا بھی ممکن نہیں ہوتا اس کے لئے انہیں عام جسامت کی ورکر یا کارکن چیونٹیوں کا سہارہ لینا پڑتا ہے.

ورکر آنٹس یا 🐜 کارکن چیونٹیاں
ورکر یا مزدور قسم کی چیونٹیاں سائز میں چھوٹی ہوتی ہیں اوران کے سر و جبڑے یا مینڈیبلز چھوٹے ہوتے ہے ، لیکن یہ کسی طور بھی کم زور اور کم جارحانہ نہیں ہوتی ہیں , یہ ناصرف لڑائی میں اگلی مورچوں پر دشمنوں سے لڑنے بھڑنے اور شکار یا خوراک کو اپنی کالونی تک لاد لانے بلکہ ملکہ چیونٹی اور اس کے دیئے ہوئے انڈوں کی دیکھ بھال کرنے کا کام بھی تندہی سے انجام دیتیں ہیں. ان کا عرصہ حیات ایک سال پر محیط ہوتا ہے.

🐜🎓ملکہ چیونٹی
ملکہ بڑی اور بغیر پروں کے ہی ہوتی ہے ، اور کبھی بھی کالونی سے باہر نہیں نکلتی ہیں۔ملکہ چیونٹی ہی ساری آبادی کی نگاہ کا مرکز ہوتی ہے اور اس کا خیال رکھنا اور حفاظت کرنا ہر ایک کا فرض ہوتا ہے. یہی ہے جو ان کو اتحاد جیسی قوت عطا کرتا ہے اور اس کی بقا ہی سب چیزوں پر مقدم ہوتی ہے اس کے لئے جان نثار کر دینے میں بھی کوئی دریغ نہیں کرتا. ملکہ چیونٹی اور اس کے دم سے قاٸم کالونی دس سے بیس سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔
ملکہ کی جسامت و وزن سب چونٹیوں سے زیادہ ہوتا ہے, اس کا حد سے زیادہ بڑا پیٹ کا حصہ انڈوں سے بھر موزوں ترین ہوتا ہے یہی گروپ کے لئے واحد انڈے دینے والی خاتون چیونٹی ہے. یعنی ایک گروپ کی دو لاکھ سے دو ملین چیونٹیاں اس کی ہی اولاد ہوتی ہیں. لیکن خاص بات یہ کہ آرمی آنٹس کی پوری کالونی ہی بانجھ خواتین چیونٹیوں پر مشتمل ہوتی ہے. نر چیونٹیاں صرف حمل کے عمل کو پورا کرنے کے لئے جنم لیتی ہیں جنکو باقاعدہ پال پوس کر کے جوان کیا جاتا ہے آخر کار ان جوان نر چیونٹیاں کا ملکہ چیونٹی سے ملاپ کے اڑتالیس گھنٹے بعد خود ہی ان کا خاتمہ بل خیر ہوجاتا ہے. ملکہ چیونٹی متعدد نر چیونٹیوں کے ساتھ ملاپ کرکے ہر ماہ 4 ملین انڈے تیار کرسکتی ہے.

🐜🐜🐜 آرمی آنٹس کے وحشی جتھے 🐜🐜🐜

بیشتر اقسام کی چیونٹیاں تن تنہا شکار کرنے یا خوراک جمع کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ خود ہی حملہ کرتے ہیں اور ، جب کھانا مل جاتا ہے ، تو وہ ‘ڈنر بیل’ جیسا فیرومون جاری کرتے ہیں جس پر ان کی کالونی جوابی کاروائی کرتے ہوئے سرگرم ہوجاتی ہے . اسی سبب اگر آپ کہیں کھانا رکھیں اور ایک چیونٹی اس کو ڈھونڈ لے تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کے بہت سے ساتھی آن موجود ہوتے ہیں.لیکن آرمی آنٹس تو جب بھی آتی ہیں ایک جتھے کی صورت ہی نظر آتی ہیں.

🐜آرمی آنٹس کے شکاری گروپس جو چھاپہ مار جتھے swarm raids کہلاتے ہیں اور یہ سوارم ریڈز یا شکاری گروپس دو لاکھ سے دو ملین تک کی تعداد پر مشتمل ہو سکتے ہیں جو پندرہ سے ایک سو دس یارڈ تک کے علاقے میں پھیلے ہوسکتے ہیں .ان کی چھاپہ مار کاروائیوں میں بے ترتیبی یا یہ کہیں بھی اچانک نہیں ہوتیں – یہ چیونٹیاں بے حد منظم سائیکل رکھتی ہیں, سب سے پہلے گروہ کی مضبوطی کے لئے کالونی میں انڈوں کا خیال رکھا جاتا ہے نئے بچوں کی پرورش کی جاتی ہے اور ان کے جوان ہونے پر پھر کسی جگہ حملہ آور ہوا جاتا ہے. کسی جگہ پڑاو یا وہاں سے نقل مکانی کا فیصلہ ملکہ کے تولیدی ساٸیکل سے ہی بندھا رہتا ہے۔ جب یہ کافی کھانا جمع کرلیتی ہیں ، تو اپنے اسٹیشنری مرحلے کا آغاز کرتے ہیں اور عارضی گھونسلے بناتے ہیں۔یہ کسی جگہ دو سے چار ہفتوں تک اسٹیشنری رہتی ہیں ، اس دوران ملکہ ہر دن 30،000 انڈے دیتی ہے۔

🐜 آرمی آنٹس جب کسی دوسری آبادی پر حملہ یا دوسری قسم کی چونٹیوں جنگ کرتیں ہیں تو یہ تیغ تلوار و بم کے بجاٸے صرف اپنی جسمانی طاقت اور بھاری تعداد پر بھروسہ کرتیں ہیں جس سے دشمن چیونٹیوں کے دانت کھٹے کر کے اسے انگشت بدنداں رہ جانے پر مجبور کر دیتیں ہیں. یہ اپنے دشمن کے گرد گھیرا ڈال کر ایک ساتھ حملہ آور ہو کر اس کے جسم کے چیتھڑے اڑا دیتیں ہیں ان جنگجو چیونٹیوں میں کچھ تو خود کش بمبار کی طرح دشمنوں کے جتھے میں گھس کر اپنے جسم کو پھاڑ لینے والی چیونٹیاں بھی شامل ہوتی ہیں. کچھ دوسری ارمی آنٹس کی نوع کی چیونٹیوں میں جنگ میں زخمی ہوجانے والے ساتھیوں کو میدانِ جنگ سے لاد کر لیجانے والی بھی سرگرم رہتی ہیں. ان ہی آرمی آنٹس کی ایک قسم جو افریقہ کے صحرائے عظیم صحارا میں دربدر پھرتی ہیں جو دیمک کے بل پر اچانک پل پڑنے کے دوران ، اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے جنگِ دیمک میں زخمی ساتھی چیونٹیوں کو چن چن کر چلتی بنتی ہیں.

🐜📖آرمی آنٹس کو لیکر کافی لوگ سنسی بھی پھیلاتے ہیں کہ یہ کسی بھی چھوٹے بڑے جانور یا مویشیوں پر حملہ کر کے اسے منٹوں میں چٹ کر جاتی ہیں ان کی موجودگی بھانپتے ہی ان کے ڈر سے ہر جانور سرپٹ دوڑ لگا دیتا ہے .درحقیقت ان کی ایک قسم اکیٹون برچیلی Eciton burchellii گوشت خور نہیں ہوتی نا ہی سڑتے گوشت کے نزدیک جاتی ہیں. انسانی پیروں کی دھمک اور سانس کی گرمی تک اس کے جتھے کو رخ بدل لینے کے لئے کافی ہوتی ہے. امریکہ میں پائی جانے والی آرمی آنٹس کی دو اقسام لیبیڈس Labidus اور ڈوریلس Dorylus تو کچھ زیادہ ہی جارحانہ مزاج کی حامل ہوتی ہیں اور یہ مویشیوں پر حملہ آور ہوجاتی ہیں لیکن یہ ان کے لئے اونٹ کے منہ سے زیرہ نکال لینے کے مترادف ہی ہوتا ہے. ایک مرغی کو ہی مار کھانے میں ہی انہیں دن لگ جاتا ہے.

🐜⭕ آرمی آنٹس کی زندگی کا ایک انتہاٸی حیرت انگیز مظہر ان کا اجتماعی خودکشی کرنا بھی ہے جسے آنٹ مل Ant Milll کا نام دیا گیا ہےاس اجتماعی خودکشی میں شمولیت کے لٸے نیچے دٸیے گٸے لنک پر کلک کیجٸے۔

👣 سلمان رضا

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں